ستارے

ستارے

تحریر محمد اظہر حفیظ

میرے گاوں تو پیارا تھا ہی زندگی بھی سادہ اور پیاری ہی تھی کیا کیا بتاوں اپنے گاوں کے بارے میں کھیل بھی نرالے تھے آسمان ستاروں والے ہوتے تھے اور ہمارا کھیل صحن میں بستر پر لیٹ کر ستارے گننا ہوتا تھا شاید ہی کوئی ستارہ ہو جو ہم نے نہ شمار کیا ہو۔ کچھ دریافت ہوگئے تھے اور کچھ بعد میں دریافت ہورہے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ ہم نے سب گنے ہوئے ہیں، شہروں میں ستارے دیکھنے کیلئے دوربین ہوتی ہے گاوں میں بس رات ہوتی ہے ۔ شہر والے بیچارے ستارے دیکھنے دوسرے شہرجاتے ہیں کوئی فیری میڈوز جاتا ہے کوئی بابو سر ٹاب جاتا ہے اور کوئی دیوسائی جاتا ہے آپ اندازہ لگائیں میرا گاوں کتنا پیارا ہے رات ہوتے ہی ستارے ہمارے صحن میں آجاتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے یہ ستارے آہستہ آہستہ چل رہے ہوتے ہیں۔ اگر رات میں آنکھ کھل جائے تو یہ جگہ بدل چکے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ستارے تیزی سے بھاگ جاتے ہیں اور امی جی کہتی تھیں جب ستارے کو ٹوٹتے دیکھو تو دعا مانگتے ہیں اور میں کہتا تھا امی جی ٹوٹتے کو دیکھ کر کیا دعا کرنی۔ پھر امی جی کہنے لگی بیٹے ان کے ٹکڑے زمین پر بھی گر جاتے ہیں اور بہت تباہی مچاتے ہیں اور انکو شہاب ثاقب کہتے ہیں۔ پھر ڈر کی وجہ سے دعا کرنا شروع کردی یار ستارے ساڈے تے نہ ڈگیں، اور ساری عمر شہاب اور ثاقب نام کے انسانوں سے ڈرتے رہے کہ گر ہی نہ جائیں، بڑے ہوئے تو ایک کتاب شہاب نامہ ملی کئی دفعہ پڑھی پر ہر دفعہ گرنے سے بچائی کہ نقصان نہ ہوجائے شاید اس کتاب کا حجم بھی شہاب ثاقب کو ذھن میں رکھ کر بنایا گیا تھا کہ جس پر گرے بچ نہ سکے، اچھے خاصے گھر کی چھت گرا سکتی ہے یہ کتاب۔ اسی سے اندازہ ہوا شہاب ثاقب کتنا بڑا ہوگا۔

