سایہ

سایہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

ھر درخت کا مختلف سایہ ھوتاھے اور مزہ اور فوائد بھی مختلف ھوتے ھیں ۔ ٹاہلی کا سایہ بھی عجیب ھوتا ھے تھوڑا سایہ تھوڑی دھوپ سوچتا تھا اس سائے کا کیا فائدہ وقت نے بتلایا کہ یہ آپنے آس پاس پنپنے والوں کو نہیں روکتا اس کے نیچے درخت بھی ھوجاتے ھیں اور فصل بھی سوچتا ھوں انسان کو ٹاہلی کے درخت کی طرح سایہ دار ھونا چاھیئے جو سایہ بھی دے اور آگے بڑھنے کا موقع بھی دے اگر زمین پر ھل چلا ھو اور پھر زمین ھموار کردی جائے تو ٹاہلی کے درخت کے نیچے جو ٹھنڈ اور خوشبو ملتی ھے وہ کسی کو کہیں کم ھی نصیب ھوتی ھے، پھر برگد کا درخت دیکھا اتنا گھنا سایہ کہ رات کا گمان ھو ۔ نہ نیچے سکون ملے نہ گھاس اور نہ کوئی پودا بس ایک بہتر استعمال سنا کہ گوتم بدھ صاحب اس کے نیچے عبادت کرتے تھے اس لئے اس کو بدھا ٹری بھی کہتے ھیں، پھر دیکھا پیپل کا درخت سایہ تو کم گھنا ھے برگد سے پر پتہ نہیں کیوں پرندے اس پر بیٹھنا اور نیچے سے گزرنے اور بیٹھنے والوں کو اپنا نشانہ بنانا فرض سمجھتے ھیں اس لئے لوگ بیٹھنے کی بجائے دوڑ کر گزرنا پسند کرتے ھیں تاکہ ان کی کاروائی سے بچ سکیں، نیم کے درخت کا سایہ جراثیم کش بھی ھوتا ھے اور اس پر نمولیاں بھی ھوتی ھیں اس سے گھر بھی بیماریوں سے پاک رھتا ھے سایہ بہت مفید ھے۔ دریک کا سایہ بھی بہت مفید ھے اور اس پر لگے ڈیکانوں بھی دیکھنے میں بہت خوش شکل لگتے ھیں بچے بھی خوب کھیلتے ھیں کیکر کا درخت خود ھی اگ آتا ھے سایہ دار ھوتا ھے اور اس کی پھلیاں بھی خوش ذائقہ ھوتی ھیں بس کانٹے بہت تیز ھوتے ھیں یہ ھرا درخت سائے کیلئے اور خشک حفاظتی باڑ کے طور پر استعمال ھوتا ھے، شریں کا درخت خوبصورت ھوتا ھے سایہ بھی اچھا اور پھلیاں بھی بڑی ھوتی ھیں پر کھانے کے قابل نہیں ھوتیں۔ آم کے درخت کا سایہ اور پھل دونوں ھی کمال کے ھوتے ھیں پر گہرا سایہ ھوتا ھے برگد کے درخت کی طرح کا۔آمرود کا درخت پھل دار تو ھوتا ھے پر سایہ کسی کام کا نہیں ھوتا نیچے بیٹھنے پر طوطے آپ کا نشانہ لیتے رھتے ھیں پھل کھا کھا کر پھینکتے رھتے ھیں۔ کننو، مالٹے، مسمی، فروٹر ان بیچاروں کا تو کوئی اپنا درخت ھی نہیں ھوتا قد میں بھی چھوٹے اور کھٹی کے درخت کو مختلف پیوند لگا کر کچھ سے کچھ بنا دیا جاتا ھے۔ اللہ کی شان ھے سب درخت، خود پتہ نہیں ھوتا مجھ سے کیا پھل لیا جائے گا سائے کیلئے تو ھوتا ھی نہیں ھے۔ بیری کا درخت بھی اچھا پھلدار اور سایہ دار درخت ھوتا ھے اس کے پتوں کی اھمیت فوت ھونے پر پتہ چلتی ھے کیونکہ یہ بھی جراثیم کش ھوتے ھیں اور مردوں کو نہلانے والے پانی میں شامل کئے جاتے ھیں۔ سایہ بھی اچھا ھے غریب پرور درخت ھے سستا پھل اور سایہ مہیا کرتا ھے ھر حالات میں پل جاتا ھے۔درخت تو کجھور کا بھی ھے سایہ بھی دور اور پھل بھی دور۔ پر اس کی عظمت یہ ھے کہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کے بہت سے باغ لگائے اور اس کو عزت و تکریم بخشی۔ جب آپ افریقہ میں ھوں اور وھاں درخت صرف کیکر کا ھو اور آپ سائے میں بھی نہیں آسکتے کیونکہ چیتا بھی انہیں درختوں پر رھتا ھے اور سینکڑوں ھرن، زیبرے، نیل گائے اس سائے کو بھی عافیت سمجھتے ھیں تو سائے کی اھمیت کا اندازہ ھوتا ھے۔ میں یہ سارے سائے دیکھتا رھا اندازے لگاتا رھا۔ پھر میرا مدینے جانا ھوا۔ عجیب کرامات والا شہر ھے جس کی دھوپ بھی سایہ ھی محسوس ھوتی ھے ایسے سائے کا تجربہ کہیں اور نہیں ھوا۔ ابھی میں اسی دھوپ چھاوں سے کھیل رھا تھا کہ میری والدہ مجھ سے بچھڑ گیئں اور دور کہیں کوئی گا رھا تھا کہ جیناں دے گھر وچ ماں نئیں ھوندی اونادے ویڑے چھاں نہیں ھوندی ۔ میں پہلے تو رودیا۔ یہ کیا بات ھوئی پھر میرے ابا جی ماں اور باپ دونوں بن کر مجھ پر سایہ کرنے لگے اور میں پھر چھاوں میں ھی رھا اور چار سال بعد ابا جی بھی اللہ پاس چلے گئے۔ میں بہت دوڑا بھاگا پر کہیں چھاں نہیں تھی۔ میں دھوپ میں کھڑا تھا اور میرے سائے میں کچھ لوگ بیٹھے تھے غور کیا کہ وہ میرے بیوی بچے بہن بھائی تھے۔ کسی فلم کا ڈائیلاگ چل رھا تھا کہ بننا ھے تو درخت بنو جو خود تو دھوپ میں کھڑا ھوتا ھے پر دوسروں کیلئے سایہ دیتا ھے اب سوچ رھا ھوں کونسا درخت بننا ھے جس کے نیچے اور لوگ پنپ سکیں یا پھر ایک ایسا شجر ممنوعہ جو سایہ تو دیتا ھے پر کسی کو اگنے یا اگے بڑھنے نہیں دیتا۔ سنا تھا کہ ایک نسل درخت لگاتی ھے اور اور دوسری نسل اس کے سایہ میں بیٹھتی ھے اور پھل کھاتی ھے مجھے محسوس ھو رھا ھے کہ دوسری نسل اب تیار ھے اور ھمیں سایہ کرنا ھے پھل دینا ھے اور کچھ نئے درخت بھی لگانے ھیں آنے والی نسلوں کیلئے۔ یہ سلسلے کئی صدیوں سے جاری ھیں اور رھیں گے۔ انشاءاللہ

Prev جب ھم چھوٹے تھے تو اچھے تھے
Next گڈی گڈے دی شادی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.