دکھ ،درد ، تکلیف

دکھ ،درد ، تکلیف
تحریر محمد اظہر حفیظ

ھر انسان درد اور تکلیف کو اپنے زاویے سے دیکھتا ھے محسوس کرتا ھے۔ 
ھر کوئی اپنے درد کو ھی
دنیا کا سب سے بڑا درد سمجھتا ھے۔ اور بیان کرتا ھے۔ 
حاجی ظفر حسین میرے دوست بھی ھیں اور بڑے بھائی بھی سونے کے کاروبار سے وابستہ ھے انکے بھائی کی وفات پر افسوس کرنے گیا تو کہنے لگے یار اظہر ایک گل دساں جی بھائی جان بندہ سمجھتا ھے کہ ماں باپ کا دنیا سے جانا ھی سب سے بڑا دکھ ھے پر کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ اپنے ساتھ کھیلنے والوں جوان ھونے والوں کے جنازے اٹھانا اور انکو دفنانا اس سے کہیں بڑا دکھ اور درد ھے ۔ یہ ایک نئی تعریف تھی درد کی۔
چاچا اقبال پچھلے بیس سال سے ساتھ ھے انکا جوان سال بیٹا یاسر اقبال اللہ پاس چلا گیا اس کو گئے آج ایک مہینے سے زیادہ ھوگیا ھے چاچا اقبال سے روز ملاقات ھوتی ھے چاچا میرے کمرے میں آتے ھیں میں پیار کرتا ھوں چاچا جی چائے پیئں گے نہیں اظہر صاحب۔ چاچا جو کہنا چاھتا ھے کہہ نہیں پاتا اور میرا اپنا دکھ بڑھ جاتا ھے میں چاھتا ھوں چاچا کچھ کہے پر چاچا کچھ کہے بغیر ھی چلا جاتا ھے۔ گم سم سے اور ڈھونڈتا پھرتا ھے اپنے یاسر اقبال کو پر اپنے ھاتھوں سے دفنائے کب واپس آتے ھیں یہ دکھ ظفر بھائی کے بتائے دکھ سے بھی بڑا ھے۔ اللہ سب کو ایسے دکھوں سے محفوظ رکھے آمین۔
میری امی جی اکثر اپنے والد صاحب کو یاد کرکے رونے لگ جاتیں تھیں ھم بھی انکے گلے لگ کر رونے لگ جاتے تھے۔ کہتی تھیں اظہر ھم بہت چھوٹے تھے ھماری ماں کا انتقال ھوگیا اور ھمارے میاں جی نے ھمیں ماں اور باپ بن کر پالا روتی جاتیں تھی اور سناتی جاتیں تھیں ھمارے میاں جی نے بہت دکھ کے پہاڑ دیکھے سرداراں بی بی میریری خالہ امی جی کی بہن کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے انکا بھی انتقال ھوگیا اب ان کے پانچ بچے بھی میاں جی ھی خیال رکھتے تھے۔ اکثر میاں جی کی داڑھی میں جوں نظر آجاتی تو کہتے پانچ بیٹیوں کے باپ کی ڈاڑھی میں ھوتی ھی ھیں اور پھر رونے لگ جاتی میں انکو اس دکھ سے نکالنے کی آخری وقت تک کوشش کرتا رھا پتہ نہیں کامیاب ھوا کہ نہیں ۔ ابا جی مجھے کہتے یار صاحب تیرے کول اننے کپڑے نے الماریاں بھری ھوئی ھیں فضول خرچی نہ کیا کر ھم تو سال بعد جوڑا بناتے تھے استری بھی نہیں ھوتی تھی تکیہ کے نیچے تہہ لگا کر رات کو رکھ لیتے تھے صبح تک پہننے کے قابل ھوجاتا تھا۔ وہ ساری عمر اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھتے رھے جو ممکن تھا کرتے رھے۔ 
بقول اشفاق احمد صاحب ھر بندے کی بغل میں اپنے دکھوں کے قبرستان کا ایک البم ھوتا جو وہ ھر وقت ساتھ لیئے پھرتا رھتا ھے۔ 
