طنز و مزاح

طنز و مزاح
تحریر محمد اظہر حفیظ

میں زندگی میں کبھی بھی طنز کا قائل نہیں رھا۔ طنز مجھے ایسے محسوس ھوتا ھے جیسے آپ کسی کی عزت اچھال رھے ھوں۔ لیکن مزاح مجھے پسند ھے۔ ھنسنا ھنسانا مجھے اچھا لگتا ھے ۔ لطیفے سننا اور سنانا اچھا لگتا ھے۔ لیکن شاید اب مزاح سے بھی گریز کرنا پڑے ۔ مجھے جو بھی لطیفہ پسند آجائے میں سب سے شیئر کرنے کی کوشش کرتا ھوں تاکہ سب مسکرائیں۔ مجھے کبھی پتہ نہیں چلا کہ اگلا کس مزاج اور احساس میں بیٹھا ھوا ھے۔ کئی تو اس لطیفے کو ڈائریکٹ اپنے اوپر طنز سمجھ لیتے ھیں اور خفا ھو جاتے ھیں۔ میرے اللہ گواہ ھیں میں کسی کا بھی دل توڑنے یا خفا کرنے سے بہت ڈرتا ھوں۔ اگر میرے کسی مذاق، لطیفے سے آپ کی دل آذاری ھوئی ھو تو میں آپ سب سے دلی طور پر معافی مانگتا ھوں۔ میرے اللہ جانتے ھیں میں نے جان بوجھ کر کبھی نہ ایسا کیا اور نہ ھی سوچا۔ سہوا” کبھی ایسا ھوجائے تو درگزر کر دیجیئے۔
میں باقی زندگی محتاط رھوں گا انشاءاللہ۔
میں وقت کے ساتھ ساتھ خاموش ھوتا جا رھا ھوں دوست سمجھتے ھیں کہ شاید میں بدل گیا ھوں ھرگز ایسا نہیں ھے مجھ سے جو زندگی میں غلطیاں کوتاہیاں ھوئی ھیں میں انکو دوبارہ نہ کرنے کی مکمل کوشش کرتا ھوں۔ دعا کیجیئے میرے اللہ میری مدد فرمائیں۔ امین
تبسم فرمانا میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پسند تھا اور کھلے قہقہے وہ ناپسند فرماتے تھے۔ اور میرے سے یہ گستاخی کئی بارھوئی اور آئندہ احتیاط کا سوچا ھے۔ انشاءاللہ عمل کرونگا۔
طنز اور طعنہ دینا مجھے نہایت معیوب لگتا ھے۔
احتیاط کیجئے۔
عزت دینا اور عزت کروانا ایک اچھا محاورہ ھے لیکن میں ایک عجیب و غریب شخص ھوں سب کی عزت کرتا ھوں احترام کرتا ھوں بے شک وہ میری عزت کرے یا نہ کرے۔ میں لوگوں کی عزت کرنا سعادت سمجھتا ھوں کیونکہ سب اللہ کی مخلوق ھیں اور اس کے خلیفہ ھیں آج تک کبھی نسل،قوم، رنگ کی بنیاد پر نہ کبھی بات کی اور نا ھی پسند ھے۔
اگر آپ سوچتے ھیں کہ میں ایسا کرتا ھوں تو برایے مہربانی میری راھنمائی کیجئے مجھ پر آپکا احسان ھو گا شکریہ۔
کسی کو بھی کمتر مت سمجھئے سب انسان برابر ھیں کوئی تقوی میں تو کم زیادہ ھو سکتا ھے اپنے قول و فعل میں کم زیادہ ھوسکتا ھے باقی میرے اللہ بہتر سمجھتے ھیں بے شک وہ ھی بہتر ھدایت دینے والے ھیں۔ سب کی عبادتیں اسکی اپنی ذات کیلئے ھیں۔ اسکا کسی پر کوئی احسان نہیں ھے۔
تحفے دینا بھی مجھے اچھا لگتا ھے پر اگر کوئی تحفہ یا اس کی قیمت واپس کرنے کی بات کرے تو میرا دل بہت دکھتا ھے۔ اس حالت میں بھی میں دعا دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا ھوں اور نہ ھی کرنا آتا ھے۔ بدلہ لینے کی مجھے عادت نہیں ھے درگزر کرنا ھی اچھا اور مناسب لگتا ھے۔ کوشش کرتا ھوں ھر انسان کی کیئر کروں پر عجیب لوگ ھیں جو چپکو سمجھنا شروع کر دیتے ھیں۔ اور میں ان سے دور ھونا شروع کر دیتا ھو۔ ھرکسی کا احترام کرنا رابطے میں رھنا میری عادت ھے اسے ھرگز بھی میری کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ھی میری طاقت ھے الحمدللہ۔

Prev پہلا روزہ
Next مفلسی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.