رتجگے

رتجگے
تحریر محمد اظہر حفیظ

مجھے شروع سے عادت ھے وقت سے پہلے اگلا منظر دیکھنے کی۔
جاسوسی کہانیاں پڑھتا تو پہلے اس کا انجام پڑھ لیتا تھا کہ انسپکٹر اشتیاق مر تو نہیں جائے گا ، عمران سیریز والا بچ جائے گا، اور تو اور تایا جی منیر کے ساتھ جب الف لیلی کے پروگرام دیکھنے انکے بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھتا تو کوشش ھوتی سامنے کی بجائے تھوڑا سائیڈ پر بیٹھ جاوں تاکہ اگلا سین جو آنے والا ھے اس کو پہلے دیکھ سکوں پر نظر کبھی نہیں آیا۔ جب ویڈیو پروڈکشن کو پڑھنا شروع کیا اور پتہ چلا کہ ٹی وی کا سگنل اپر فیلڈ اور لوئر فیلڈ میں نشر ھوتا ھے تو بہت مایوسی ھوئی اتنے سال ضائع کردیئے اگلا سین تلاش کرنے میں۔ پورا ھفتہ انتظار کرتا رھتا خواب دیکھتا رھتا شاید یوں ھوجائے شاید یوں ھوجائے، پر ویسا کبھی ھوجاتا اور کبھی نہیں بھی ھوتا تھا۔ پھر میں نے خواب دیکھنے چھوڑ دیئے، اور سونا بھی چھوڑ دیا،
اب میں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اپنے خواب پورے کرکے پھر انکو دیکھتا ھوں۔
راتوں کو جاگتے پتہ نہیں کتنی دھائیاں ھوگئیں، سوتا اس لئے نہیں کہ کوئی ایسا خواب نہ دیکھ لوں جو پورا نہ ھوسکے،
انیس سال زندگی کے دن رات سویا رھا، امی جی اکثر کہتیں تیری نیند پتہ نہیں کدوں پوری ھونی اے کی کی خواب ویکھدا رھندا ایں۔
خواب دیکھتا رھا اور مسرور ھوتا رھا، اب اکتیس سال ھوگئے ھیں ان انیس سالوں کے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے جاگتے ھوئے، نہ خواب پورے ھوتے ھیں نہ ھی نیند پوری ھوتی ھے، سوتا اس لئے نہیں کہ مزید خواب دیکھنے کا میں متحمل نہیں ھوسکتا،
میری ماں مجھے بڑا آدمی بنانا چاھتی تھیں۔ روتے ھوئے انھیں گلے لگا لیتا وہ بھی بلاوجہ روپڑتیں۔
مائیں ایسی ھی ھوتیں ھیں، بس بچوں کو روتے دیکھ تڑپ جانا رو دینا، کیا ھوا میرے لعل، ماں میرے لئے بڑے بڑے خواب نہ دیکھا کریں ۔ ابھی تو مجھ سے میرے اپنے خواب پورے نہیں ھوتے آپکے خواب کیسے پورے کروں گا،
امی جی جب مجھے اللہ تعالی نے بہن بھائیوں میں چھوٹا پیدا کیا ھے تو میں بڑا کیسے بن سکتا ھوں، مجھے چھوٹا ھی رھنے دیں، سچ بتاوں تو جب بھی انھوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا میں نے اپنے آپ کو بہت بڑا اور بہت خوش نصیب پایا،
ابا جی فوت ھونے سے دوسال قبل بیمار رھنا شروع ھوگئے امی جی کے فوت ھونے کے بعد وہ بھی امی جی بن گئے تھے غصہ چھوڑ دیا تھا اور مجھ سے گلے ملتے مشورے کرتے، میری ڈیوٹیاں لگاتے،
امی جی مجھے نام لیکر بلاتیں تھیں اور اباجی ھمیشہ صاب کہہ کر بلاتے تھے،
