برداشت

برداشت
تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ 
میں زندگی میں آخری حد تک جاتا ھوں اور دوسروں کو بھی جانے دیتا ھوں دوستوں کی دوستی دشمنوں کی دشمنی سب برداشت کرتا ھوں پھر چیختا چلاتا نہیں بلکہ خاموش ھو جاتا ھوں کچھ عقل مند میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھتے ھیں اور کچھ ناراضگی لیکن میں تو خاموش رہ کر تعلق بچانے کی ھر ممکن کوشش کرتا ھوں لیکن اگر پھر بھی بچ نہ پائے تو افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا میری بری عادت ھے دشمن بھی مسئلے میں ھو تو مدد کو پہنچ جاتا ھوں لوگ اس کو بھی میری کمزوری سمجھتے ھیں معاف کرنا میری عادت ھے اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔ میں بغیر غلطی کئے بھی معافی مانگ لیتا ھوں دوست احباب اسکو بھی میری کمزوری سمجھتے ھیں مزے کی بات یہ ھے کچھ محترم دشمنی میں بھی مجھے ھی ڈسکس کرتے ھیں میری استاد نے نیشنل کالج آف آرٹس میں بتایا تھا ڈسکس ھونا ھی کامیابی ھے بے شک اچھے الفاظ میں ھو یا برے الفاظ میں۔تو میں اس کامیابی کا مزا لیتا ھوں میں اپنے تمام اساتذہ کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ھوں اسی طرح میرے شاگرد مجھے بہت محبت دیتے ھیں ھزاروں میں سے دو یا تین بدتمیز شاگرد بھی ھیں جب بھی وہ بدتمیزی کرتے ھیں میں اپنے استادوں کے پاس حاضر ھوتا ھوں اور محسوس کرنے کی کوشش کرتا ھوں میرے سے کہاں گستاخی ھوئی ھے اور پھر بھی ان سے معافی کی درخواست کر دیتا ھوں میں ھر کوتاہی میں اپنی غلطی تلاش کرتا ھوں صلح کرنے میں پہل کرتا ھوں اور اکثر دوست اس کو بھی میری کمزوری سمجھتے ھیں۔میں بہت کم کسی کے بارے میں منفی سوچتا ھوں مثبت رھنے کی ھر ممکن کوشش کرتا ھوں میرے ماں باپ اس دنیا سے چلے گئے بہت سے دوست انکے جنازے پر نہیں آئے لیکن میں انکی ھر خوشی غمی میں حاضر ھوتا ھوں بہت سے دوست میرے راستے میں پتھر رکھتے ھیں میں درگزر کر جاتا ھوں جب ان کا مجھ سے واسطہ پڑتا ھے میں انکی زیادتی کا انکو احساس نہیں ھوں دلاتا لیکن سینتالیس سال زندگی گزارنے کے بعد اب میری برداشت جواب دیتی جارھی ھے اور سوچ رھا ھوں آب مزید برداشت نہیں کروں گا مجھے اپنے رویے کو بدلنا ھو گا اور زیادتی کرنے والے کو روکنا ھو گا بے شرموں سے دنیا بری پڑی ھے اور میرا تو واسطہ ھی ان سے ھے دوستوں اگر کل میں آپ کو ملوں اور آپ کی ملاقات ایک مختلف انسان سے ھو تو سمجھ لیجئے گا آپکی طرح کا ایک انسان آپکے سامنے کھڑا ھے اور سوچ سمجھ کر بات کیجئے گا اینٹ کا جواب اینٹ سے ھی آئے گا پتھر سے نہیں فوٹوگرافر دوستوں اور ساتھیوں کیلئے جو محبت شفقت کر سکتا تھا کی انکو جو موقعہ ملا انھوں نے نقصان پہنچایا سب کو معاف کیا فوٹوگرافی نمائش کی بات ھوئی یا فوٹوگرافی کی کتابوں کی سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی اپنی ذات کو ہمیشہ ایک طرف رکھا میڈیا کی بات ھوئی تو سب میڈیا کو ایسے ھی بلایا جیسے اپنے کام کیلئے بلایا لیکن دنیا بہت ظالم ھے۔