بخار 

بخار 
تحریر محمد اظہر حفیظ

بخار سے تعلق تو پیدائشی تھا جو اس سے پہلی ملاقات یاد پڑتی ھے وہ غالبا چوتھی جماعت میں تھا جب ٹائیفائیڈ ھوگیا اور جان چھوڑنے کا نام نہ لے ۔ کئی ماہ رھا۔ میڈیکل کی سہولتیں بھی اتنی عام نہیں ھوتیں تھی ساتھ قصبے ڈجکوٹ میں ڈاکٹر اسلم ھوتے تھے۔ بہت نازک سے ڈاکٹر تھے سب انکے پاس ھی جاتے تھے کچھ عرصہ قبل جب انکی وفات کی خبر ملی تو بڑے بھائی کو بتایا تو کہنے لگے یار وہ تو کمپوڈر تھے ڈاکٹر تو نہیں تھے ھر بیماری کا علاج ایک ٹیکہ اور تھوڑا سا رونا ھوتا تھا۔ 
بخار بڑھتا جارھا تھا ایک رات بخار زیادہ تیز تھے امی جی مجھے گاوں میں گھر کے برآمدے میں لٹا کر پاس بیٹھی ھوئیں تھیں ۔ اور مجھے دیوار پر کبھی کوئی آدمی بیٹھا ھوا نظر آتا اور کبھی بچہ۔ امی جی دیوار تے کون اے امی ڈر گئی اور دوڑ کر میری تائی زبیدہ کو بلا لائیں آپا جی اظہر دی طبعیت زیادہ خراب ھے تائی جی بہت پیار کرتی تھیں پوچھنے لگیں اظہر اقبال ماں دا لال کی ھویا اے تائی جی دیوار تے کون اے اور اب تائی جی بار بار واش روم جا رھی تھی اظہر نوں کی ھوگیا اگلے دن بخار پھر ھوا تو میں نے امی جی سے کہا امی جی تائی جی کو بلا لیں امی جی کہنے لگیں رھنے دے تینوں کلے نوں سنبھالا کہ نال تیری تائی نوں وی۔ اگلے دن ابو جی راولپنڈی سے آگئے اور گورنمنٹ ھسپتال ڈجکوٹ داخل کروادیا۔ سہولتیں وھاں بھی ناکافی تھیں تانگے پر ایک چارپائی رکھی اور ھم ھسپتال داخل ھوگئے ۔ ابا جی سارا دن میرے پاس رھتے تھے اور امی بھی آتی جاتی رھتیں تھیں اکثر امی جی میرے لئے پتلا کسٹرڈ بنا کر لاتیں تھیں۔ اور ابا جی مجھے ویفرز بسکٹ لاکر دیتے تھے یہ دونوں چیزیں مجھے تب سے ھی بہت پسند ھیں ساتھ چاولوں کی کھچڑی بھی چلتی رھتی تھی شام کو ھم گھر چلے جاتے اور صبح واپس ھسپتال آجاتے۔ بہت زیادہ کمزوری ھوگئی تھی ایک دن میرا منہ ٹیڑا ھوگیا۔ اور ڈاکٹر نے کہا لقوہ نہیں ھے کمزوری سے ھوا ھے بس منہ کو پکڑ کر رکھیں میں نے بھی سن لیا بہت عرصہ تک منہ پکڑ کر ھی سوتا رھا۔ کچھ ٹھیک ھوا تو ایک دن تایا زاد بہن باجی نفیس نے مجھے کسی بات پر چھیڑا میں اس کے پیچھے بھاگا اور مجھے تھکاوٹ سے پھر بخار ھوگیا اور تایا جی انور نے اس دن باجی نفیس کو بہت ڈانٹا۔ تایا جی انور ھی میرے لیئے پہلا کوڈک ون ٹین کیمرہ سعودیہ سے لائے تھے۔ 
بخار تو اتر گیا ، میری بھتیجی حرم طارق چھوٹی تھی اس کو بہت تیز بخار تھا گاڑی گھر کھڑی تھی پر میں اس کو کندھے سے لگا کر بھاگا اور کیپٹن ڈاکٹر اسرار کے کلینک پہنچا بیل دی انکا بیٹا نکلا جی ایک منٹ پہلے کلینک بند ھوچکا ھے۔ غصے کے مارے دماغ خراب ھوگیا پھر ایک ٹیکسی میں بیٹھا کہ کسی نزدیکی ھسپتال جا سکوں تو پچھلی سیٹ پر بھی کوئی بیٹھ گیا میں نے مڑ کر دیکھا ابا جی تھے کہنے لگے یار ایسے پریشان نہیں ھوتے۔ حرم کو اتنا تیز بخار تھا جس کندھے سے اس کو لگایا ھوا تھا میرے سارے کپڑے بھیگ چکے تھے الحمد للہ اب وہ ایم ایس کر رھی ھے۔ علیزے اظہر کو بہت بخار تھا ڈاکٹر نے کہا ھسپتال داخل کروادیں پانچ دن رکھنا پڑے گا۔ عزیز نرسنگ راولپنڈی میں داخل ھوگئے پانچ دن سے نو دن ھوگئے ڈاکٹر وسیم جو کہ عزیز نرسنگ کے مالک تھے اللہ انکو غریق رحمت کریں امین۔ بہت اچھے ڈاکٹر اور انسان تھے رات دو بجے کمرے کا دروازہ کٹھکا میں نے کھولا تو ڈاکٹر وسیم صاحب کھڑے تھے کہنے لگے میرے خیال میں چائلڈ اسپیشلسٹ کو بیماری سمجھ نہیں آرھی اور وہ علاج لمبا کرتا جارھا ھے۔ آپ بچی کو لیکر گھر جائیں یہ دوائی دیں کل تک بخار اتر جائے گا انشاءاللہ۔ مجھے یہاں رکھنے میں مالی فائدہ ھے پر تسی میرے بھائی ھو۔ ڈاکٹر کو کہوں گا بچی کا دادا ذبردستی لے گیا ھے۔
پچھلے تین چار دن سے مجھے بخار ھے دوائی بھی کھا رھا ھوں آرام بھی کر رھا ھوں ۔ بیوی کو بتایا یار آج امی زندہ ھوتیں تو پتلا کسٹرڈ بنا کر دیتیں ھنسنے لگی یار فریج میں بنا کر رکھا ھے ۔ مجھے یہ بات یاد تھی۔ اب جب بھی بخار ھوتا ھے تو مجھے پتلا کسٹرڈ، ویفرز،امی جی اور ابوجی بہت یاد آتے ھیں۔ بہترین دوائی تو پھر ھائے امی جی ھی ھے۔ ماں باپ بہت مشکل سے اپنی اولاد کو پالتے ھیں اللہ انکو جزائے خیر دیں امین ۔ اور اولاد کو بھی اس حسن سلوک کو سمجھنے کی توفیق دیں امین۔

Prev میں اپنے آپ میں رھتا ھوں 
Next اپنے ماں باپ کو کون گالی دیتا ھے۔

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.