امی جی

امی جی
تحریر محمد اظہر حفیظ
امی جی آپ بہت یاد آتی ھیں ۔ اللہ آپ کیلئے آسانیاں کریں امین۔ 
میں بہانے بہانے سے رو پڑتا ھوں اور کوئی چپ کرانے والا نہیں۔ آپ جیسی تمیزدار خاتون کبھی نہیں دیکھی۔ مجھے یاد ھے آپ غصے میں ھوں یا اچھے موڈ سے اپنے بھتیجوں بھانجوں کو ھمیشہ عبدالقیوم صاحب، طاھر صاحب،خالد صاحب، نواز صاحب، جاوید صاحب کیا بات ھے میں تو سوچ کر ھی رہ گیا۔ میں نے خوشی میں بھی آپ کو ھمیشہ روتے دیکھا کبھی کسی نے ھماری تعریف کیا کی آپ رو دیں۔ نانا جی کو یاد کرنا اور پھر رو دینا۔ نانی جی کو یاد کرنا رو دینا۔ امی جی آپ کا رونا مجھے عطا ھوگیا ھے خوشی اور غم دونوں میں روتا رھتا ھوں۔ مجھے رونے سے سکون ملتا ھے تسلی ھوجاتی ھے ۔ بابا جی سب کے سامنے نہ رویا کریں مجھے سمجھاتے ھوئے خود ایک دن علیزے اظہر میری بیٹی رو پڑھی۔ جی اچھا بیٹے کوشش کروں گا ۔ میرے بچپن کا دوست راجہ اظہر کیانی کی آج دو شادی ھال جو کشمیر ھائی وے پر تھے گلیکسی شادی ھال اور روھتاس شادی ھال دونوں گورنمنٹ کی طرف سے گرا دیئے گئے۔ میری ھمت نہیں تھی اپنے دوست کے کروڑوں کے نقصان کو دیکھ سکوں میں نے پچھلے سینتیس سال میں اس کو بنتے دیکھا ھے کیسے وہ جاپان سے واپس آیا کس طرح کام شروع کیا اور اس کی پہلی سوزوکی پک اپ جس کے دروازے نہیں کھلتے تھے اور راجہ دروازے کے شیشے سے باھر آتا تھا۔ پھر اسکی محنت رنگ لائی اور آج وہ اسلام آباد کی بڑی کیڑرنگ کمپینیوں میں شامل ھوگیا۔ بہترین کچن شادی ھال اور سامان لانے اور لیجانے کیلئے گاڑیوں کا قافلہ تقریبا بیس سال کا سفر اور پھر خود اپنی آنکھوں سے گورنمنٹ کے اداروں کو اس کے دو شادی ھالوں کو مٹی کا ڈھیر بناتے دیکھا۔ میں بے بس رو ھی سکتا تھا رو دیا اور بہت رویا۔ اور کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ اگر یہ سب غلط تھا تو جب یہ سب کئی ماہ میں تعمیر ھوئے تو یہ متعلقہ محکمے کہاں تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کیسے یو فون ٹاور کے ساتھ سینٹورس کے ساتھ سعودی پاک ٹاور کے ساتھ۔ گاڑیاں پارک ھوتی ھیں جب بلڈنگز بنی تو ان کی پارکنگ کیوں نہیں بنی کون ذمہ دار ھے۔ اور ان پارکنگز کے پیسے کون لیتا ھے۔ جی نائن اور جی ٹین کی باھر والی سڑک پر بہت سے دفاتر قائم ھیں انکی پارکنگ کہاں ھے اور انکو سڑک کی دوسری طرف جگہ کون الاٹ کرتا ھے۔
نیا پاکستان بن گیا ھے سوال کرنے کی اجازت مل گئی ھے میرے ماں باپ دونوں اللہ پاس چلے گئے ھیں پہلے سب میری شکایات لیکر انکے پاس آ جاتے تھے اب کس کو بتاو گے۔ اسلام آباد کے گھروں میں دفتر کھلے سپریم کورٹ کا آرڈر آیا اکثر خالی کرالیئے گئے باقی قائم ھیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب گھروں میں کھلے اجازت کس نے دی پیسے کس نے لیئے۔ میرا آئی ٹین فور میں گھر ھے میرے والد فوت ھوئے تقریبا دو سال لگ گئے نام کروانے میں اور سب کچھ گرا دیا جو قابل اعتراض تھا تقریبا بیس لاکھ روپے لگ گئے لیکن کسی کو ایک روپیہ رشوت نہ دی ۔ منہ بہت کھلے ھوئے تھے بند کر دیئے۔ کھڑکی چھوٹی ھے پانچ ھزار جرمانہ جمع کروا دیا ایک فٹ مکان اگے ھے 50 ھزار جرمانہ ادا کر دیا سب گرا دیا تقریبا 4000 گھر ھیں آئی ٹین کے 3 سب سیکٹرز میں جن میں سے 3000 سے زائد قانون سے بالاتر ھیں کہاں ھے گورنمنٹ آئے اور درست کروائے جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کروا دیں یہ ایک سیکٹر ھے سب کا جرمانہ ڈیم بنا دے گا۔ کتنے گھر ھیں جو ساتھ سرکاری زمین پر قابض ھیں کون لوگ ھیں جو سو کوارٹر ایف سکس میں پانچ لاکھ لیکر گھر بنانے کی اجازت دیتے ھیں ۔ قانون سب کیلئے ایک بنائیں ورنہ یہ قانون کا بے ھودہ الاپ بند کریں۔ 
ھمیں عزت سے جینے دیا جائے یا ھمت سے رونے دیا جائے۔ لیکن سب کو سب کا حق ادا کیا جائے۔ راجہ اظہر کیانی کے شادی ھال غلط تھے تو باقی غلط شادی ھالز کو بھی گرا دیا جائے۔ جب سب امن ھے تو یہ ناکے یہ چیکنگ کیوں سب کی چیکنگ کریں نہیں تو میری چیکنگ بھی مت کریں۔ میں تھک گیا ھوں یہ سب سن سن دیکھ دیکھ۔ یہ گاڑی بائیں سائیڈ سے گزارنے والے کون ھیں کوئی روکتا کیوں نہیں ھارن دینے والے کون ھیں گولیاں چلانے والے کون ھیں لائسنس والا پسٹل باھر نہیں لا سکتے قانون بہت سخت ھے پر انکے لئے کوئی قانون نہیں جو بغیر لائیسنس اسلحہ لیکر کھلے عام گھومتے ھیں۔ کیا پشاور پاکستان سے باھر ھے آپ چیز پشاور سے خریدیں اور موٹروے سے پہلے کسٹم والے کھڑے ھیں یہ ھمت کریں قانون نافظ کریں سامان ضبط کریں غریب کا ایک سوٹ پکڑ لینا ھے وھاں جو اربوں کا سامان پڑا ھے اسکو نہیں پکڑنا۔ فینٹم ڈرون آڑانا منع ھے اجازت لیں اور جو بغیر اجازت آتے ھیں میزائل لگا کر روکو نہ انکو غریب کا ڈرون ضبط کیمرہ لگا ھوا ھے۔ کیمرہ لیکر باھر نہیں جا سکتے چھین لیتے ھیں 3 ستمبر کراچی کیمرہ سے کیمرے چوری ھوتے ھیں میں اور صہیب بھائی پولیس سٹیشن جاتے ھیں جی صبح اکر درخواست دے دیں ابھی کیا ھے لو جی آگئے صاحب جی سر اس طرح چوری ھوگئی موقع دیکھائیں جی آئیں اچھا کل صبح گیارہ بجے اوں گا درخواست بھی لے لیں گے اور سب ھوجائے گا جی اچھا شام ھوگئی گیارہ نہیں بجےایس پی سٹی سے رابطہ ھوا جی رات بارہ بجے تک ایف آئی آر ھو جائے گی جی اچھا 5 ستمبر کو ایف آئی آر کی کاپی مل گئی اپنے طور پر تفتیش کرکے آس پاس پہنچ گئے ھیں اور پولیس مصروف ھے۔ 
ٹیکس مکمل دیتے ھیں پھر گھر پانی کیوں نہیں آتا بجلی کا بل پورا دیتے ھے بجلی نہیں آتی۔ 
کچھ رحم کرو جتنی بھی سرکار گزر گئیں اور نئی آگئیں حساب کیا جائے احتساب کیا جائے۔ میں تو روتا ھی رھوں گا باقی عوام کو خوشی دے دو

Prev صبر اور حرص
Next جز وقتی محبت

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.