ایک تصویر

ایک تصویر
تحریر محمد اظہر حفیظ
ایک تصویر بنانا چاھتا ھوں۔ 29 سال زندگی کے گزر گئے ایک تصویر بنانے میں کئی لاکھ تصویریں بنائی ھزاروں نیگیٹو بنائے سینکڑوں ٹرانسپیرنسیز بنائی پر دکھ ھے وہ ایک تصویر نہ بن سکی اس تصویر کے کھوج میں کئی سفر کئے اور کئی سفرنامے لکھے اور پڑھے۔ طرح طرح کی فوٹوگرافی کی پر اس ایک تصویر کی کوشش ابھی بھی جاری ھے تین مہینے سے زیادہ عرصہ ھوگیا میں تصویریں دیکھ رھا ھوں سمجھ رھا ھوں تصویر بنا نہیں رھا ۔
اور سوچ رھا ھوں کہ وہ ایک تصویر کیا ھے جو میں بنانا چاھتا ھوں ۔
کبھی میں عاطف سعید صاحب کا لینڈ سکیپ دیکھتا ھوں سوچتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی عرفان احسن صاحب کا شادی بیاہ کا کام دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی کامران سلیم صاحب کی پرندوں کی تصویریں دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتاتھا کبھی میں حاجی اکرام صاحب کی فوٹوگرافی دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی رزاق وینس صاحب کے پنجاب کے نواحی علاقوں کی تصویریں دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا ھوں۔
کبھی عمیر غنی صاحب کے سندھ کے مزاروں کی تصویریں دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی ندیم خاور صاحب کے پہاڑ دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی عامر شہزاد صاحب کی سٹریٹ فوٹوگرافی دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی صلاح الدین صاحب کی سپورٹس فوٹوگرافی دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی عبدالقیوم صاحب کی فیشن فوٹوگرافی دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی میاں عبدالمجید صاحب کا کام دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی مجاھد صاحب کا کام دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی اویسی صاحب کا کام دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی غلام رسول مغل صاحب کا کام دیکھتا ھوں شاید میں یہ بنانا چاھتا تھا کبھی میں جاوید قاضی صاحب کے کام کو دیکھتا ھوں کبھی تو میں کسی کا بھی کام نہیں دیکھتا بس آنکھیں بند کرکے خواب دیکھتا ھوں شاید وہ تصویر مل جائے جو میں بنانا چاھتا ھوں جو پہلے نہ بنی ھو غالبا 1998 میں پہلی دفعہ مانسہرہ گیا تھا جہاں سے فوٹوگرافی کا کام شروع کیا پھر میں نیشنل کالج آف آرٹس لاھور چلا گیا ھر صنف کی فوٹوگرافی کی کرتا جارھا ھوں بس سمجھ یہ نہیں آرھی وہ کونسی تصویر ھے جو پہلے نہیں بنی اور میں بنانا چاھتا ھوں کبھی رشک آتا ھے اس لڑکے پر جس نے جاپان پر ایٹمی حملے کی تصویر بنائی پھر سوچتا ھوں نہیں لاکھوں لوگ مرجاتے ھیں ایسی سے بہتر ھے جنگ نہ ھی ھو ۔ پھر سوچتا ھوں وہ افریقہ کی تصویر جو گدھ ایک بچے کے ھلاک ھونے کا انتظار کر رھا ھے نہیں میں ایسا ظلم ھوتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں اس کو اپنی روٹی اور پانی بھی دے دوں گا اس کو مرنے نہیں دوں گا کبھی افغان بچی کی تصویر یاد آتی ھے کیسے وہ نیشنل جیوگرافک کا ٹائٹل بنی اور کبھی مجھے چائے والا یاد آجاتا ھے میں اچھی تصویریں دیکھ کر بہت خوش ھوتا ھوں اور سوچتا ھوں میں ایسی تصویریں کیوں نہیں بنا پاتا جیسے بی کے بنگش صاحب کی تصویر نماز عید میں سب سجدے میں ھیں اور ایک بچہ کھڑا ھے جیسے اظہر جعفری صاحب کی تصویر حبیب جالب صاحب لہولہان ھیں جیسے میاں خورشید صاحب کی تصویر ایک ٹرک اپنے پچھلے ٹائروں پر کھڑاھے اور اس کے وزن نے اس کو اگے سے اٹھایا ھوا ھے جیسے تنویر شہزاد صاحب کی تین خواتین نیلے برقعے پہنے جارھی ھیں جیسے سعید راو صاحب کی دھلی دروازے کی تصویر ۔ کیا کیا کمال کے لوگ ھیں میرے پاکستان میں سب اپنے اپنے حصے کی تصویر بنائی جارھے ھیں دکھائی جارھے ھیں اور میں ابھی تک ایک تصویر بھی نہیں بنا پایا ۔ دعاوں کی درخواست ھے بس ایک تصویر اور کچھ بھی تو نہیں ۔ پتہ نہیں کب ملے گی وہ ایک تصویر اور میرا سفر ختم ھوگا۔ ایک تصویر کا سفر

Prev جیوری
Next عدالت

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.