اگر

اگر
تحریر محمد اظہر حفیظ
مختلف چیزوں کو دیکھتا ھوں انکے احساسات کو سوچتا ھوں کہ کس وقت کون کیا سوچتا ھوگا۔
اگر میں کلر انک پرنٹر ھوتا تو سوچتا رھتا سیاھی ختم ھونے والی ھے میسج بھیجتا چیک کریں،دیکھو آج مالک کیا تجربہ کرتا ھے پیپر کونسا لگاتا ھے انک کونسی ڈالتا ھے اصل والی یا پھر چائنہ والی، اوھو اتنا موٹا پیپر لگادیا ھے کہیں رک ھی نہ جاوں، لگتا ھے میرامالک فوٹوگرافر ھے ھر وقت تصویریں ھی پرنٹ کرتا رھتا ھے،کوئی نمائش ھے نزدیک نزدیک ۔ نہ خود سوتا ھے نہ مجھے سونے دیتا ھے، نہ خود تھکاوٹ کا خیال ھے نہ ھی میری تھکاوٹ کا، بیڑا غرق ھو ونڈوز 10 والے کا کمپیوٹر بند بھی ھوجائے تو یاد رکھتا ھے آخری پرنٹ کونسا تھا جب بجلی آتی ھے پھر وھیں سے پرنٹنگ شروع، لیکن شکر ھے میں ایک گھر کا پرنٹر ھوں دفتر کا ھوتا تو روزانہ نوکری کرنا پڑتی،کئی ظلم کرنے پڑتے، پر میں تو ان پڑھ ھوں پھر بھی مجھ سے طرح طرح کی زبانیں پرنٹ کرواتے ھیں میں فوٹوگرافر بھی نہیں پھر بھی مجھ سے تصویریں پرنٹ کرواتے ھیں ۔ تھوڑی سی تو میری عمر ھے بس دماغ یعنی ھیڈ خراب ھوا نہیں اور میرا مقام ایئرکنڈیشنڈ کمرے سے باھر کباڑے کی گندی دوکان۔ اتنی خدمت کے بعد بھی دل ڈرا سا رھتا ھے میری تو پینشن بھی نہیں نہ ھی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر ھے بس دماغ خراب اور فارغ یہ والا طریقہ کار انسانوں پر کیوں نہیں ھوتا انکا تو دماغ خراب ھو تو معذرت سے یا علاج پر بات ختم مجھ سے بھی معذرت پرنٹ کروالیا کریں یا پھر علاج مجھے یوں تو نہ اپنی زندگی سے نکالا کریں، ھمارے مکینک ھاتھ گندے اوزار گندے تھوڑی سی بھی شرم نہیں آتی پوچھ ھی لیا کرو کیا پرنٹ کرتا ھوں ھوسکتا ھے قران مجید یا اسکی کی آیات ذرا پاک ھوکر مجھے ھاتھ لگائے مجھے عام پرنٹر مت سمجھئے،
اگر پتہ چل جائے کہ میں کس کا پرنٹر ھوں اور کیا پرنٹ ھوتا ھے تو مجھے گھر میں کسی بلند مقام رکھتے۔
میرا مالک بھی عجیب انسان ھے کبھی تو چوبیس گھنٹے ساتھ رھتا ھے اس کے بیوی بچے بھی مجھے ملنے آتے ھیں بابا کب تک کام ختم ھوگا اور کبھی کئی کئی دن یہ سب میرے پاس تک نہیں آتے، میں بہت بور ھوجاتا ھوں سمجھتا ھوں شاید بوڑھا ھوگیا ھوں ویسے ھی اکیلئے چھوڑ گئے ھیں جیسے اولاد ماں باپ کو چھوڑ جاتی ھے پھر خیال آتا ھے کیا کیا نہیں کیا میں نے جو کہا مانا، ھر طرح کا کاغذ سی ڈی پرنٹ کی کبھی انکار نہیں کیا کبھی سٹیکر کبھی عام کاغذ کبھی فوٹو پیپر، کبھی شرٹ کبھی کپ، کبھی وزیٹنگ کارڈ کبھی پوسٹر کبھی پوسٹ کارڈ، کبھی سالگرہ کی مبارکیں،کبھی لفافے،کبھی بچوں کی اسائنمنٹ اور کبھی سہیلی کی،کبھی کیلنڈر،کبھی تصویری نمائشیں کیا کیا نہیں کیا، شکر ھے میں انسان نہیں ھوں ورنہ میری بھی پیدائش کا دن اور موت کا دن لکھا جاتا،اور ایک دن مجھے بھی دفنا دیا جاتا،کتبے پر لکھا جاتا ایپسن انک جیٹ فوٹو پرنٹر ماڈل 805 تاریخ خرید اور تاریخ وفات۔حسرت رھی ان غنچوں پے جو بن کھلے مرجھا گئے۔
