سوشل میڈیا

سوشل میڈیا

تحریر محمد اظہر حفیظ

جب سے سوشل میڈیا پر اکاونٹس بنائے ھیں، لگتا ھے ساری کائنات شاید یہیں سے کنٹرول ھورھی ھے، کچھ تو رب سے بھی سوشل میڈیا پر مخاطب ھوتے ھیں اور ساتھ دھمکی بھی لگاتے ھیں کہ اگر شیئر یا لائیک نہ کیا تو قیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا، انگلیوں کو ٹھنڈک پہنچانے کیلئے یہ ٹائپ کریں، کس کو کافر کہنا ھے یہ بھی یہ یہی بتاتے ھیں،

زندگی کا کافی عرصہ اخبارات سے وابستگی رھی، کچھ بڑے اخبارات تھے اور کچھ چھوٹے کچھ کی سرکولیشن زیادہ تھی اور کچھ کی کم، پھرھر سال کچھ نئے اخبار آنے شروع ھوگئے اور تنخواھیں بھی بہتر ھونا شروع ھوگئیں، پھر اخبارات بہت زیادہ ھوگئے، تنخواھیں ملنا تقریبا بند ھی ھوگئیں، کیونکہ اشتہارات کی مارکیٹ وھی تھی اور اشتہار لگانے والے بے شمار سب کا حصہ کم ھوتا چلا گیا، پھر کچھ اخبار صرف ڈمی اخبار تھے، اشتہار تو لے لیتے تھے پر چھپتے نہیں تھے۔ مزے دار بات یہ ھے کہ وہ بہت اچھی تعداد میں اے بی سی سرٹیفائیڈ بھی ھوجاتے تھے، پہلے ایک ھی ٹی وی چینل ھوتا تھا پھر کئی ھوگئے، پہلے پہل تو اخبارات نے چیننلز کے لائسنس لئے پھر بہت سارے کاروباری ادارے بھی اس کاروبار میں کود پڑے، چینل بنانے کی بات کروڑوں سے شروع ھوکر اربوں تک پہنچ گئی، کچھ لوگوں کی تو ماھانہ تنخواہ بھی کروڑوں میں سامنے آنے لگی، ھر بزنس گروپ نے اپنا اپنا اخبار اور چیننل بنا لیا کچھ ٹیکس بچانے کیلئے اس کو استعمال کرتے تھے اور کچھ بلیک میلنگ اور حکومت سے فوائد حاصل کرنے کیلئے اس کو استعمال کرتے ھیں، بات یہاں تک رھتی تو شاید ٹھیک تھی، پھر سوشل میڈیا کا آغاز ھوگیا، ڈمی اخبارات اور چینلز نے تو اپنے آپ کو سب سے بڑا اخبار اور چینل ثابت کرنے کی دوڑ شروع کردی، سکرین آواز اور تصویر کا ملاپ ھے جن کی نہ تو آواز ھے اور نہ ھی تصویرانھوں نے بھی اپنے بچوں کی پرزور فرمائش پر یوٹیوب چینل بنا لئے اور جتنے انکے اپنےبچے ھیں اتنے ھی انکے سبکرائبر ھیں، یوٹیوب پر بنی گھنٹی تو شاید انکے اپنے بچے بھی نہیں بجاتے کہ ابا یا اماں کی آنکھ ھی نہ کھل جائے، یوٹیوب کے زیادہ تر چینل جس خبر کو اشتہار کے طور پر لگاتے ھیں وہ خبر اس میں ھوتی ھی نہیں ھے، بس سنسنی پھیلانے کی ناکام کوششوں میں سب مصروف ھیں، جو ان چینلز کے نام ھیں الحمدللہ وہ نام بھی انکی خبر میں نہیں ھوتا جیسا کہ حقیقت ٹی وی، کچھ اخبار صرف سوشل میڈیا پر چھپتے ھیں اور مارکیٹ میں نظر نہیں آتے کچھ حق پر نہیں ھیں اور کچھ غیرمستحکم ھیں، جیسے کسی نے تبصرہ کرتے ھوئے کہا تھا کہ تحریک استقلال میں بس استقلال نہیں ھے اور تحریک انصاف میں انصاف نہیں ھے، تیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ھوں کئی اخبارات کا بانی کارکن بھی رھا، لیکن