آوارہ گرد فوٹوگرافر

آوارہ گرد فوٹوگرافر
تحریر محمد اظہر حفیظ
میرے ماں باپ ،بہن بھائی، بیوی بچے، دوست، عزیز رشتےدار سب نے کوشش کی کہ میں وہ بن جاوں جو وہ چاھتے ھیں لیکن میں بن گیا ایک آوارہ گرد فوٹوگرافر۔
امی جی روکتی تھیں دھوپ میں باھر نہیں گھومتے اور میں بس ان کے سونے کا انتظار کرتا اور گاوں کی تیز دھوپ میں بلاوجہ باھر نکل جاتا سیم زدہ علاقوں کی دھوپ کی اپنی ایک خاص گرمی ھے جو وھاں جائے بغیر محسوس نہیں کی جا سکتی۔ مجھے آج بھی جب یاد آتی ھے تو شدید پیاس اور کھارا پانی یاد آجاتا ھے ۔ امی جی کے اٹھنےکا ایک خاص وقت تھا اس سے کچھ دیر پہلے میں واپس آکر انکے پاس سوجاتا جب وہ اٹھتیں میرے سر پر ھاتھ لگاتیں اور گرمی محسوس کرکے رونے والی ھوجاتی اظہر میں تمھارا کیاکروں کوئی بات بھی تو نہیں مانتے مجھے ڈر ھے میری پکڑ ضرور ھوگی جو یہ دکھ میں نے اپنی ماں جی کو دیئے۔ بیٹے کھالے کا پانی گدلا ھوتا ھے اس میں نہیں نہاتے جی امی جی اور اگلی دوپہر میرے جیسا نافرمان کھالے پر نہانے چلا جاتا اور حسب روایت امی جی کے اٹھنے سے پہلے آکر سوجاتا جب امی اٹھتی سر ٹھنڈا دیکھ کر خوش ھوتی شاباش میرا بیٹا میری بات مانی اور ساتھ ھی میری سرخ آنکھیں دیکھ کر پھر رونے والی ھوجاتیں میں تیرا کیا کروں اظہر جس بات سے روکو وھی کرتا ھے بس اب میرے سے بات مت کرنا تو مجھے بہت تنگ کرتا ھے صبح وقت پر اٹھتا نہیں ھے سونے کے وقت باھر پھرتا رھتا ھے پھر نیند کیسے پوری ھو تیری وجہ سے میری نوکری چھوٹ جائے گی میں بھی ساتھ رونے لگ جاتا امی جی آج معاف کر دیئو اور وہ بھی ھمیشہ مجھے معاف کر دیتیں۔ کبھی باداموں کی سردائی بنا کر دیتیں کبھی چوری بنا کر دیتیں پر میرے جیسے آوارہ گرد پر کبھی اثر نہ ھوا نہ سردائی سے عقل آئی اور نہ دیسی گھی کی چوری سے مٹھاس آئی مجھے آج بھی جس چیز سے روکا جائے اسی کو دل کرتا ھے آوارہ گردی اور فوٹوگرافی شاید میرے کردار کا حصہ بن چکی ھے میں جگہ جگہ پھرتا ھوں تصویریں بناتا اور مست رھتا ھوں ھر ایک کو اپنے جیسا سمجھتا ھوں اور پھر روتا ھوں اپنے آپ سے وعدہ کرتا ھوں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا لیکن پھر وھی آوارہ گردی وھی فوٹوگرافی اور میری امی جی سے وعدہ شکنی۔
امی جی مجھے معاف کر دیجیئے گا آج پھر کوئٹہ میں رات کے پچھلے پہر لیٹا سوچ رھا ھوں آج پھر وعدہ کروں اپنے آپ سے اور کل پھر بھول جاوں۔ 
