ستارے

ستارے
تحریر محمد اظہر حفیظ
جب ھم گاوں میں رھتے تھے تو گرمیوں کی راتوں میں صحن میں سوتے تھے۔ بستر بہت ٹھنڈے محسوس ھوتے تھے ان پر لیٹ کر میں آسمان کو دیکھتا تھا تو مجھے اپنے اور ستاروں کے درمیان تیرتے کچھ ھجے نظر آتے کبھی وہ دائیں طرف جاتے اور کبھی بائیں طرف پھر میں ان کو نظر انداز کرتا اور ستاروں کو دیکھنے لگتا کوئی ستارہ زیادہ چمکتا اور کوئی کم مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں تھا میں تو بس دیکھتا رھتا تھا اور دیکھتے دیکھتے سوجاتا۔
گاوں سے ھم راولپنڈی آگئے اب ستارے مجھ سے کھو گئے میں ھر طرف دیکھتا تھا پر نظر نہیں آتے تھے پھر جاننے کی کوشش بہت کی لیکن ستارے نہ ملے، پھر پتہ چلا کہ فلمی ستارے ھوتے ھیں بہت کوشش کی انکو نزدیک سے دیکھنے کی پر نظر نہیں ائے میں آج پہلی دفعہ بتارھا ھوں مجھے ستارے بہت اچھے لگتے تھے۔ پھر کسی نے بتایا کہ شہاب ثاقب بھی ٹوٹے ھوئے ستارے ھوتے ھیں اور یہ زمین پر گریں تو تباھی مچا دیتے ھیں میں ڈر گیا اس کے بعد نہ ستارے دیکھنے کی کوشش کی اور نہ باھر سونے کی، تھوڑا بڑا ھوافلمی ستارے دیکھنے کا موقعہ ملا تو یقین ھوگیا کہ واقعی جب یہ ستارے ٹوٹتے ھیں تو شہاب ثاقب بن جاتے ھیں جس پر ٹوٹتے ھیں یا جس پر ٹوٹ جائیں اس کو تباہ برباد کر دیتے ھیں ستاروں سے ڈر لگنے لگا اور نفرت بھی ھونے لگی۔ عثمان عادل بٹ بہت قریبی دوست ھیں ھم ایک لمبے سفر پر نکلے اسلام آباد سے بہاولپور ملتان اور واپس اسلام آباد۔ سفر میں دوستی مزید گہری ھوگئی لیکن عثمان بٹ صاحب مجھے ستاروں کا نظام سمجھانے لگ گئے وہ مجھے پیار سے آقا کہتے ھیں کہنے لگا آقا ھوسکتا ھے کوئی ستارہ جو چمک رھا ھو وہ ھزار سال پہلے چمکا ھو اور ھم اسکی روشنی آج دیکھ رھے ھوں اور یہ بھی ھوسکتا ھے کہ ھم دوربین سے اس کا مشاھدہ کریں تو وہ ستارہ اپنی جگہ پر نہ ھو ٹوٹ کر تباہ برباد ھوگیا ھو۔ اچھا بٹ جی وہ پھر جاتا کہاں ھے تباہ ھوکر کسی آس پاس والے ستارے پر گر جاتا ھوگا شکر الحمدللہ آقا جی کیا ھوگیا دھیان سے گاڑی چلائیں شکر کس چیز کا ادا کیا ھے بٹ صاحب مذاق نہ اڑانا، میرا خیال تھا سارے ستارے ٹوٹ کر ھماری زمین پر ھی گرتے ھیں ۔ اور میں ان سے ڈرتا اور بچتا پھرتا تھا۔ 
بٹ صاحب ھنسنے لگے آقا مذاق تو نہ کریں۔
پھر فیری میڈوز جانے کا اتفاق ھوا اس سے پہلے بگ مون تھا بھائی عبدالستار کھوکھر کہنے لگے اظہر جی سکائی میپ ایپ انسٹال کر لیں آپ کو ستارے ڈھونڈنے میں مدد دے گی واقعی کمال ایپ ھے پورے اسمان سے ھر ستارہ ڈھونڈ دیتی ھے شکریہ کھوکھر بھائی۔ بڑا تھکا دینے والا سفر تھا فیری میڈوز پہنچے اور وھاں ستارے اور کہکشاں بہت نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ بہت سی تصویریں بنائی اور ٹوٹتے ستارے بھی دیکھے پر ڈر نہیں لگا۔ بلکہ بہت مزا آیا۔ایک دن جے پی جی فارمیٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رھا تھا سمجھانے والے دوست شفقت نواز ملک کہنے لگے یار اظہر یہ لوسی فارمیٹ ھے ڈیٹا کا نقصان کرتا ھے اس کے درمیان کیٹس اور ڈوگز بنا دیتا ھے شفقت بھائی نظر تو نہیں آتے۔ اچھا ان کو ذرا زوم کرو فوٹوشاپ میں جب زوم کیا تو اس میں ویسے ھی ھجے نظر آنے لگے جیسے گاوں میں ستاروں اور میرے درمیان آتے تھے کامے اور ڈاٹس میں ھنس دیا یار شفقت یہ تو اپنے بہت پرانے واقف ھیں تو شفقت بھائی ھنسنے لگے یار انہی کو کیٹس اور ڈوگز کہتے ھیں جہاں سے ڈیٹا مس ھوتا ھے وھاں کمپیوٹر ان کو بنا دیتے ھیں۔ یہی نقصان ھے اس فارمیٹ کا ۔ 
