عید

عید
تحریر محمد اظہر حفیظ

2020 کی عیدالفطر شاعر حضرات اور عاشق حضرات کےدل کے لئے بہت حوصلہ افزاء اور کم خرچ عید ھوگی، کئی گانے نہیں گائے جاسکیں گے، اب کون کس کی کھڑکی میں کھزا ھوکر گنگنائے گا،
عید کا دن ہے۔۔۔۔گلے. ہم کو لگا کر ملئیے
رسمے دنیا بھی ہے۔۔۔موقع بھی ہے۔۔دستور بھی ہے
ہم تو سرکار کے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔ائے ہیں ملنے کی لئے
دل کلی کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیتاب ہے کھلنے کے لئے
رسمے دنیا ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔رسمے دنیا ہی سہی
ایک ہلکی سی ہنسی۔۔۔۔۔۔ لب پہ سجا کر ملیئے
پیار کا رکھیئے بھرم۔۔۔۔۔۔دل پے کیجیئے نہ ستم
کم سے کم آج کے دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھ ملا کر ملیئے۔
عید بازاروں کا بھی عجیب حال ھے دل پھینک نوجوانوں کے کوئی چوڑی سٹال نہیں مہندی سٹال نہیں لاک ڈاون کھلنے کے بعد پہلے ھی دن ماسک پوش خواتین نے مہندی لگوانے اور چوڑیاں پہنے کے بعد جب تالی بجا کر کہا اللہ ھن ساڈے کو لوں وی پیسے لو گے دعا لو دعا،
تو کئی طرف سے آوازیں آئیں دل ٹوٹے ٹوٹے ساڈا ھوگیا ھن کی کریئے، اور گھر آکر چوڑیاں اور مہندی بہنوں اور کزنز کو گفٹ کی پوچھنے پر بس یہ ورد کرتے پائے گئے نہ ڈھولا ھوسی، نہ رولا ھوسی یہ ایک مختلف عید ھے جب ایک بوتیک والا جوان سال ماسک پوش لڑکی کو شوخ رنگ دکھاتا ھے یہ آپ پر بہت سوٹ کرے گا تو آواز آتی ھے سب ھی کہیں گے بڈھی گھوڑی لال لگام ھر طرف آپا دھاپی کا عالم ھے سب کے اندازے غلط ھورھے ھیں، ویڈیو کالز کا دور تو تقریبا ختم ھی ھورھا ھے پتہ ھی نہیں چلتا ماسک پوش لڑکی ھے یا اس کا بھائی، اردو ادب بھی بدل رھا ھے اور ویگن رکشہ کلچر بھی پہلے لکھا ھوتا تھا فاصلہ رکھئے کہیں پیار نہ ھوجائے اب لکھا ھوتا ھے فاصلہ رکھئے کہیں کرونا نہ ھوجائے،
تعلق طور طریقے بدل رھے ھیں پہلے کھانسنے پر دروازے کھل جاتے تھے اچھا آپ ھیں۔ اب تالا لگ جاتا ھے دفع ھو کرونا کا ٹیسٹ کرواو۔
سب کچھ بدل رھا ھے اب سب اکیلے اکیلے ڈیٹ پر جاتے ھیں فون پر بات چل رھی ھوتی ھے جانو بہت مس کر رھا ھوں پر یہ ظالم کرونا نہ خود ھوتا ھے نہ کسی کا ھونے دیتا ھے،
اب کوئی کسی سے قسمیں وعدے بھی نہیں لیتا کہ تمھیں میری قسم ھے سچ سچ بتاو ساتھ کون ھے، سب کو پتہ ھے فاصلے پر رھنا ھے، وہ تو اللہ بھلا کرے بینکوں کی موبائل ایپ کا ورنہ کون کسی کو کیسے عید بھیجتا، ایزی پیسہ والے تو ایزی ھی ھوگئے، جان آپکا شناختی کارڈ نمبر کیا ھے کیوں خیریت عیدی بھیجنی تھی ایزی پیسہ سے اچھا تو اب جان چھڑانے کا یہ طریقہ ڈھونڈا ھے مجھے نہیں چاھیئے کوئی عیدی ویدی اپنے پاس رکھو بچ گئے تو اگلے سال لے لیں گے، اچھا ٹی سی ایس سے کیک بھیج رھا ھوں یار تمھیں کب عقل آئے گی پتہ نہیں ٹی سی ایس والے کا کرونا ٹیسٹ ھوا بھی ھے کہ نہیں ھرگز بھی مت بھیجنا، اس وقت سب سے اچھا نعرہ ھے جیت گیا کرونا ھار گئی مہنگائی،
سب سے زیادہ ڈاون لوڈ ھونے والی کتاب موت کے بعد کا منظر ھے عشقیہ اشعار نہ ھونے کے برابر سرچ ھورھے ھیں ، گوگل پر ٹاپ سرچ ثنائی قہوہ ھے ۔ ھر کوئی گرم کرکے پانی پی رھا ھے اس لئے نہیں کہ پانی میں سے جراثیم ختم ھوجائیں بلکہ اس لئے جو پہلے سے اندر جراثہم چلے گئے ھیں ان کو ابال کر بھسم کردیا جائے، واقعی کرونا کلچر چینج کر رھا ھے اب سب کچھ ھوائی ھے پیار بھی اور ادھار بھی۔ ملکہ ترنم نورجہاں بھی بہت دور تلک نگاہ رکھتیں تھیں عاشقوں کی مرشد تھیں۔ کرونا پر بننے والی امریکن فلم سے بھی کئی دھائیاں پہلے گا کر پیشن گوئی کر گیئں تھی کہ دوروں دوروں آنکھیاں مارے منڈا پٹواری دا، اور اب سب کچھ دوروں دوروں ھی ھے۔ جن کو ملے بغیر جی نہیں سکتے تھے اب ان سے جینے کیلئے نہیں ملتے،
اب تو ظالم بیلنس والی باجی صبا کا میسج بھی نہیں آتا کون بیلنس کروانے جائے گا ۔ اور تو اور بے نظیر انکم سپورٹ میں پچیس ھزار بھی کسی کے نہیں نکل رھے شاید سب ھی کرونا کا شکار ھوگئے ھیں، بھائی کرونا ایک درخواست ھے عاشقوں سے دور ھی رھو وہ تم سے نہ مرسکے تو جدائی سے ھی مر جائیں گے۔
محترم ناصر کاظمی صاحب نے بھی اس وقت کیلئے کیا خوب لکھا ھے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

Prev بدتمیز
Next بلا تحقیق

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.