دروازہ

دروازہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

دراوزہ ھر گھر کا پردہ ھوتا ھے۔ اور سیانے کہتے ھیں جس گھر کے دو دروازے ھوں دوسرا دروازہ چور دروازہ ھوتا ھے اور اس گھر کے مکیں قابل اعتماد نہیں ھوتے۔ 
دروازے کی ساخت یا بناوٹ گھر والوں کے مزاج کی عکاسی کرتی ھے کچھ لوگ پرانے دراوزے لگا کر خاندانی ھونے کی کوشش کرتے ھیں اور کچھ مہنگے دروازے لگا کر اپنی غریبی کا رونا روتے ھیں گجرات میں ایک جیولر کے گھر جانا ھوا تو انھوں نے فخریہ بتایا یہ دروازہ میں نے آٹھ لاکھ کا بنوایا ھے اور اس کے دونوں طرف جو کام ھے وہ بلکل ایک جیسا ھے ۔ دروازے گھر میں داخل ھونے یا باھر جانے کیلئے استعمال ھوتے ھیں ۔ کوئی بھی دروازہ آج تک حفاظتی دروازہ ثابت نہیں ھو سکا سب کا توڑ چوروں کے پاس ھے اور پاکپتن میں تو ایک بہشتی دروازہ بھی ھے جس سے گزرنے کیلئے اتنی دھکم پیل ھوتی ھے کہ کئی افراد ھر سال ھلاک ھوجاتے ھیں اور گھر جانے کی بجائے وھیں سے سیدھے جنت میں چلے جاتے ھیں۔ اور کچھ گزر کر وزیراعظم بن جاتے ھیں۔ پتہ نہیں میرے دوستوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی جنت اعمال کے بدلے ملے گی نہ کہ دروازوں سے گزر کر۔ دروازے تو مکہ میں مسجد الحرام کے اردگر بھی ھیں کوئی باب السلام ھے اور کوئی باب العزیز ھے پر ان میں سے بھی کسی میں ایسی کوئی خصوصیات نہیں بیان کی گئیں۔ 
جب ھم مسجد جاتے ھیں تو اندر داخل ھونے اور باھر نکلنے کی مختلف دعائیں بتائی گئیں ھیں۔ جنت کے بھی دروازے ھیں اور کچھ مہینوں میں وہ سب کھول دیئے جاتے ھیں اور ان میں داخلے کے لئے بھی آپ کے اعمال ھی دیکھے جائیں گے۔ 
دروازوں کا استعمال محاورں اور شاعری میں بھی بہت کیا گیا۔ دروازہ کھلا رکھنا ، دوبارہ میرے دروازے پر مت آنا، میں بہت امید لیکر آپکے دروازے پر آئی ھوں، دفع ھو جاو میرے دروازے ھمیشہ کیلئے تم پر بند ھوگئے ھیں، ربا اپنے رحمت کے دروازے کھول دے،
مرد حضرات بھی اپنے گھر کے دروازے ھی ھوتے ھیں بہت سے گھر تو ایسے ھیں جن کی چوکھٹ پر صرف کپڑا لٹک رھا ھوتا ھے کوئی اندر جھانکنے یا جانے کی کوشش نہیں کر سکتا جن گھروں میں مرد نہیں ھوتے لوگ سمجھتے ھیں کہ ان کے آھنی دروازے بھی آسانی سے کھولے یا توڑے جا سکتے ھیں ورنہ دیوار پھلانگنا کونسا مشکل کام ھے۔
جہاز میں کچھ دروازے عام حالات کیلئے اور کچھ ھنگامی حالات کیلئے ھوتے ھیں پتہ نہیں ھنگامی حالات والے کے آگے سلائیڈ کیوں لگی ھوتی ھے اور ھنگامی حالات میں اسکی ضرورت بھی پڑتی ھے یا نہیں ۔ ھنگامی حالات جیسے سنجیدہ کام میں سلائیڈ لینے کو کس کا دل کرتا ھوگا۔ کچھ دن پہلے ایک باجی نے باتھ روم کا دروازہ سمجھ کر ھنگامی دروازہ کھول دیا تھا شکر ھے جہاز کھڑا تھا ورنہ پتہ نہیں کتنے لوگ سلائیڈ کر جاتے۔ سوچتا ھوں کہ پی آئی اے کی ائیر ھوسٹس آنٹیاں اور انکل اس وقت کہاں مصروف تھے جب باجی نے دروازہ کھولا تھا۔ 
کچھ لوگ کہتے ھیں کہ حکومت میں بھی چور دروازے سے آیا جا سکتا ھے۔ اور دروازے سے کسی کی ویڈیو بھی بنائی جاسکتی ھے۔ اور دروازے سے ھیروئن بھی رکھی اور پکڑی جاسکتی ھے۔
جس طرح گاڑی کے پچھلے دروازوں میں بچوں کیلئے حفاظتی لاک ھوتے ھیں سب دروازوں میں ھونا چاھیئے تاکہ عزت محفوظ رھے۔ 
رکشے والے بھی سردیوں میں دروازے لگا لیتے ھیں تاکہ ٹھنڈی ھوا نہ آئے ۔ 
دروازہ ایک کارآمد چیز ھے اس کو ھلکا سا بند کرکے سخت قسم کے ڈھکن بھی کھول سکتے ھیں۔ اور دروازے میں آئی ھوئی انگلیوں کی تکلیف وہی سمجھ سکتا ھے جس کی انگلیاں کبھی دروازے میں آئی ھوں۔ لاھور میں تو 13 دروازے شہر میں داخل ھونے کیلئے تھے پر اب لاھور اتنا پھیل گیا ھے کہ سات سو دروازے بھی کسی کو نہیں روک سکتے۔ 
اب تو بڑے جدید دروازے آگئے ھیں ان پر سینسر لگے ھوتے ھیں جو اس کو خودبخود کھلنے اور بند ھونے میں مدد کرتے ھیں۔ میرے جیسے تو اس کا ھی مزا لیتے رھتے ھیں کبھی اندر کبھی باھر۔ 
سنا ھے شخصیت کے بھی چند دروازے ھوتے ھیں اور انکا پتہ آپکی زبان سے اور طور طریقوں سے چلتا ھے کہ آپ کون ھیں ۔ اللہ آپ کے سب دروازوں کی حفاظت فرمائیں اور آپ کیلئے جنت الفردوس کے دروازے کھول دیں امین۔

Prev لاھور عشق ھے 
Next صائمہ حسین

Comments are closed.