خطا کے پتلے

خطا کے پتلے

تحریر محمد اظہر حفیظ

ھمارے زیادہ تر دوست احباب کئی کئی سالوں کی گفتگو میں سے غلطیاں تلاش کرتے رھتے ھیں اگر بیس سال کی ملاقات میں آپ نے ایک گالی دی ھے الٹی بات کی ھے تو وہ انکو یاد ھوتی ھے باقی وہ بھول جاتے ھیں 
یہ اصل میں سوچ کے بونے ھوتے ھیں جن میں آگے بڑھنے کا پہلو نہیں ھوتا۔
آپ انکو اگر پورا قرآن مجید بھی زبانی سنا دیں تو اخر میں انکی بات ایک زبر یا زیر آپ مس کر گئے ھو سے شروع ھوتی ھے۔
ھم عام زندگی میں ایک غلطی معاف نہیں کرتے الیکشن میں کہاں کریں گے۔
میرے خیال میں عمران خان صاحب بہترین مقرر ھیں انہوں نے بائیس سال میں کم از کم 1000 سے زیادہ تقاریر کی ھوں گی اور دو سے پانچ تقاریر میں جوش خطابت میں کچھ غلط لفظ ادا کر گئے کسی بھی بندے کو انکی باقی 995 تقاریر کا متن یاد نہیں پر سارے چینل اخبار سوشل میڈیا ان پانچ تقاریر کے محض پانچ الفاظ پر تشدد کر رھا ھے تھوڑی سی گنجائش کی درخواست ھے
شھباز شریف صاحب بھی اسی طرح ھزاروں تقاریر میں سے دو سے پانچ میں لوگوں کو گھسیٹتے رھے لوگ ان کے سارے کام بھول کر ان الفاظ کو یاد کرتے رھے سب دیواریں پل کالے کر دیئے
مرحوم جنید جمشید صاحب نے اپنی زندگی کو بدلا دین کی خدمت کیلئے اپنی ذات کو وقف کردیا اور ایک دن زبان لڑکھڑا گئی اور اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی کر بیٹھے اور آخری دم تک معافیاں مانگتے رھے اللہ انکو معاف کردیں امین لیکن ھمارے لوگ کیسے معاف کریں گے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب اس سلسلے میں بہت ڈھیٹ واقعہ ھوئے ھیں اکثر ھی ایسی حرکات کرتے اور معافیاں مانگتے نظر آتے ھیں۔
جب یہ ھوا چلی تو سردار ایاز صادق جو بہت تحمل والے مزاج کے مالک ھیں ایک دن غصے میں بہت کچھ کہہ گئے لوگوں کو وہ گالی بھی یاد ھوگئی
اسی طرح پرویز خٹک صاحب بھی پیپلزپارٹی کے جھنڈے کے متعلق ناگوار بات کر گئے حالانکہ بہت عرصہ وہ یہ جھنڈا اپنی چھاتی اور گھر پر لگاتے رھے ۔
الطاف حسین بھائی صاحب کی زبان درازیاں اور معافیاں تو سب کو یاد ھی ھیں
رانا ثناءاللہ نے ھمیشہ دبنگ بیان دیئے لیکن انکا آخری بیان جس میں حج کا ذکر آیا وہ غلط تھا اور انکو صفائیاں دیتے پہلی دفعہ دیکھا۔
سوچ سمجھ کر بات کرنی چاھیئے۔
اب کوئی بھی الیکشن کی تقریر میں ایک لفظ اوپر نیچے کر جائے پھر ساری زندگی صفائیاں ھی دیتا پھرے۔ 
اصل میں ھمیں بھی اپنے ذھنوں کو وسعت دینا پڑے گی اگر تو بات ھم تک رھے عام معافی ھے پر جب بات ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کی آل اولاد اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی ھو تو پھر معافی کی گنجائش نہیں ھے 
میرے ایک دوست ھیں جو میری باتیں پچھلے پانچ یا چھ سال سے بہت دھیان سے سنتے ھیں اور اس میں سے غلطیاں ڈھونڈتے ھیں مل جائے تو گفتگو میں شامل ھوجاتے ھیں ورنہ ناراض ھی رھتے ھیں جب بھی کسی بات کا مطلب پوچھیں تو اب میں صاف کہہ دیتا ھوں میں لڑنا نہیں چاھتا۔
جب بی ایم ڈبلیو کار یا مرسیڈیز کار پراڈو جیپ میں بیٹھا آدمی ٹریفک سگنل سرخ ھونے پر اپنے آپکو بدقسمت تصور کر لیتا ھے اور کہتا ھے یہ سب میرے ساتھ ھی کیوں تو اللہ کی قسم میری روح کانپ جاتی ھے اس کی یہ بدقسمتی دیکھ کر۔ اور جو اشارہ بند ھونے پر رومال بیچنے والےآجاتے ھیں اور شکر بجا لاتے ھیں کیونکہ ان کا رزق بند اشارے سے وابستہ ھے۔
میری ایک درخواست ھے آپ کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ھو یا نہ ھو اگر آپ اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کر لیں تو آپ کے مزاج کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی کافی بہتر ھو جائے گا۔ بے شک انسان خطا کا پتلا ھے۔
مثبت سوچیں
مثبت دیکھیں
مثبت سیکھیں
مثبت بولیں 
مثبت سنیں
مثبت تاثر دیں
ایک مثبت معاشرہ مثبت پاکستان
بنانے میں ھماری مدد کیجئے
پاکستان زندہ باد

Prev 26 جولائی 2018
Next نیا پاکستان

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.