بیس سال ساتھ ساتھ

بیس سال ساتھ ساتھ
تحریر محمد اظہر حفیظ
دسمبر 1998 میں بڑے بھائی کے دوست متین شہاب بھائی کی والدہ کی برسی تھی میرے بڑے بھائی محمدطارق حفیظ اور سعدیہ کے بڑے بھائی تنویر اصغر بھائی بھی شریک تھے کیونکہ یہ تینوں کلاس فیلو تھے اور بہت گہرے دوست طارق بھائی نے پوچھا کہ امی جی پوچھ رھی تھیں چھوٹی بہن کی شادی یا رشتہ کر دیا تنویر بھائی نہیں یار ابھی تک فائنل نہیں ھوا اور پھر کچھ دن بعد امی جی،ابو جی، باجی ثمینہ ،بھابھی اور طارق بھائی انکی طرف گئے اور بات بن گئی میں خبریں اخبار میں کام کرتا تھا۔ پھر بات چل نکلی اور 5 اپریل 1999 کو شادی خانہ آبادی انجام پائی۔ یوں بڑے بھائیوں کی دوستی رشتہ داری میں بدل گئی۔
تنویر بھائی اور امی جی سے درخواست کی گئی کہ ھم جہیز نہیں لینا چاھتے جی ھماری تو ایک بیٹی ھے پھر بہت درخواست کر کے کم از کم پر انکو منالیا۔ اور اباجی سے درخواست کی شادی سادگی سے کریں کسی کو مت بلائیں۔ ابا جی بھی نہ چاھتے ھوئے مان گئے۔
ابا جی ھمیشہ سے ھی وقت کے پابند تھے ایک پولیس والے کو گھر پر چھوڑ ھم چند گاڑیوں پر مشتمل ایک بارات لیکر شادی ھال پہنچے تو وھاں پر ابھی صفائی ھو رھی تھی ۔ ابا جی یار ایتھے تے کوئی وی نہیں آیا۔ میں گویا ھوا پتہ کرو مکر تے نئیں گئے۔ ابا جی کہنے لگے کدی تے بکواس بند کر لیا کر۔ اور تنویر بھائی نے گھر فون کیا کب تک نکلیں گے تو پولیس والے نے بتایا وہ تو دو بجے کے چلے گئے ھیں اور پھر ساری فیملی پہنچ گئی۔ اور شھباز شریف کی پابندی تھی سموسوں اور گلاب جامن سے تواضع ھوئی۔ وقت رخصتی ھوا تو تنویر بھائی اور توقیر بھائی چپ کھڑے تھے پر ظہیر بھائی دھاڑیں مار مار رو رھے تھے سجاد انور صاحب مجھے پوچھنے لگے یار دلہن کا یہ بھائی بہت رو رھا ھے میں نے کہا باقی دو نے مجھے پہلے دیکھا ھوا ھے اس نے آج پہلی دفعہ دیکھا ھے اس لیئے اس کی یہ حالت ھے ابا جی نے سن لیا مسکرائے یار تو باز نہیں رہ سکتا اور ھم گھر آگئے۔ تنویر بھائی کی بھی شادی ایک دن پہلے ھی ھوئی تھی ھماری بارات والے دن انکا ولیمہ تھا۔ 
اگلے دن ولیمہ کا انتظام تھا اور سب دوست شریک ھوئے۔ کئی پولیس والوں کو بھی پیسے دیتے دیکھا گیا۔ اور ھم نے آج سسرال جانا تھا۔ اور ولیمہ سے فارغ ھوکر ھم امرپورہ راولپنڈی چلے گئے۔ وہ جس کمرے میں ھمیں بٹھایا گیا وھاں تنویر بھائی کے جوتےپڑے تھے میں نے اپنے انکی جگہ رکھ دیئے اور انکے اپنے پاوں پاس رکھ لیئے، سعدیہ کی کزنز بھائی آرام سے بیٹھ جائیں پاوں اوپر پلنگ پر رکھ لیں اور میں بیٹھ گیا بہت احتیاط سے انھوں نے جوتے چھپائے اور کہنے لگیں پیسے دیں یا جوتے ڈھونڈ لیں اچھی طرح چھپا لیں بے شک سامنے والوں کی چھت پر پھینک دیں ایک منٹ میں تلاش کر لوں گا۔ جی ابھی آتی ھیں جب وہ واپس آئیں تو میں جوتے پہنے بیٹھا تھا سعدیہ ھنس رھی تھی۔ اور وہ سب سر پکڑے بھائی جان آپکا جوتا کہاں سے آیا جی جو آپ پھینک کر آئی ھیں وہ تنویر بھائی کا جوتا تھا۔ یہ لیں پیسے اور انکا جوتا لادیں۔ اور سب کو اندازہ ھوگیا ایک آرٹسٹ سے شادی ھوئی ھے۔