پھر پتہ چلا کہ ستاروں کا بھی علم ہوتا ہے بڑی تن دہی سے حاصل کرنا شروع کیا مکمل جھوٹ تھا ہماری ستارے گنتے رات اور گنتی دونوں ختم ھوجاتیں تھیں اور یہ کہتے ہیں یہ بارہ قسم کے ہوتے ہیں ، مجھے گاوں کا،سادہ بچہ سمجھتے جس نے سارے ستارے بقلم خود گنے ہوئے ہیں۔ ان بارہ کے بارے میں پانچ سال پڑھا پر مجھے اپنے گاوں کے سارے ستارے اچھے لگے جن کو گنتے میٹھی نیند اور خواب آتے تھے اور یہ بارہ ستارے پڑھ کر نیند اڑ جاتی ہے، رب نے بنائے اربوں کھربوں ستارے اور شہر والوں کو نظر آئے صرف بارہ اور وہ بھی ہر مہینے ایک، کوئی منن والی گل ہے بھلا۔ ستارے دیکھنے کیلئے کسی عینک کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، لوگ فجر اور عشاء کی نماز بھی ستاروں کی سمت دیکھ اندازہ لگاتے ہیں کہ وقت کیا ہوا ہے۔ گاوں کے لوگ راستے بھی ستاروں کی مدد سے ڈھونڈتے ہیں ، اب ایک مزے کی بات بتاوں گاوں میں گوگل کے نقشے بھی نہیں ہوتے، یہ سب شہروں کے رواج ہیں۔ سنا ہے اب تو گوگل کا سکائی نقشہ بھی آگیا ہے جس کی مدد سے آپ ستارے اور کہکشاں تلاش کر سکتے ہیں پرساڈے کسے کم دا نہیں سانوں تے ویسے ای پتہ اے کیڑا ستارہ کتھے اے۔ اسی تے ہمیشہ آپ چن ویکھ کے عید کیتی تے مبارکباد دیتی، شہروں میں عجیب رواج ہے کچھ لوگوں کی کمیٹی چاند دیکھتی ہے باقی کچھ اندھے لوگ ہیں اور کچھ مصروف کہ عید کا چاند تک نہیں دیکھ سکتے جب ان کو سمجھاو تو عقل مند بھی شدید ہیں 13 اگست کو چھت پر 14 اگست کا چاند دیکھنے چھت پر چڑھے ہوتے ہیں ، کبھی کبھی سوچتا شہر کے لوگ کتنے غریب ہیں کہ جن کے تو اپنے ستارے بھی نہیں ہوتے یہ بیچارے ڈراموں اور فلموں میں کام کرنے والوں کو ستارے کہتے ہیں ، ساری سردیاں تو یہ چاند اور سورج سے بھی محروم رہتے ہیں کہ فضائی آلودگی بہت ہے کوئی ان سے پوچھے اس کے ذمہ دار بھی تو خود ہو ہمارے گاوں تک بھی یہ آنا شروع ہوگئی ہے۔ ہر سال زیادہ سے زیادہ ہوتی جارہی ہے، کیا اب بھلا ہماری سائیکلیں ، تانگے، ریڑھے، گڈے فضائی آلودگی کا باعث بنیں گے یا پھر تمھاری گاڑیاں ، فیکڑیاں یہ نیک کام سر انجام دیں گی، مجھے زیادہ عقل تو نہیں ہے پر ایک گزارش ہے سب اپنے اپنے ستارے بچا لو ، آپکی وجہ سے ہمارے گاوں میں بھی ستارے کم ہوتے جارے ہیں ، اب کئی دفعہ نظر نہیں آتے۔ آپکو پتہ ہے ہماری امی جی تو چاند کو دیکھ کر چاند کی کہانیاں سناتیں یہ چندا ماموں ہیں، اور کبھی نظمیں چندا ماموں دور کے، آپ کو تو شاید آپ کی امی جی بلیک شیپ کی نظم سناتی ہیں، کیا آپ نے چاند میں رہنے والی اماں جی دیکھی ہے جو چرخہ کاتتی ہے پر کہاں آپ کو تو چرخے کا ہی نہیں پتہ ، روئی سے دھاگہ بنانے والی مشین کو گاوں میں چرخہ کہتے ہیں ، اور اس کا کوئی شور بھی نہیں ہوتا یہ ٹھک ٹھک والی مشینیں صرف شہروں میں ہوتی ہیں، اگر ستارے دیکھنے اور گننے ہیں تو کبھی آو نہ ہمارے گاوں صحن میں سوئیں گے پنکھے کے پاس والی چارپائی آپکی، میرا پکا وعدہ ہے۔ میرے گاوں میں ہمیں سب جانتے ہیں بس پوچھ لینا میاں صاحب دا گھر کیڑا اے ،ابا جی کو سب گاوں والے میاں صاحب کہتے ہیں۔ وہ اب اللہ پاس ہوتے ہیں اور آسمانوں پر ستاروں کی مانند جگمگاتے ہیں۔ اور میرے ابا جی مجھے صاحب کہتے ہیں ، انکا صاحب ستاروں میں انکو دیکھ کر روتا رہتا ہے پتہ نہیں خوش کیوں نہیں ہوتا ۔ جب بھی آپ دو ستارے ساتھ ساتھ دیکھو تو سمجھ جانا وہ میرے امی جی اور ابو جی ہیں ان کیلئے دعا کرنا ۔ جزاک اللہ خیر۔ یہ وہ ستارے ہیں جو زمین سے ٹوٹ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں پر کسی کا نقصان نہیں کرتے ۔ اگر آپکے ستارے آپکے ساتھ ہیں تو انکی خدمت کیجئے شفقت سے پیش آئیے یہ جاکر واپس نہیں آتے۔ اللہ ان سب ستاروں کا بھلا کریں آمین۔ ہم سب بھی ایک دن ستارہ ہوجائیں گے۔ اللہ آسانی والا معاملہ کریں آمین

Prev کئیر کے معیار بدل رہے ہیں
Next صراط مستقیم

Comments are closed.