اپنا خیال رکھنا

اپنا خیال رکھنا
تحریر محمد اظہر حفیظ
ساری زندگی سب کا خیال رکھا میری بہن مذاق میں میراایدھی صاحب کہتی تھی۔ چھوٹا ھوتا تھا شاید دوسری یا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا میلے میں جاتا تھا ڈجکوٹ۔ امی مجھے جیب خرچ دیتی تھی بیٹے جو دل کرے لے لینا جی امی جی اور واپسی پر اپنی بہن اور ھمارے پاس خالہ زاد بہن بھی رھتیں تھیں ان دونوں کیلئے جیولری لے آتا تھا امی اپنے لیئے کیا لیا امی جی پیسے ھی نہیں بچے تو کیا لیتا اس طرح زندگی گزرتی رھی۔ آج تک جب بھی کہیں جاتا ھوں سب کیلئے کچھ نہ کچھ لیکر آتا ھوں۔ پانچویں جماعت پاس کی چھٹی میں اگئے سکول میں کوئی کلاس فیلو کمزور ھے تو اس کی مدد کر دی امی پوچھتی آج کیا کھایا تھا جی کچھ نہیں کیوں پھر پیسے کہاں گئے امی جی کہتیں پتر ایسے کیوں کرتے ھو۔ امی جی پتہ نہیں۔ ابا جی سکول میں ایک بچے کی فیس دینی ھے یار تو کیڑے کماں وچ پے گیا اور امی چپکے سے مجھے پیسے دے دیتیں اسی طرح زندگی گزرتی رھی پھر کالج آگئے یار واجد نسوار نہ کھایا کر واجد پوچھتا اس سے تجھے کیا فائدہ کھاوں یا نہ کھاوں یار دفع کر تیری صحت کیلئے اچھی نہیں اور پھر واجد سے دوستی ھوگئی واجد کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ھوگیا اسی طرح ایک دن نیشنل کالج آف آرٹس لاھور چلا گیا وھاں سب ساتھیوں کا خیال رکھتے تھے کچھ تو گھر سے خوشحال تھے اور کچھ کمزور بس نظام چلتا رھتا تھا میں مختلف نوکریاں کرتا تھا اور سادگی سے جس کی سمجھتا مدد کرتا رھتا تھا میں نے زندگی میں کسی سے کبھی امید نہیں لگائی مدد کرنا میری عادت بن گئی تھی یا میں اس نشے میں مبتلا ھو چکا تھا کسی کو ڈرائنگ شیٹ چاھیئے یا برش فورا حاضر اکثر دو یا تین ڈرائنگ شیٹس لاتا ایک اپنے لیئے اور باقی پتہ نہیں کس کیلئے کچھ دوستوں سے عمر بھر ساتھ رھنے کی باتیں تھیں کچھ کے میس کا بل ادا کر دیتا میں ھمیشہ سے اچھے پیسے کماتا تھا لیکن کبھی کچھ بچا نہیں سکا سب خرچ کر دیتا کئی دفعہ پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا مشکل وقت آیا پیسے نہیں تھے وقت گزر گیا لیکن پریشان نہیں ھوا سب کو ادھار وقت پر لوٹایا لیکن کبھی کسی سے واپسی کی امید نہیں رکھی۔ کالج میں ایک آجکل کاسادھو بہت قریبی دوست تھا دن رات کا ساتھ تھا ھر بات میں مشورہ بہت عظیم دانشور ایک دن فون کیا فون بند تھا انکے قریبی دوست سے پوچھا یار اس کا فون بند ھے خیریت جی نمبر بدل گیا ھے اچھا نمبر بتاو فون کیا یار نمبر تبدیل کیا تھا تو بتانا تو تھا بہت خوبصورت جواب تھا جن کو بتانا تھا بتا دیا تھا آپکی کیا پریشانی ھے شکر ھے نمبر محفوظ نہیں کیا تھا تسلی ھوگئی اور کئی برس سے کوئی رابطہ نہیں۔ محسوس ھوا شاید ھمارا زبردستی کا تعلق تھا ختم ھوگیا ابا جی بھی اکثر پوچھتے تھے یار وہ تیرے دوست میاں صاحب کبھی نہیں آئے مسکرانے کے سوا کوئی چارا نہیں تھا۔ کوشش کی کبھی کسی کے ساتھ دانستہ برا نا کروں اگر کبھی ھوگیا تو فورا معافی مانگ لوں میری قریبی رشتے تو قریبی تھے ھی دور والوں کا بھی خیال رکھا جس جس نے زندگی میں احسان کیا انکا احسان مند رھا اور رھوں گا۔ 
کل اذان ھوئی اٹھا نماز ادا کی بیٹیوں سے کہا بیٹے نماز ادا کرو سب نماز ادا کرنے لگ گئے تو مجھے خیال آیا کہ پتہ نہیں کونسی نماز کا وقت ھے تھوڑی دیر میں بھائی بھی مسجد سے آگئے عجیب سا لگا کیونکہ میں فجر ادا کر چکا تھا اور بھائی فجر گھر میں ادا کرتے ھیں سوچتا رھا یہ سب کیسے بدل رھا ھے چھوٹی بیٹی عبیرہ بابا عشاء کی کتنی رکعت ھوتی ھیں مجھے کوئی نماز نہیں پڑھاتا بیٹے ابھی عشاء کا وقت ھوا ھے جی بابا تایا سے پوچھ لیں وہ مسجد سے پڑھ کر آئے ھیں سوچ رھا ھوں یہ سب کیا ھوا بیوی سے ذکر کیا تو کہنے لگیں اپنا خیال رکھا کریں ھر وقت کام کام دن رات کا آپ کو خیال نہیں رھتا کتنے گھنٹے سے کام کر رھے ھیں لیکن یہ پہلی دفعہ ھوا ھے ۔