جس طرح آجکل اخبار اور چینل بن رھے ھیں بتانا چھوڑدیا ھے کہ میرا بھی اس شعبہ سے تعلق ھے، جب اردو اخبارات کیلئے کام کرتے تھے تو صاحب علم کہتے تھے کہ انگریزی اخبارات کی خبر پر حکومت ھل جاتی ھے پھر بھی بارہ صفحات سے لیکر بیس صفحات تک کے روزانہ کی بنیاد پر اخبارات چھپتے تھے، اور ھم فخر سے اردو اور انگریزی اخبارات کا حصہ تھے، تصویریں بناتے تھے ڈیزائن کرتے تھے، اگر نیشنل پریس کلب کے یا باقی پریس کلبز کے صاحب اختیار یہ بتا سکیں کہ پاکستان سے ٹوٹل کتنے اخبارات اور رسائل نکلتے ھیں اور کتنےچینلز ھیں یا کتنے سوشل میڈیا کے اخبار اور یوٹیوب کے نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پاکستانی چینلز ھیں تو شاید ممکن نہ ھو، کیونکہ یہ تو شاید پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی نہ پتہ ھو، ھر گاوں، ھر قصبے، ھر شہر، ھرصوبے کا اپنا اپنا پریس کلب ھے اور اس کے صدر بھی ھیں اور ان کے بیوی بچے اپنے ھی شہر کےصدارتی محل میں رھتے ھیں اور سب کے رویے بھی صدر والے ھیں نہ کسی قانون کو مانتے ھیں اور نہ ھی کسی اور کی، نیشنل پریس کلب کو چاھیئے کہ پاکستان کے سب پریس کلبز کو اپنے ساتھ رجسٹرڈ کریں انکو سرٹیفیکیٹ جاری کریں، بے روزگار عامل صحافیوں کیلئے روزگار کا بندوبست کریں، ماشاء اللہ نیشنل پریس کلب میں شکیل انجم بھائی اور انور رضا بھائی جیت کر سامنے آگئے ھیں بہت مبارک ھو، ان سے درخواست ھے گھاس کاٹنے کیلئے مالی رکھ لیں اور اس کو سپروائز کرنے کیلئے کوئی سپروائزر، اللہ نے آپ کو بہت عزت دی ھے صحافیوں کے مسائل پر توجہ دیں، انکے مسائل پلاٹ، مینگو پارٹی، سالانہ میڈیکل کیمپ، پریس کلب میس سے زیادہ بڑے ھیں، گورنمنٹ سے مل کر انکی جاب سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے اور سوشل میڈیا چینلز اور اخبارات کا بھی کوئی دائرہ کار وضع کیا جائے، ان کیلئے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کا انتظام کیا جائے اور اس کے سرٹیفیکیٹ صرف ان صحافی بھائیوں کو جاری کیئے جائیں جو اس ورکشاپ کو اٹینڈ کریں، مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ ملکر تربیتی پروگرامز کا اجراء کرایا جائے، فوٹوگرافرز کی تنخواہیں بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں اخبارات اور چینلز کو پابند کیا جائے کہ وہ وقت پر تنخواھیں ادا کریں، ھر خبر بریکنگ نیوز نہیں ھوتی، بس صحافت کے اصولوں کو بریک کر رھی ھوتی ھے، کچھ قواعد و ضوابط کا تعین ھونا چاھیئے وہ سوشل میڈیا ھو پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا۔

یہ ذمہ داری نیشنل پریس کلب کو ادا کرنی چاھیئے، اس سے پہلے کہ دیر ھوجائے۔

Prev عشق
Next برداشت

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.