کبھی کبھی میرا مالک بہت اداس ھوتا ھے اداس لکھتا ھے روتا ھے اس کو پرنٹ کرتا ھے اداس گانے سنتا ھے مزے کی بات ھے ساتھ ساتھ میں بھی سن رھا ھوتا ھوں لیکن اس کو میرے احساسات کا اندازہ نہیں ھوتا اگر ایک دو قطرے میرے آنسوؤں کے کاغذ پر گر جائیں تو بجائے مجھے پوچھنے کے کہ میری جان ھوا کیا ھے کیوں رو رھے ھو کیوں اداس ھو، مکینک کو فون کرنا شروع کردیتا ھے میرے سامنے ھی۔
کہ یار میرا پرنٹر سیاھی پھینک رھا ھے کیا کرنا ھے ھیڈ صاف کروں یا پھر آپ کے پاس لے آوں بہت بے حس لوگ ھیں خود ھی باتیں کرتے ھیں میرے پاس بیٹھ کر یار ڈاکٹر کو فون مریض کے سامنے نہیں کرتے مریض ڈر جاتا ھے بیگم صاحبہ بیٹی کو نہ پتہ چلے کہ ڈاکٹر پاس جانا ھے، ورنہ رونے لگ جائے گی، کبھی سوچا اگر میں بیمار ھوں تو دوسرے کمرے میں جا کر فون کرلیں تاکہ مجھے دکھ نہ پہنچے ،کبھی کبھی تو بہت ڈر جاتا ھوں جب صاحب خود یا انکی بیگم مجھے کپڑے سے صاف کرتے ھیں ۔ پتہ نہیں کیا ھونے لگا ھے مجھے بیچنے تو لگے ورنہ میری قسمت کہاں کہ میری صفائی ھو۔ پھر پتہ چلتا ھے اس کمرے میں فوٹوگرافری کی کلاس ھے۔ایک راز کی بات بتاوں ۔مجھے بھی اب ساری فوٹوگرافی آتی ھے میرے سامنے کئی لوگ فوٹوگرافر بنے۔ پر دکھ کی بات ھے میرے پاس کیمرہ نہیں ھے میں تصویریں پرنٹ تو کرسکتا ھوں کھینچ نہیں سکتا، میں کیسے کس کو بتاوں مجھے کیا تکلیف ھے اگر لکھ کر بتاوں تو کاغذ پھاڑ کر ردی میں ڈال دیتے ھیں پتہ نہیں پرنٹر کیا غیر ضروری پرنٹ کر رھا ھے کبھی پڑھنے کی کوشش تو کرو میرے دکھ کیا ھیں اور میری تکلیف کیا ھے،
مجھے پتہ ھے سوکن کا دکھ کیا ھے پر تم ظالم لوگ ھو دوسری شادی کرتے ھو تو دوسری کو الگ کمرے میں یا الگ گھر میں رکھتے ھو اور میری سوکن دوسرا پرنٹر بلکل میرے سامنے رکھا ھوا ھے شکر ھے تھوڑی سی تو عقل کی دوسرے میز پر رکھ دیا اگر اسی میز پر رکھ دیتے تو کتنی شرم آتی۔ورنہ سوچ سوچ کر شرماتے رھتے تینوں ساتھ ایک کمرے میں رھیں گے کیسے،
اوپر سے اپنی حرکتوں پر غور کرو ایک ھی صفحہ کی سامنے والی سائیڈ مجھ پر پرنٹ کرتے ھو اور دوسری سائیڈ میری سوکن پر کیا مجھے دونوں اطراف پرنٹنگ نہیں آتی۔ انصاف کرو یا تو دونوں کو ایک طرح رکھو یا پھر ھمیں چھوڑ دو۔ تم کتنے ظالم ھو پرانے والے میں چائنہ کی سستی سیاھی اور نئے والے میں اصل جاپانی سیاھی بلک ویسے ھی جیسے ایک انسان کرتا ھے نئی بیوی کو نئے اور اچھے کپڑے اور پرانی سے پوچھنا ھی نہیں کچھ چاھیئے تو نہیں،
ویسے سب انسانوں سے درخواست ھے کبھی تو اپنے اپ کو مجھ میں ڈھال کر دیکھو۔ میں اتنا برا بھی نہیں ھوں۔ سب پرنٹ کر سکتا ھوں اپنی اوقات اور سائز میں رہ کر کبھی تم بھی اوقات میں رہ کر دیکھو بہت کچھ کر سکتے ھو، اگر اوقات میں رھو تو نا۔

Prev جنگ یا امن
Next تصویر

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.