شکریہ

شکریہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

شکریہ اللہ تعالی جی جو آپ نے ھمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا۔ مکہ اور مدینہ دکھایا وھاں سجدہ کرنے، نماز پڑھنے، طواف کرنے، سعی کرنے، کی توفیق دی، تمام انبیاء کرام علیہ السلام کو ماننے والا بنایا، تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا احترام کرنے والا بنایا، بہترین والدین دیئے اور انکی خدمت کا موقع دیا ، عزیز رشتہ دار، بہترین دوست احباب عطا کئے، بہترین اولاد اور نیک فرمابردار خدمت گزار بیوی عطا کی، بہترین اداروں سے تعلیم دلوائی اور پھر بہترین اداروں میں پڑھانے کے مواقع مہیا کئے، بہترین استاد اور بہترین شاگرد مہیا کئے، بہترین ھنر سکھائے اور اگے تقسیم کرنے کی ھمت عطا کی، لکھنا پڑھنا سکھایا، محسوس کرنا، بولنا، سننا،محنت کرنا سکھایا، کیا کیا طاقتیں اور کمزوریاں عطا کی شکر الحمدللہ۔ بہترین روزگار کے مواقع دیئے۔ بہترین اور سازشی دشمن عطاکئے، کس کس بات کا اللہ باری تعالی شکر ادا کروں شکر الحمدللہ،
بہترین دیکھنا سکھایا اور بہترین دکھایا بھی، بہترین صحت، ھمت، طاقت، برادشت دی پھر اپنے آگے جھکنے والا بنایا، ھر چیز وقت پر عطا کی شکر الحمدللہ۔ گھر، بار، اولاد، کاروبار، سب وقت پر عطا کیا شکر الحمدللہ، ھنسنے اور رونے کی توفیق دی۔ سب پھلوں،سبزیوں اور میوہ جات کے مزے چکھائے۔ طرح طرح کے جانور چرند پرند دکھائے،ھر رشتہ دکھایا، بنایا اور نبھانا بھی سکھایا شکر الحمدللہ، جانثار اور بہترین دوست عطاکئے، بہترین موسم عطا کئے اور دکھائے بھی، بہترین ملک پاکستان عطا کیا شکر الحمدللہ۔ کیا کیا دکھایا، پہاڑ، سمندر، صحرا، برف، آگ، میدان سبزہ سب کچھ ھی تو شکر الحمدللہ۔ کیسے کیسے انسان دکھائے بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورت، بہادر،کمزور سب ھی تو دکھا دیئے، زمین پر، پانی پر، پہاڑوں پر، صحرا پر، برف پر، ھوا پر ھر طرح کا سفر کرایا اور بحفاظت کرایا شکر الحمدللہ، کتنی حکومتیں دکھائیں، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، محمد خان جونیجو، اسحاق خان، نواز شریف، پرویز مشرف، شوکت عزیز، معین قریشی، بے نظیر، آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، پرویزاشرف، شاھد خاقان عباسی، ممنون حسین، عمران خان، عارف علوی۔ کیا کیا دیکھا کیا کیا سیکھا کسی کو نہیں جھٹلایا بے شک جس کو تو چاھے عزت دے جس کو چاھے ذلت دے یہ سب تیرے ھی اختیار ھے کچھ کی جیتے جی مرادیں پوری نہیں ھوتیں اور کچھ قبروں کو سجدے کرکے کہیں کے کہیں پہنچ گئے۔ سب تیری کرامات ھیں تو جس کو چاھے جسے چاھے عزت دے، کوئی داتا گنج شکر بن گیا کوئی بلھے شاہ، کوئی شاہ عبداللطیف بھٹائی بن گیا، کوئی بری امام ھوا اور کوئی مہر علی شاہ ھوا، یہ سب تیری عنائتیں ھیں کوئی شاہ عنائت ھوگیا اور کوئی عبدالقادر جیلانی ھوگیا۔ ھمیں عزت کی زندگی دی اور ھمیشہ ذلت سے محفوظ رکھا، تو جس پر چاھے کرم کر دے تجھے کون پوچھ سکتا ھے تو سب کا ھے اور سب سے بڑا ھے۔ ھم بس تیرے شکر گزار بندے تو کرم نہ کرتا تو ھمارا کون تھا تیرے سوا ۔ ھر وقت ھر گھڑی ساتھ رھنے کا شکریہ

Prev ملک ریاض
Next میں کیوں ڈروں؟

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.