پھر ھم ھنی مون پر کچھ دن کیلئے مری چلے گئے خوب سیر کی ھاتھ تنگ ھی ھوتا تھا پر دل ھمیشہ سے بادشاہ سعدیہ کی پہلی سالگرہ ھم ساتھ کر رھے تھے اور کیک اور دو سوٹ پر اکتفا کیا۔ بیس سال سے دو سوٹ تو ھر دفعہ ھوتے ھیں اور کئی دفعہ جیولری بھی ساتھ شامل ھوجاتی ھے۔ ھماری بڑی خوشی علیزے باجی تھی جو سال 2000 میں تشریف لائیں مہینہ اپریل کا ھی تھا سو اپریل کا مہینہ بہت زیادہ مصروفیات اور اخراجات کا مہینہ ھے شادی کی سالگرہ اور دو اور سالگرہ پھر فاطمہ باجی ، عائشہ باجی اور عبیرہ باجی تشریف لے آئیں ۔ عائشہ باجی کی پہلی سالگرہ مکہ اور مدینہ میں کی ھم سات لوگ عمرہ پر گئے امی ابو اور ھم پانچ بہت یادگار اور مقدس سفر تھا۔ مجھے یاد ھے مجھے سعدیہ نےکہا یار ھوائی جہاز میں سفر کرنا ھے تو میں نے یکدم کہا مدینے چلیں گے۔ جہاز اڑا تو میں نے ہوچھا یاد ھے وعدہ کیا تھا پہلا ھوائی سفر مکہ اور مدینہ کا کریں گے الحمدللہ سچ ھوا۔ اور پھر بہت سے سفر ساتھ ساتھ کیئے ۔ امی جی 2011 میں ھمیں چھوڑ کر چلی گیئں اور ابا جی 2015 میں سعدیہ نے اور بچوں نے انکی بہت خدمت کی۔ 
اس کے بعد میں بدلنا شروع ھوا میری شرارت کی عادت بدل گئی کیونکہ امی اور ابو جی کے جانے نے مجھے یکسر بدل دیا۔ اور بیوی بچے شکایت کرنے لگے آپ بدل گئے ھیں پر انکو کیا بتاوں رات کو اکثر ماں باپ کو یاد کرکے روتا ھوں دن کو چپ رھتا ھوں۔ ملنا جلنا بہت کم کر دیا ھے بس کچھ دوست اور بیوی بچے۔
2019 کا سال ھمارے لیئے بہت یادگار ھے بڑی بیٹی نیشنل کالج آرٹس پڑھنے چلی گئی ۔ اور میری پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں ایک شاندار فوٹوگرافی کی نمائش ھوئی جس کو بہت سراھا گیا اور آج ھماری شادی کی بیسویں سالگرہ ھے ۔ بے شک اللہ کا بہترین انعام ھے نیک بیوی اور نیک اولاد شکر الحمدللہ۔ شکریہ سعدیہ کا جو میرے جیسے فضول انسان کو برداشت کرتی ھے۔ اور میرا ھر طرح سے خیال کرتی ھے اور میرے ھی جیسے میرے چار بچے انکو بھی برداشت کرتی ھے ۔ گھر میں پانچ فنکار ھیں اور ایک سعدیہ بیچاری کیونکہ پانچوں فنکار اکثر اوور ایکٹنگ کا شکار رھتے ھیں ۔ اور وہ بیماری تھکاوٹ کا شکار، سب کی ایک ھی آواز ھوتی ھے کچھ کھانے کو دے دیں، کپڑے رکھ دیں، جوتے کدھر ھیں ،جرابیں کہاں رکھی ھیں اور وہ اکیلی سب مینج کرتی ھے بہت احسن طریقے سے ۔ شکریہ سعدیہ اظہر اتنی اچھی شریک حیات ھونے کا، ایک اچھی ماں ھونے کا، ایک اچھی دوست ھونے کا، ایک اچھی بیٹی ھونے کا میری زندگی مکمل کرنے کا، شکریہ سلامت رھیں ساتھ ساتھ رھیں ھمیشہ امین۔

Prev پہلے جیسا
Next پابندیاں

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.