یار صاب اپنی بہن دا خیال رکھیں، جی اباجی، یار صاب اننی محنت نہ کیا کر، جی اباجی، یار صاب کننے پیسے کمانے نے جلدی گھر آجایا کر، یار صاب تیری گھر والی بہت اچھی ھے میرا بہت خیال رکھتی ھے بیٹیوں کی طرح سارا دن میرے آگے پیچھے ابو جی ابوجی کرتی ھے میری ھر چیز کا خیال کرتی ھے، یار صاب تیرے چچا نواز کے بیٹے عمر کیلئے کوئی بہتر نوکری دیکھ جی ابا جی، یار صاب جلدی سوجایا کر، یار صاب تیری فاطمہ ببر شیر ھے میرا۔ جی ابا جی، یار اننا سفر نہ کیا کر جی ابا جی، بہت تصویریں بناتے ھو پر صاب ان میں خود تو تو ھوتا نہیں کی فائدہ ، اباجی میں اپنے خوابوں کی تصویریں بناتا ھوں ، پھر کہتے کتنے پیسے ضائع کرتے ھو نمائشیں کرتے ھو کی فائدہ ان سب کا، اباجی جو خواب نہیں دیکھ سکتے ان سبکو اسکی تکمیل دکھاتا ھوں، بس باتیں ھوتیں رھتیں تھیں اور پھر ابا جی بھی چلے گئے،
وقت گزر رھا ھے میں ھوں میرے خواب ھیں اور میرے رتجگے۔
مجھے اب عادت ھوگئی ھے کھلی آنکھوں سب دیکھنے کی، اللہ تعالی کی ساری کائنات کھلی آنکھوں سے دیکھنا اور اللہ کی مخلوق کو دکھانا چاھتا ھوں۔
مجھے اب کئی کہانیوں کو پڑھنے سے پہلے انجام معلوم ھوجاتا ھے کیونکہ میں نے اتنی کہانیوں کے انجام پڑھ لئے ھیں۔ کہانی سیاسی ھو، دینی ھو یا دنیاوی انجام کا اندازہ ھوجاتا ھے۔ کہ کیا ھونے والا ھے اکثر خاموش رھتا ھوں۔ اگر بتادوں تو لوگ سورس پوچھنا شروع کر دیتے ھیں، کیا بتاوں کہ یہ سب کہانیاں میں نے بچپن میں ھی پڑھ لیں تھیں۔ اور پڑھنے سے پہلے انکے انجام بھی پڑھ لئے تھے۔
آھستہ آھستہ سمجھ آنا شروع ھوگیا ھے کہ رتجگے کیوں ضروری ھیں اور عاشقوں کو نیند کیوں نہیں آتی،
عشق کوئی بھی ھو، رب سے ھو، اس کے بندوں سے ھو، یا پھر کسی فن سے اس کی معراج حاصل کرنے کیلئے رتجگے بہت ضروری ھیں، اگر یقین نہیں آتا تو جاگ کر دیکھ لیجئے، کیونکہ دیکھنے کیلئے جاگنا بہت ضروری ھے ۔ سوئے ھوئے تو صرف آپ خواب ھی دیکھ سکتے ھیں تکمیل نہیں۔
فیصلہ آپ کا ھے خواب دیکھنے ھیں یا پھر انکی تکمیل۔
جاگ جایئے اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیے، یا پھر خوابوں کی تعبیر والی کتاب خریدئے اور اپنے خوابوں کی تعبیر پڑھیئے خوش ھوجائے۔ آپ نے بہت اچھا خواب دیکھا ھے سب کو سنائیے، میں خواب میں بادشاہ بنا ھوا تھا، دربار لگایا ھوا تھا یکدم میرے منہ سے تخلیہ نکل گیا بس پھر پچھتاوا ھی رہ گیا خواب تو چلا گیا۔ بچے ماں سے ناشتے کا پوچھ رھے تھے اور انکی ماں بول رھی تھی بادشاہ سلامت سو رھے ھیں خواب خرگوش سے اٹھیں گے مزدوری کرکے کچھ لائیں گے تو ناشتہ بناوں گی۔ جاگ جایئے میرے بادشاہ سلامت قوم بھوک و افلاس سے مر جائے گی، اور آپ ھمیں اپنے خواب ھی سناتے رہ جائیں گے۔ ویسے جب عوام کو نیند نہیں آتی تو یہ حکمران بے فکرے ھو کر کیسے سوسکتے ھیں۔
جاگئے اور سوچئے ۔

Prev پانی
Next سوچنے تو دے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.