شالامار باغ لاھور

شالامار باغ لاھور

تحریر محمد اظہر حفیظ

میری سوچ تصویروں سے شروع ھوتی ھے اور تصاویر بنا کر پھر سوچ میں مشغول ھوجاتی ھے، بلاوجہ چار دن کیلئے لاھور جانے کا سوچا، ھمسفر ھمیشہ کی طرح پہلی بیوی کیمرہ ھی تھی، بیچ میں دخل اندازی کا خطرہ لاحق ھوا چار دن تھے بچے بھی جاناچاھتے تھے، ان سے گھور کر ھی اجازت لی، محمد افضل بھائی کو فون کیا، بھائی شالامار باغ کی تصاویر بنانی ھیں ڈرون بھی اڑانا ھے کوئی بندوبست کروادیں، جمعہ کا مبارک دن تھا کہنے لگے بھائی ھفتے کو شام چار بجے شالامار باغ آسکیں گے یعنی کہ کل، جی ضرور فر آجاو، عثمان قریشی صاحب نے فوٹوواک کا بندوبست کیا ھے، اور ڈرون چھوڑیں موج اڑائیں، جو دل کرے، جی بہتر،

صبح فجر کی نماز کے بعد روانہ ھوا صبح نو بجے لاھور تھا، دل بھی خوش تھا اور بیگم بھی، تیس سال بعد شالامار باغ جارھے تھے پر اس دفعہ ڈرون کمیرہ کی شکل میں اس کی سوکن بھی ساتھ تھی، لاھور میں گھومتا رھا، دوست احباب سے ملتا رھا اور چار بجے شالامار باغ کے باھر تھا، گاڑی پارک کی، بہترین پارکنگ کا انتظام تھا، عثمان قریشی صاحب کے انتظامات بہت شاندار تھے، جب ٹکٹ والے نے راھنمائی کی جی تشریف لیجائیں سب دوست آچکے ھیں، فوارے چل رھے تھے پانی کے تالاب بھرے ھوئے تھے تاریخی درخت اور تخت اپنی جگہوں پر انتظار کر رھے تھے، محمد افضل بھائی سے پہلے عثمان صاحب سے ہی ملاقات ھوگئی آپ یقینا محمد اظہر حفیظ ھیں جی عثمان صاحب اچھا لگا بغیر ملاقات کے پہچاننا، اب محمد افضل صاحب کا فون آگیا، پاجی سامنے دیکھیں بارہ دری جی بھائی، ھاتھ ھلانے والا میں ھوں، محمد افضل ایک بہت پیارا بھائی اور شاندار فوٹوگرافر ھے پر کبھی کبھی فائن آرٹ فوٹوگرافی بھی کرجاتا ھے ، آصف شیخ صاحب اور بہت سے دوستوں سے ملاقات ھوئی سجاد بٹ بھائی تو سب تاریخی عمارات میں فوٹوگرافروں کا بازو ھیں، اللہ ان کیلئے آسانیاں کریں آمین، وہ ھمیشہ آسانیاں بانٹتے ھیں، کام شروع ڈرون سے بھی مختلف طریقے سے باغ کو دیکھ رھے تھے اور ساتھ ساتھ کیمرہ بھی چل رھا تھا میں مزے میں بھی تھا اور حیران بھی، دونوں بیگمات ساتھ ساتھ میری مرضی کی تصاویر بنا رھیں تھیں، باغ میں صفائی کا انتظام بھی بہت اچھا تھا اور سنبھالا بھی دل سے ھوا تھا یقینا اس کی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش نہ کرنا ظلم ھوگا، شکریہ شالامار باغ کی انتظامیہ۔

آصف شیخ صاحب نے پانی اور مشروبات کا انتظام کردیا پر کام کے بعد یہ سب ممکن ھے۔ تخت، راہ داریاں، بارہ دریاں، فوارے، تالاب، درخت، تاریخ سب وھیں تھیں، پر بنوانے والے اور اس کے باسی وھاں نہیں تھے، فضا چیلوں، کووں سے بھری پڑی تھی اور ایک طرف فضا میں اورنج ٹرین برق رفتاری سے چلتی ھوئی جارھی تھی، شاید ساری تعمیرات کی ذمہ داری مغلوں کی ھی ھے، باقی ابھی سنبھل رھے ھیں، سیکھ رھے ھیں۔

Prev عمر حیات محل چنیوٹ
Next مقبرہ جہانگیر

Comments are closed.

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.