کچھ دوست ان دکھوں سے چھٹکارا پانے کیلئے نیند آور گولیاں کھاتے ھیں تاکہ غم دکھ درد کو بھول جائیں۔ میں نے کبھی نیند آور گولی تو نہیں کھائی پر ایک عجیب کشکمش کا شکار ھوں ۔ پہلے تو دکھ درد کی وجہ سے نیند نہیں آتی اور اگر آجائے تو خواب اسی مقام سے آگے شروع ھوجاتا ھے۔ کبھی تو خواب بیوی سے یا دوست سے شیئر کر لیتا ھوں اور کبھی چپ رھتا ھوں کیونکہ میرا خیال ھے کہ میں چپ رھنے میں بہت اچھا ھوں پر ایک پیمانہ دکھ درد میرے ساتھ لگا ھوا ھے جسے شوگر کہتے ھیں وہ بغیر کچھ کھائے پیئے بڑھ جاتی ھے اور میں پکڑا جاتا ھوں بیوی کہتی ھے خیریت ھے بار بار واش روم جارھے ھیں شوگر کیوں زیادہ ھوگئی ھے کیاپریشانی ھے کیا سوچ رھے ھیں تو یہ چپ کا پردہ بھی شوگر فاش کر دیتی ھے۔ کیمرہ اٹھا اٹھا میرے بازو اور کہنیاں شدید درد کرنے لگ گئی ھیں ساری رات نیند نہیں آتی۔ لیکن کل رات ایک انگلی میں اتنی تکلیف تھی کہ الحمدللہ ساری رات جاگتا رھا اور بازو درد کا خیال تک ذھن میں نہیں آیا تو پتہ چلا کہ پہلے درد سے زیادہ شدت کا درد مل جائے تو پہلا بھول جاتا ھے یہ بھی علاج درد کی ایک نئی سائنس ھے۔ آج بیگم صاحبہ کے شدید اصرار پر سی ایم ایچ کرنل ڈاکٹر امیر عالم جو ایکسپرٹ ھیں ان کے پاس حاضر ھوئے مکمل معائنہ کرنے کے بعد کیاآپ لان ٹینس یا اسکواش کھیلتے ھیں نہیں سر ابھی تو نہیں تیس سال پہلے کھیلتا تھا۔ اچھا ابھی کیا استعمال ھے بازو اور کہنیوں کا ۔ جناب فوٹوگرافی۔ اچھا تو آپ اس کثرت سے کیمرے اٹھاتے ھیں اور استعمال کرتے ھیں کہ آپ کے پٹھوں کو وہ مسئلہ ھوگیا ھے جو عام طور پر ٹینس یا اسکواش کے کھلاڑیوں کو پیش آتا ھے۔
میرے اللہ گواہ ھیں جب اسکی نسبت فوٹوگرافی سے ثابت ھوئی اس وقت سے درد کم ھے۔ چھ ھفتے کیلئے فزیوتھراپی کروانی ھے ۔ فوٹوگرافی کیلئے یہ بھی کروالیں گے کیونکہ اپنی پرواہ تو کم ھی کی ھے ھمیشہ دوسروں کے دکھ درد سننا مدد کرنا اور حوصلہ دینا ھی اپنی ذمہ داری رھی ھے۔ وہ جو کہتے ھیں نہ یہ جو لاھور سے محبت ھے دراصل یہ کسی اور سے محبت ھے۔ اب محبت فوٹوگرافی میں میں اپنا بھی خیال رکھا کروں گا۔ 
انشاءاللہ
میرا کل رات دل کر رھا تھا کہ امی جی ابو جی کو یاد کرکے رووں بہت درد تھی میرے ھاتھ میں میرے بازوں میں پر رویا نہیں کیونکہ مجھے چاچا اقبال کا چہرہ نہیں بھولتا۔ ھم روز ملتے ھیں نہ وہ کچھ کہتے ھیں اور نہ میں کچھ کہتا ھوں۔نہ وہ روتے ھیں نہ میں ھی روتا ھوں۔ بس چپ رھتے ھیں اور چپ کا لبادہ اوڑہ ھوا ھے میں ڈرتا ھوں اس وقت سے جب ھم دونوں رو پڑیں گے تو پھر ھمیں چپ کون کرائے گا۔ میرے تو امی ابو بھی اب اس دنیا میں نہیں ھیں ۔ دعاوں کی درخواست ھے سب کیلئے۔ جزاک اللہ خیر۔

Prev آرٹسٹ
Next خواب

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.