اپنے ماں باپ کو کون گالی دیتا ھے۔

اپنے ماں باپ کو کون گالی دیتا ھے۔
تحریر محمد اظہر حفیظ

کوئی نشے میں بھی ھو تو بھی اپنے ماں باپ کو گالی نہیں دیتا۔ کوئی کتنا ھی پاگل کیوں نہ ھوجائے وہ اپنے ماں باپ کو پہچانتا ھے۔ ان سے بدتمیزی نہیں کرتا۔ 
یہاں تک کہ بازار حسن میں پیدا ھونے والوں کو بھی ھمیشہ اپنی ماں سے پیار کرتے ھی دیکھا ھے۔ مائیں تو سب کی ھی عظیم ھوتیں ھیں 
پھر یہ کون لوگ ھیں جو اپنے وطن اپنی ماں کے خلاف لکھتے ھیں اس کو برا بھلا کہتے ھیں۔ 
ھزار اختلاف ھوں پر پاکستان سے بہتر ملک کوئی نہیں ھے۔ 
جہاں ھر طرف آسانی ھے۔ دنیا جہاں کی ھر چیز وافر مقدار میں ملتی ھے۔ 
آج کچھ عقل کے اندھوں نے چار چھ بینر لگائے اور کچھ ھی دیر میں وہ اتار لئے گئے۔ ھمارے کچھ بیوقوف دوست اس کو سوشل میڈیا پر ایسے لگا رھے ھیں جیسے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ھو۔ ایسے ھی بیوقوف لوگ اپنی ماوں بہنوں کی پردے والی باتیں لوگوں سے شیئر کرتے ھیں اور درخواست کرتے ھیں کسی کو بتانا نہیں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ھو ۔ اس کا تعلق دشمن سے ثابت کرکے آپ نفرت کے کتنے ووٹ لے لو گے۔ ھماری افواج کے سپہ سالار بہت ذھین انسان ھیں انہوں نے موجودہ صورتحال میں کورکمانڈر کانفرنس کی ھے تاکہ سارا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ بلکل اسی طرح ھمارے وزیر اعظم صاحب کو بھی چاھیئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں یہ ھی ھمارے دشمن کیلئے کافی ھوگا۔ 
ھمارے اپنے جو ھمارے دشمن ھوئے بیٹھے ھیں ان سے درخواست ھے کہ اس وقت کو گزر جانے دیں آپ کا سارا غصہ بھی سنا جائے گا۔ 
جتنے لوگ بھی پہلے پبلک ٹائلٹس میں گندی باتیں لکھتے تھے ان میں سے اکثر کے ھاتھ سوشل میڈیا آگیا ھے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کی اپنی مائیں بہنیں بھی انکی فرینڈ لسٹ میں ھیں وہ بھی یہ سب بکواس پڑھ رھی ھونگی۔ 
سیلف سینسر شپ ۔ ھر ذی شعور جانتا ھے کہ کہاں پر کیا بات کرنی ھے کیا پہن کر جانا ھے۔ بازار میں ننگے پھرنے والے کو کوئی بھی عقلمند نہیں کہتا اور زبان کے ننگے استعمال کرنے والے کو بھی لوگ ننگا ھی سمجھتے ھیں ۔
کچھ لوگ ملک پاکستان کے مخالفت میں بات کرتے ھیں جب انکو سمجھایا جاتا ھے تو انکو قانون آزادئ اظہار رائے یاد آجاتا ھے۔ 
میری سمجھ سے بالاتر ھے کہ کوئی بغیر وجہ کے گمشدہ ھوجائے اور جو ھوتے ھیں ان کے گھر والوں کو پتہ ھوتا ھے کہ ان کی کیا کارستانیاں تھی جس کی بنیاد پر وہ گمشدہ ھوئے۔
ملک کے خلاف کام کرکے پھر معصوم نہ بنیں کہ ھم نے کیا کیا ھے اپنے کیئے پر سٹینڈ لیں ۔گمشدگی سے باھر نکلتے ھی یہ لوگ کینیڈا، آسٹریلیا، ناروے سے پہلے بریک نہیں لگاتے۔ اتنے ھی سچے ھو تو ھمارے درمیان میں رھو اور اگر اتنے بزدل ھو تو پھر بات کرنے سے پہلے سوچو۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسیز واقعی بہت حساس ھیں اور وہ کن کن منصوبوں پر کام کرتے ھیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ ھر چوک میں حساس ادارے کے لوگ پہرہ دیں محترم دوستو ملک کی بقاء اور حفاظت اس سے بہت اعلی کام ھے ۔ جنھوں نے بھی ملک دشمن مواد ڈسپلے کیا اور پرنٹ کیا سب پکڑے گئے اور انکو قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی اور پھر کچھ لوگ انکو گمشدہ قرار دیکر مظاھرے بھی کریں گے۔ پر یہ کون لوگ ھیں جو ملک دشمن کاروائیوں میں شریک لوگوں کیلئے مظاھرے کرتے ھیں۔
کبھی خودکش حملوں کے خلاف کسی نے مظاھرہ کیا۔ کبھی فوج پر حملوں کے خلاف کسی نے مظاھرہ کیا۔ 
آو ھم سب ساتھ کھڑے ھوتے ھیں۔ کشمیر کا فیصلہ ھوجائے آپس کی غلط فہمیاں بھی دور کرلیں گے انشاءاللہ۔
ابھی آپس میں اختلاف رائے کا وقت نہیں ھے اتحاد کا وقت ھے ۔ اتفاق کا وقت ھے۔ ساتھ ساتھ چلیں انڈیا سے لڑیں آپس میں پھر لڑ لیں گے۔آج کشمیریوں کے حق میں نیشنل پریس کلب کے باھر احتجاج ھوا جس میں تقریبا پندرہ کے قریب لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ میرے دوستو،میرے ھم وطنو ھمیں باھر نکلنا ھوگا پاکستان کیلئے اور اپنے کشمیر کیلئے۔ 
میری سمجھ سے بالاتر ھے جب ھمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ھے ، ھم ایٹمی قوت ھیں۔ پھر ھم دائیں بائیں کیوں دیکھ رھے ھیں۔ ھمیں کس اسلامی یا غیر اسلامی ملک کی مدد چاھیئے۔ اور کیوں چاھیئے۔ جنگیں اپنے زور بازو پر لڑی جاتی ھیں ادھار کے جہاز،ادھار کے اسلحے، ادھار کی فوج سے نہیں۔
کشمیر ھمارا مسئلہ ھے عالمی مسئلہ نہیں اسے ھم نے حل کرنا ھے ھمت کیجئے حل کیجئے ھم سب آپ کے ساتھ ھیں وہ بے شک حکومت پاکستان ھو یا افواج پاکستان ۔ ھم سب ایک ھیں۔

Prev بخار 
Next شکریہ

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.