یہاں سٹیٹس اپنی ذات کے حوالے سے لکھا پچاس لوگوں کو تکلیف شروع ہوجاتی ھے بھائی جان کیا آپکی میری زندگی اتنی اہمیت ھے کہ آپکے لیئے فیس بک کی دیوار گندی کروں میں جو لکھتا ھوں اپنے دل سے لکھتا ھوں تصویریں اپنے لیئے کھینچتا ھوں اور روزانہ کی بنیاد پر کھینچتا ھوں کوشش کرتا ھوں تصویر سچ بولے اور اس کی کیپشن بھی نہ لکھنی پڑے کچھ دوست اسکو بھی سمجھتے ھیں کئی تصاویر جوڑی ھوئی ھیں اگر میرے کام سے آپکو ایسی تصاویر ملیں تو راھنمائی کیجئے کوئی بھی تصویر اگر سینڈوچ ھے شاید دو یا تین تو ان کے ساتھ لکھا ھوا ھے دو تصاویر کا سینڈوچ۔ مجھے پرواہ نہیں ایسے خود ساختہ دانشوروں کی اگر آپ کو میرا کام پسند نہیں تو برائے مہربانی نہ دیکھیں میں ہمیشہ دوستوں کے کہنے پر ان کی سیٹنگ بھی شیئر کرتا ھوں وہ بھی ان سے ھضم نہیں ھوتی تو میں کیا کروں۔دوسرے ممالک کے دورے پر جاو تو انکو موت پڑ جاتی ھے نمائش کرو تب انکو موت پڑ جاتی ھے اللہ کے فضل سے اپنے تجربے لکھتے ھیں اپنے کام کی نمائش کرتے ھیں کسی کا کام یا لکھا کبھی چوری نہیں کیا اگر آپکو پسند نہیں تو دیکھنے اور پڑھنے سے پرہیز کریں میں کوئی حکیم یا ڈاکٹر نہیں جو آپکی سب پریشانیوں کا علاج کروں اور نہ آپ میری ذمہ داری ھیں میں آزاد پیدا ھوا مجھے آزاد ھی رھنے دو میں دوزخ میں جاوں یا جنت میں میرا ذاتی مسئلہ ھے نہ تو آپ میری زندگی کو دوزخ بنانے کی کوشش کریں اور نہ ھی جنت۔ جو میرے اعمال ہونگے میرے اللہ انکے مطابق فیصلہ کر دیں گے اور مجھے قبول ھوگا یہ سب دوستوں اور دوست نما دشمنوں کو اطلاع عام ھے میں ہرگز غصے میں نہیں ھوں ھوش و حواس میں ھوں اور فیصلہ کر لیا ھے کون دشمن کون سجن ۔ عزت کرو عزت کرواو 
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے لیکن اب غلطی کی گنجائش نہیں ھے پہلے بہت دفعہ برداشت کیا اب نہیں اور درخواست ھے سمجھانے کی کوشش مت کیجئے گا میں دنیا کا وہ واحد بیوقوف ھوں جس کو خود پتہ ھے کہ میں بیوقوف ھوں اور آج مجھے اپنی بیوقوفی کا احساس ھوگیا جن ظالموں کیلئے زندگی وقف کی انکے ھاں میں لیٹ ھوں ھاں اب میں لیٹ ھوں اور مزید گنجائش نہیں ھے برداشت ختم برداشت والے سب تعلق ختم جو جو اس تحریر کو اپنے لیے سمجھے یہ واقعی اس کیلئے ھے اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ رب دے حوالے

Prev نیشنل آرٹسٹ کنونشن ۲۰۱۸
Next پتنگ

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.