رتجگے

رتجگے

تحریر محمد اظہر حفیظ

رب نے رات سونے کیلئے بنائی ھے اور رب کے بندے رات عبادت میں گزار دیتے ھیں، رتجگے لفظ کو وھی سمجھ سکتا ھے جو راتوں کو جاگتا ھے، اس کے بغیر کسی کو یہ لفظ سمجھانا ممکن نہیں، رتجگے کی ایک اپنی لذت ھے جب سب سورھے ھوں اور آپ کائنات دیکھنے نکل پڑیں اور دنیا کو دکھائیں کہ رات کو رب کی کائنات کیسی ھوتی ھے، مجھے جاگتے کتنے برس ھوگئے ھیں اب تو مجھے یاد بھی نہیں پڑتا، جاگنے کیلئے عشق کا ھونا بہت ضروری ھے وہ رب سے ھو جائے اس کی مخلوق سے یا پھر اپنے ھنر سے

تو نیند آپکو بری لگنا شروع ھوجاتی ھے، فوٹوگرافی میں رات کو ستاروں کا چال چلن دیکھنا ھو تو جاگنا پڑتا ھے اور اگر روزانہ صبح آپ ایک نئی جگہ پر سورج طلوع ھوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو بہتر ھے رات کو اس سمت سفر کریں جس طرف کا آپ ارادہ کر چکے ھیں کہ اس طرف سورج طلوع ھوتا دیکھنا چاھتے ھیں، تو یقیننا آپ رتجگے سے لطف اندوز ھونا شروع ھوجائیں گے، کہتے ھیں کہ رزق کی تقسیم سورج طلوع ھونے سے پہلے کی جاتی ھے پر ھم نے تو رات کو رزق چھیننے والے بھی دیکھے اور رزق چوری کرنے والے بھی، اسی طرح اگر آپ رات میں تصاویر بنانا چاھتے ھیں تو یقیننا یہ قدرت کے شاہکاروں کا انعام ھوگا جس کا موقع سونے والوں کو نہیں ملتا، رات کی تمام عبادات افضل ھیں، میں نے رب کے عشق میں بھی جاگ کر دیکھا اور بندوں کے عشق میں بھی اور پھر اپنے ھنر کے عشق میں بھی، تینوں عشق میں نے کئے جن کیلئے رتجگے ضروری ھیں، اور میرے اللہ نے مجھے سرخرو بھی کیا شکر الحمدللہ،

ابھی ایک نیا سلسلہ شروع ھوگیا ھے جو پہلے ذھن میں نہیں آیا، درد اور تکلیف میں جاگنا، کچھ رتجگے خواب پانے کیلئے ھوتے ھیں اور کچھ خواب کھونے کے بعد، ان مسلسل رتجگے کے عوض میں نے اپنی صحت کھو دی مجھے اس کا نہ غم ھے اور نہ ھی دکھ کیونکہ اگر آپ پچاس سال کی زندگی میں ایک سو پچاس سال جی لیں تو پچھتاوا کیسا، کچھ دوست سونے، جاگنے کے گھنٹے گنتے ھیں ساری زندگی اتنے سال سو کر گزار دیئے اتنے سال کھانا کھانے میں، اتنے سال عبادت میں، اپنا حساب بہت سادہ ھے سب جاگنے کے ھی سال ھیں، اب درد اور تکلیف سونے نہیں دیتی اور میں رتجگے کا مزا لیتا رھتا ھوں، مجھے امید واثق ھے کہ میرے اللہ میرے رتجگوں کو میری عبادت میں شامل کردیں گے انشاءاللہ تو میری بچت کے بھی کچھ امکان روشن ھوجائیں گے، درد سے بھی اب دوستی ھوگئی ھے ۔ کل کہنے لگا یار تم چیز کیا ھو۔ جب بھی ھم تمھاری توجہ اپنی جانب مرکوز کروانا چاھتے ھیں تم کہیں اور نکل جاتے ھو، اس طرح ھماری توھین مت کرو اتنی شدت سے کسی اور کو چاھو تو وہ تمھارا ھوجائے، جتنی شدت سے ھم تمھارے ھوتے ھیں پر تم ٹھہرے سجن بے پرواہ کبھی ادھر کبھی ادھر نکل جاتے ھو۔ تمھیں پتہ ھے کہ چالیس دن مسلسل نماز ادا کرنے سے بندہ نمازی بن جاتا ھے، اور ھم اٹھارہ ماہ سے تمھارے ساتھ ھیں، یہ بے اعتنائی ھمیں پسند نہیں ھے اگر تم ھمارے نہیں ھو سکتے تو ھمیں اجازت دے دو، یہ کیا طریقہ ھے ھم تمھیں ساری رات جگاتے ھیں اور تم فجر کی اذان کے فورا بعد نماز پڑھتے ھو شکر ادا کرتے ھو شکرالحمدللہ آج درد نہ ھوتی تو نماز رہ جانی تھی، کبھی ھمارا بھی ذکر کرو، شکوہ کرو اپنے رب سے، اب درد کو کیسے سمجھاوں رتجگے تو ھوتے ھی شکر کیلئے ھیں۔

بقول شاعر

غم بہت دور تلک میرے ساتھ جوگئے

مجھ میں تھکن نہ پائی تو واپس لوٹ گئے

Prev نہ کر
Next لینڈ سلائیڈ

Comments are closed.