مجھے آوارہ گرد ھونا اچھا لگتا ھے اور فوٹوگرافر ھونا تو کیا بتاوں بس زندگی گزر رھی ھے بلکہ گزار دی ھے۔ اور مزید گزارنے کی تمنا نہیں ھے بس بسر کرناچاھتا ھوں انشاءاللہ کرجاوں گا۔ اس دفعہ سوچا ھے جس جس سے جو وعدہ کیا ھے پورا کروں گا۔ اور امی جی کو بھی بتاوں گا اب تیز دھوپ میں میں ننگے سر نہیں پھرتا تصویریں یا صبح صبح بنتی ھیں یا شام کو اور یوں دوپہر کو نکلنا بند ھوگیا۔ ویسے اب ٹوپی اور چھتری کا استعمال بھی کرتا ھوں کل میری بیوی کہنے لگی عائشہ ھماری بیٹی شاید اپنے تایا پر گئی ھے جب ضد پر آجائے پھر نہیں مانتی میں من ھی من میں مسکرایا نہیں مجھ پر گئی ھے تایا تو ایک بیبا انسان اور بیٹا ھے دین و دنیا کی ھر ذمہ داری فرض سمجھ کر اداکرتا ھے اور میں ٹھہرا قضا کرنے والا۔ میرے سے زندگی میں بہت سی کوتاہیاں ھوئیں اتنی زیادہ کہ یاد بھی نہیں تو کس کس کی معافی کس کس سے مانگوں کچھ تو اب ساتھ بھی نہیں میرے امی ابو اور کچھ دوست لیکن جو زندہ ھیں ان سب سے درخواست ھے میرے سے جانے انجانے میں جو بھی کوتاھی ھوئی مجھے معاف کر دیں اور اگر اسکی کوئی سزا ھے ھرجانہ ھے تو میں اس کیلئے بھی تیار ھوں ۔
میں نے کبھی جان بوجھ کر کسی کی دل آزاری نہیں کی اگر کوئی ایسا سمجھتا ھے تو بھی معافی کا طالب ھوں میں کوشش کروں گا کچھ اچھا کرجاوں سب کیلئے۔ میں سب کی سنتا ھوں پر میری اب کوئی نہیں سنتا اور اب مجھے سننا اچھا لگتا ھے میں علم حاصل کرنا چاھتا ھوں میرے پاس کچھ نہیں ھے بس ایک خالی برتن ھوں جب ٹھوکر لگتی ھے بہت آواز آتی ھے۔
ھمارا گھرانہ گاوں کا ایک معزز اور بہتر گھرانہ تھا ھم تقسیم کرنے والے تھے الحمدللہ لینے والے نہیں تھے ایک دن میں گلی میں کھڑا تھا ھماری ایک عزیز باجی چاول تقسیم کر رھی تھیں بچے اپنی جھولیوں چاول لے رھے تھے میں دیکھنے والوں میں کھڑا باقی جھولی پھیلائے کھڑے تھے باجی نے پوچھا اظہر چاول لینے ھیں میں نے کہا نہیں باجی اور باجی نے میری قمیض کی سامنے والی جیب میں کچھ چاول خود ھی ڈال دیئے سارا گھی لگ گیا مجھے اچھا نہیں لگا اور نہ میں نے چاول کھائے غصہ بھی بہت آیا ۔ تھوڑی دیر میں امی سکول سے آگیئں میری جیب میں چاول اور قمیض پر گھی بہتا دیکھ کر رونے لگ گئیں اظہر یہ کیا کیا میرے بیٹے امی جی کچھ بھی نہیں پوری بات بتائی امی جی نے اس باجی کو بلایا جو امی کی شاگرد بھی تھیں آپا جی سلام و علیکم ناھید وعلیکم سلام آپا جی رو کیوں رھے ھو سب خیر تے ھے نا ناھید اے تے بچہ اے تو ھی خیال کرنا سی ۔ فیر کی ھوگیا آپا جی میرا ویر اے میں پیار نال دیتے سن ۔
پر ویر نوں فقیر بنا چھڈیا اور مجھے امی جی گلے لگایا خوب روئیں اظہر میں تے تیرے ابا جی تہاڈی زندگی وچ کوئی کمی نہیں چھڈی اسی دونوں نوکری کردے آں۔ پر آج تو میرا دل توڑ چھڈیا امی جی میں نہیں باجی ناھید نے۔
اک تے تیرے کول ھر گل دا جواب اے۔
امی جی قسمے اس توں بعد آج تک جیب وچ کسے نوں کچھ وی نہیں پان دیتا۔ سب جیباں خشک نے تے صاف نے۔
میرا یقین کرو میں آوارہ گرد آں فوٹوگرافر ضرورآں پر فقیر نہیں۔

Prev راستے
Next مشورے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.