بے غیرت چور

بے غیرت چور
تحریر محمد اظہر حفیظ

مجھے نفرت ھے، میاں شہباز شریف چور سے میاں نواز شریف چور سے، جنہوں نے میٹرو بنائیں، موٹرویز بنائیں، اورنج ٹرین بنائی، پل بنائے، ائیرپورٹ بنائے، دل اور گردوں کے ھسپتال بنائے، ڈینگی مچھر کا صفایا کیا اور یہ بے شرم لوگ صرف کاغذوں میں بنا کر لوٹ مار کرکے بھاگ گئے۔ خود ارب پتی بن گئے اور یہاں خالی کاغذوں میں تعمیرات اور پراجیکٹ دکھاتے رھے ھیں، اور جاتے ھوئے فائلیں بھی جلا گئے، انکو شرم نہیں آتی اتنی بڑی بڑی کرپشن کرنے پر۔ ان کو سرعام کوڑے مارے جائیں، پھانسیاں دی جائیں، ان کی لاشوں کو جانور اور پرندے نوچیں، حرام کھانے والوں کا یہی حال ھونا چاھیئے ، اپنے ھی لوگوں کے ساتھ لڑائی کراتے رھے، بلوچستان میں وزیرستان میں اور کراچی میں، یہ کیا کم غداری ھے کہ اپنے ھی لوگوں کو ھلاک کرکے ان کو غدار کہنا، اور پھر پرامن پاکستان کے دعوے بھی کرنا اور فوج کی مدد سے پرامن پاکستان بنا بھی دینا، ایٹمی دھماکے کراکے ملک کو ھر ملک کے سامنے دشمن بنا کر کھڑا کردیا۔ یہ کیسی غیر سیاسی سوجھ بوجھ ھے، ایک لوھار اس سے آگے سوچ بھی کیا سکتا ھے۔ ملک کو تباھی کے دھانے پر لاکھڑا کیا، اسلام آباد سے ساڑھے پانچ گھنٹے میں جب ملتان پہنچا تو سمجھ آئی انھوں نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بھلا ایک سو بیس کی سپیڈ پر بھی کوئی گاڑی چلاتا ھے، حرام خوروں نے کیا کیا غلط نہیں کیا، پہلے ھم آرام سے سات سے آٹھ گھنٹوں میں لائلپور سے راولپنڈی آتے تھے یا پھر چھ گھنٹوں میں ملتان جاتے تھے، اتنا پیٹرول اور وقت بچا کر ھم نے کیا کرنا ھے، معاشیات دان کہتے ھیں سائیکل سواری معاشیات کے مخالف چیز ھے نہ ٹیکس نہ پیٹرول، ان چوروں نے تو حد ھی کردی۔ اللہ ان پر اپنا عذاب نازل کریں تاکہ رھتی دنیا تک لوگ انکے انجام سے عبرت حاصل کریں، جب بھی چور کا لفظ ادا ھوتا ھے تو یہ شوباز اور باو جی ھی ھم سب کے ذھن میں آتے ھیں، جب بھی صادق اور امین کی بات ھو تو قائداعظم محمد علی جناح صاحب کے بعد ایک ھی شخص وزیراعظم عمران خان نیازی صاحب کا نام سامنے آتا ھے ساری زندگی ایک بھی نو بال نہیں کرائی، کبھی جوا نہیں کھیلا، کبھی شراب نہیں پی، کبھی زنا نہیں کیا، کبھی رشوت نہیں لی، اور جو بھی کام شروع کیئے بغیر کسی لالچ کے انجام تک پہنچائے، بے شک وہ 1992 کا ورلڈ کپ ھو یا شوکت خانم ھسپتال، نمل یونیورسٹی میانوالی ھو یا پھر بلین ٹری سونامی ھو، پولیس فورس ھو یا پھر میٹرو بس سروس پشاور، ٹائیگر فورس ھو یا پھر ٹریفک پولیس، احساس پروگرام ھو یا پھر ساھیوال کے مجرموں کو انجام تک پہنچانا، گوردوارہ کرتارپور رھداری ایک ایسا منصوبہ تھا جس نے لداخ حاصل کرنے میں چائنہ کی بہت مدد کی، اسی لئے تو کہتے ھیں ھماری چائنہ سے دوستی ھمالیہ سے بھی بلند ھے، ھمارے وزیراعظم صاحب کا ھی ویژن ھے جو کرونا کو پاگل کردیا اب تو کرونا کو بھی سمجھ نہیں آرھی کس کو ھونا ھے اور کس کو نہیں ھونا ھے۔ کوئی بھی چور نسل کا نمائندہ یہ کام سرانجام نہیں دے سکتا تھا، یہ صرف میرا وزیراعظم میرا کپتان ھی کرسکتا تھا۔ شاید ھی کسی مسلمان کے پاس اپنی نمازوں کی مکمل تفصیل ھو ماسوائے میرے وزیراعظم کے الحمدللہ سارا ریکارڈ باتصویر موجود ھے، جماعت سے نماز ادا کرنے کا زیادہ ثواب ھے اگر فوٹوگرافر بھی نماز میں شامل ھوجایا کرے تو دو لوگ جماعت کا ثواب بھی لے سکتے ھیں، پر شاید تصویر رہ جائے، میرے وزیراعظم الحمدللہ نیب کے ساتھ ساتھ اللہ کے ھاں بھی کلیئر ھیں سارا ریکارڈ باتصویر موجود ھے۔
ھومیوپیتھک کے ڈاکٹر جب دوائی دیتے ھیں تو ساتھ بتاتے ھیں پہلے مرض کو مکمل جوبن پر لائیں گے پھر اسکو جڑ سے ختم کریں گے، آپ گھبرائیں مت، پانچ سال حکومت کو مکمل کرنے دیں انشاءاللہ ھر بیماری، چوری، چکاری، فراڈ کا علاج ھوگا پہلے اس کو اپنے جوبن پر آنے دیں، پھر دیکھنا کیسے بیماری کا علاج ھوتا ھے، دراصل میرے کپتان کو مشورہ دینے والے سب ھومیو پیتھک ڈاکٹر ھیں گھبرانا بلکل بھی نہیں ھے وقت لگے گا پر شفا ضرور ھوگی انشاءاللہ

Prev اپنے جذبات کا اظہار خود کیجئے
Next پانی

Comments are closed.

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.