مجھے اس دن اندازہ ھوا میں تو پیدائشی فوٹوگرافر تھا اور کمپیوٹر کو سمجھتا تھا ۔ بس ان کا نام نہیں آتا تھا۔ کیٹس اینڈ ڈاگز۔
جب آسمانی ستاروں اور فلمی ستاروں کی تباہ کاریاں دیکھ لیں تو میں نے ستاروں کا علم سیکھنے کی کوشش شروع کردی۔ 
پتہ چلا اللہ تعالی کی کائنات میں کروڑوں اربوں ستارے ھیں اور ھم نے انکو بارہ نام دے دیئے ھیں اور قسمت کا حال ان بارہ ستاروں کے ذریعے پتہ چلتا ھے پانچ سال بہت دل لگا کر پڑھا اور کچھ لوگوں کو ستاروں کی چال بھی بتائی تھوڑی سی میں نے بتائی باقی وہ خود بتا دیتے تھے۔
پھر ان سے بھی جان چھڑائی جب علاقہ اقبال صاحب کا شعر پڑھا ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ھیں۔
بس پھر ادھر جانے کی ٹھان لی ساتویں کی جنرل سائنس کی کتاب سنبھال کر رکھی ھوئی تھی کیونکہ میں آرٹس کا طالبعلم تھا۔ سائنسدانوں والی میں نے پڑھی ھی نہیں تھی۔ میاں ناظر ھمارے داد جی کے بھائی تھے ھمارے گھروں میں صرف ان کے گھر کنواں تھا ۔ تحقیق جاری تھی اور ایک بات پر دماغ پھنس گیا تھا زمین گول ھے زمین گول ھے رات کے آٹھ بجے چاند بلکل کھو(کنواں)کے اوپر ھوتا تھا۔ اور دن آٹھ بجے کھو کے نیچے کچھ سائنسی طبعیت کے دوست تھے ان سے مشورہ کیا وہ بھی میری تحقیق سے متاثر ھوئے لیکن مشورہ قیمتی دیا یار چودھویں کی رات کو چاند پر جانا یہ نہ ھو کوئی نکر ھی لگ جائے چوٹ نہ لگ جائے جب بھی کوئی کام کرنے لگو بس رکاوٹیں ھی رکاوٹیں چاند کی تیرویں والے دن۔ میں تیار شیار ھوا نیا سرخ لاچا باندھا کرتا پہنا اور سر پر صافہ رکھا اور کھو وچ چھال مار دیتی ۔ جاپہنچا چاند پر ۔ ابھی سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک جہاز آتے دیکھا جس میں سے ایک بندا نکلا سر پر ھیلمنٹ پیچھے دودھ کے ڈبے باندے ھوئے کینگرو کی طرح چل رھا تھا میں سمجھا کوئی گجر ھے دودھ بیچنے والا پھر خیال آیا امی تو کہتی تھے چندا ماما ۔ پوچھ ھی لیا ماما جی کی نام اے تہاڈا آواز آئی نیل آرم سٹرانگ واہ جی واہ چاء تے سنی سی سٹرانگ ھن نیل وی سٹرانگ آن لگ پیا۔ زمانہ بڑی ترقی کرگیا۔ نیل آرم سٹرانگ ۔
تم کون ھو ۔ جی محمد اظہر حفیظ۔ اس میرا حلیہ دیکھیا ایک بندہ جس دے سنگ تے کوئی نہیں پر دھوتی ھوا وچ معلق اے تے اس خلائی شٹل چھڈ دوڑ لا دیتی، سپر مین سپر مین۔ میں کھو دیاں سیڑھیاں چڑھیا تے گھر واپس آگیا بڑا رولا پیا ھویا سی چاند پر سپر مین کی دریافت تے ایک کالے بلکل میرے ورگے بندے دے گل وچ لاچا بنیا ھویا سی ۔ انیسویں صدی کی سب سے بڑی دریافت سپر مین۔ میں نے اس دن سے ستاروں سے دلچسپی لینا چھوڑ دی کیونکہ اے جھوٹ فریب توں علاوہ کجھ نہیں اصل گل کسے نوں وہ نہیں پتہ ماسوائے اس دے یہ اپنے مدار کے گرد گھوتے ھیں اور طے شدہ وقت پر دن اور رات کو لاتے ھیں ۔ اور یہی میرے اللہ کا نظام ھے ۔

Prev این سی اے میں پہلا دن
Next سمجھ نہیں آرھی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.