عشق

عشق
تحریر محمد اظہر حفیظ

زیادہ تر شعراء کی شاعری عشق و معشوق پر مبنی ھوتی ھے، کوئی اس کے بالوں کی تعریف گھٹا کہہ کر کرتا ھے تو کوئی بادل کہہ کر، کوئی اس کی آنکھوں کو غزالی کہتا ھے تو کوئی بہتا جھرنا ، کوئی گہرا سمندر کہتا ھے، کوئی اس کی آواز کو بلبل کی آواز سے تشبیہ دیتا ھے اور کوئی اس کو پرندے کی چہچہاھٹ سے تشبیہ دیتا ھے، کوئی اس کے قد کو سرو کہتا ھے اور کوئی اس کے بولنے کو گھنگرو کی چھنن چھنن، کوئی اس کی چال کو ھرنی کی چال سے متشابہ قرار دیتا ھے اور کوئی اس کو مورنی کی چال کہتا ھے، کوئی اس کی رنگت کو قوس قزع قرار دیتا ھے،کوئی اس کے جسم کو سنگ مرمر کہتا ھے اور کوئی تاج محل، اور کوئی اس کے سانسوں کو عطر سے تشبیہ دیتا ھے اور کوئی اس کے پسینے سے کستوری بنانے کی تجویز دیتا ھے، کوئی عشق کو لعل کہتا ھے اور کوئی عشق کو لال کہتا ھے، کوئی اس کی انگلیوں کے قصیدے پڑھتا ھے اور کوئی اس کے ھاتھوں کے لمس کو مخملی قرار دیتا ھے، کوئی اس کی پازیب کو ساز قرار دیتا ھے، تو کوئی عشق کو عبادت قرار دیتا ھے، کوئی عشق کو زندگی کہتا ھے اور کوئی عشق سے موت کو تشبیہ دیتا ھے، پر جب کوئی کہتا ھے کہ عشق اندھا ھوتا ھے تو سمجھ نہیں آتی جب عشق اندھا ھے تو سارے شاعر اور عاشق حضرات یہ سب تشبیہات کس سے اور کیسے دیتے ھیں، یا تو سب جھوٹے عاشق ھیں یا پھر جھوٹے اندھے، یہ کن آنکھیوں سے سب دیکھتے رھتے ھیں اور اندھے بنے رھتے ھیں، تصویر کا دوسرا رخ دیکھوں تو یہ سب ناکام عاشق ھوتے ھیں اور ناکامی کی وجہ ان کا عشق کو اندھا نہیں کانا محسوس کرنا ھے، جس جس نے عشق کو اندھا سمجھا وہ کامیاب ھوگیا اور شاعر نہ بن سکا ورنہ کوئی شاعر بتا دیں جو عشق میں کامیاب ھوا ھو یا دوسرے الفاظ میں جو کامیاب ھوا ھو اس کا کوئی ایک شعر ھی دکھادو، میں اس فلسفے کا قائل ھوں کہ عشق اندھا ھوتا ھے اور آپ اپنا سب کچھ گنوا دیتے ھیں اپنے عشق کو پانے کیلئے، وہ عزت ھو، دولت ھو، شہرت ھو، دنیا ھو یا پھر آخرت، اتنا نقصان ایک نابینا ھی کر سکتا ھے اور جو بینا ھے وہ بس شعر کہہ سکتا ھے دیوان چھاپ سکتا ھے اور اس کو منسوب کرسکتا ھے، اس کے نام جس کو اس نے اچھی طرح دیکھا ھوتا ھے اور اس کے انگ انگ کی تعریف اور خوبصورتی بیان کرتا ھے ایک بے شرم عاشق کی طرح، عشق تو خواب ھے، دیکھا تو جا سکتا ھے پر محسوس نہیں کیا جاسکتا، عاشق بنیئے شاعر نہیں، پتہ نہیں کیوں معذرت کے ساتھ عشقیہ شاعری پڑھ کر اور سن کر دکھ ھوتا ھے کہ یہ کیسا عاشق ھے جو اپنے عشق کی نمائش لگا رھا ھے الفاظ کی صورت، بے پردہ کر رھا ھے، خود کو اندھا کہتا ھے، دیکھ نہیں سکتا پر سب کو دکھا رھا ھے، اپنے عشق کی داستاں سنا رھا ھے، کبھی کہتا ھے مجھے تمھارے بغیر نیند نہیں آتی، کبھی کہتا ھے تم بسی ھو میری سانسوں میں، کبھی کہتا ھے بال بناوں کس کیلئے، کبھی کہتا ھے کسی نظر کو میرا انتظار آج بھی ھے، کبھی کہتا ھے نظر انداز کرنے والوں سے نظر ملاتے ھم بھی نہیں، شعر لکھو ضرور صرف اس کیلئے نہ کہ زمانے کے لئے، اگر دل لگانا آ ھی گیا ھے تو اس کو چھپانا بھی سیکھ لو،

Prev اسرائیل
Next سوشل میڈیا

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.