میری ٹانگیں اکثر کھچ جاتی ھیں کیلے کھانا پانی پینا اس کا علاج دریافت کیا ھوا ھے۔آج تکلیف بہت زیادہ تھی سوچا ڈاکٹر پاس جاتا ھوں بھائی میری ٹانگوں میں آج مسلئہ معمول سے زیادہ ھے تینوں کننی واری آکیا اے اپنا خیال رکھیا کر سب دا خیال رکھدا ایں پر اپنا نہیں بھائی نے بولنا شروع کردیا۔درد کی شدت زیادہ تھی ڈاکٹر عامر شہزاد صاحب بہت نفیس دوست ھیں انکو میسج کیا اسلام علیکم بھائی طبعیت ٹھیک نہیں ھے ساتھ ھی فون آگیا ساری صورتحال بتائی انھوں نے دوا تجویز کی فورا کھا لی گھر میں موجود تھی لیکن سوچ رھا ھوں زندگی کے اڑتالیس سال گزر گئے سب کا خیال رکھا پر اپنا نہیں رکھا بہت ناانصافی کی صحت مناسب نہیں نیند پوری نہیں ھوتی ھر وقت بھاگ دوڑ شوگر زیادہ وزن زیادہ جسم میں جگہ جگہ درد کوئی کہتا ھے بھاڑ میں جاو کوئی کہتا ھے ھمیں تمھاری ضرورت نہیں۔ کوئی کہتا ھے کیا ھوا ھے جو اتنے پرانے گانے سن رھے ھو سٹیٹس پر شعر کیوں لکھا ھے آج کس کس کو فون کیا کہاں کہاں گئے واپسی پر فون نہیں کیا آن لائن کیوں ھیں بیوی ساتھ ٹور پر کیوں گئے خیریت تھی۔ نمائش نہیں ھوسکتی تصویریں بکتی نہیں اگر پرنٹ ھم سے بنوا لیں تو نمائش کا سوچتے ھیں گاڑی کتنے کی بیچیں گے کیوں بیچوں۔ تصویریں دے دیں ساتھ آپکا نام چھاپیں گے بھائی خرید لیں نام بیشک نہ چھاپیں اوھو لالچ کا لیول چیک کریں خرید لیں۔ جب میں کسی کو تنگ نہیں کرتا کوئی مجھے تنگ کیوں کرے سر جی طارق حمید سلیمانی صاحب کو جانتے ھیں جی بھائی ھیں بہت اچھے انسان ھیں انکے بہت احسانات ھیں مجھ پر ۔پر وہ آپکو بھائی نہیں سمجھتے اس سے آپکو کیا فرق پڑھتا ھے میں ایک اچھے گمان میں ھوں مجھے رھنے دیں کیوں برائی کرتے ھیں انکی۔ سر جی آپ تو بات بھی نہیں سنتے جی بھائیوں کے بارے میں باتیں سننا اچھی عادت نہیں اچھا جیسے آپ کی مرضی اپنا خیال رکھا کریں جی آج ھی شروع کیا ھے۔ مرشد آپ عجیب آدمی ھیں جی میں عجیب بھی ھوں اور غریب بھی۔
اصل میں میں ایک گم شدہ انسان ھوں جس کے دوست دشمن دن رات سب گم ھوگئے ھیں اور جو ساتھ ساتھ ھیں انکا لیچکر جاری ھے اپنا خیال رکھا کرو۔آپنا خیال رکھا کرو۔ انکو کیا بتاوں میری اب ھمت نہیں ھے کسی کا بھی خیال رکھنے کی اپنا کیسے رکھوں۔ ایک بات کہوں جی حکم آپ نہ روزانہ آٹھ گھنٹے سویا کریں جی اسی پر عمل کرتا ھوں۔ پر آپ تو ھر وقت آن لائن ھوتے ھیں جی آئندہ نہیں ھوگا۔ آپ کو پتہ ھے جو آپ لکھتے ھیں آپ اس سے بلکل مختلف ھیں جی ممکن ھے ایک مشورہ دوں جی حکم کریں کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں جی بہتر مجھے لگتا ھے آپ پاگل ھوچکے ھیں بہت شکریہ پر آپ کو اندازہ کیسے ھوا جی میں آپ کی سب تحریریں پڑھتا ھوں اس سے اندازہ ھوا پر آپ ایک پاگل کی تحریریں کیوں پڑھتے ھیں اچھا بحث نہ کریں کسی اچھے سائیکالوجسٹ سے چیک اپ کروائیں جی بھٹہ صاحب ۔ جی بہت بہت شکریہ بس ایک آخری بات کہنا تھی محمد اظہر حفیظ اپنا خیال رکھا کرو۔ یہ خیال رکھنے کا مشورہ دینے والے اتنے اذیت پسند کیوں ھوتے ھیں ۔
میں ایک گاوں کا رھنے والا بچہ تھا مجھے روشنی سے لگاو ھوگیا روشنی کو قید کرنے لگا کبھی کہیں کبھی کہیں کسی کو کچھ نہیں کہتا بس تصویریں بناتا ھوں مسکراتا رھتا ھوں ۔ آج خیر تے ھے تصویر بناتے ھوئے مسکرا رھے ھیں جی کئی دفعہ رب کی شان دیکھ کر رو بھی پڑھتا ھوں اچھا پھر تو اپنا خیال رکھا کریں یہ اچھی بات نہیں ھے کونسی رونا یا مسکرانا جی دونوں

Prev اسلام آباد سے خنجراب
Next جہالت کے ماونٹ ایورسٹ 

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.