غلام یاسین سے آمنہ یاسین تک

غلام یاسین سے آمنہ یاسین تک

تحریر محمد اظہر حفیظ

ایک عجیب و غریب کریکٹر میری زندگی میں آیا بلند و بانگ فوٹوگرافی کے دعوے ایک بیسک کیمرہ اور غلط انگریزی اور مشکوک طرز زندگی، کارل شولر میرا دوست ھے اچھا کیا کرتا ھے سر جی آپ کارل شولر کو نہیں جانتے نہیں تو کون ھے پینوراما اس سے بہتر کون کرتا ھے آپ فوٹو ڈاٹ نیٹ استعمال نہیں کرتے نہیں بھائی یہ کیا ھے کوئی 2006کے شروع کے دن تھے، سر جی بڑی ودھیا سائٹ اے، مجھے کیمرہ بھی کارل شولر نے گفٹ کیا تھاغلام یاسین میرا بہت احترام کرتا تھا لیکن مجھے اس سے ڈر بھی بہت لگتا تھا پتہ نہیں کیوں مجھے چور مزاج لگتا تھا، محنتی تھا پر ھر وقت شارٹ کٹ ڈھونڈتا رھتا تھا سر مریم کو جانتے ھیں بڑی ودھیا ماڈل ھے نہیں کوئی نیا نام ھے، میں اسکا شوٹ کر لوں آپکے سٹوڈیو میں جی کرلیں، اب اس کا آنا جانا ریگولر تھا، میں فوٹو ڈاٹ نیٹ کا ممبر بن گیا، اور غلام یاسین مجھے مختلف لوگوں سے روشناس کروانے لگا، رزاق وینس کو ایڈ کریں بڑا ودھیا فوٹوگرافر ھے خوبصورت مناظر اور دیہی زندگی میں کمال کا کام ھے سمندری سے ھیں میری دلچسپی بڑی اور رزاق وینس سے دوستی ھوئی اور وہ بھائی اور میں بھائی بھائی بن گئے، کچھ عرصہ رزاق صاحب کا کیمرہ خراب رھا نیا کیمرہ آنے تک انکی محبت اور عظمت میں اللہ کے اگے احتجاج میں میں نے بھی فوٹوگرافی نہیں کی، میری بڑی بہن سمندری میں رھتی ھیں میں انکو جب بھی ملنے جاتا ملکر اسی دن واپس آجاتا تھا اب رزاق بھائی کی محبت میں میں کئی کئی دن سمندری جا کر رھنے لگا بہن بھی خوش اور فوٹوگرافی بھی خوش رزاق بھائی نے مجھے گاؤں کی زندگی نیزہ بازی، ڈاکٹر جاوید چاولہ صاحب ابراھیم چاولہ صاحب، کیپٹن عامر مختار سے روشناس کروایا اور میں نے پنجاب کو انکی وجہ سے دیکھنا شروع کر دیا لیکن انکی ھر بات کا محور عمیر غنی تھا عمیر صاحب کہندے نے عمیر صاحب نے کہا، عمیر صاحب آئے ھوئے تھے عمیر صاحب چولستان گئے ھوئے نے، عمیر صاحب بہاولپور وچ نے، میں تھوڑا تھوڑا حسد بھی کرنے لگا یار یہ بندہ کون ھے کیا کام کرتا ھے کیسا کام ھے واپس اسلام آباد آیا، غلام یاسین یہ عمیر غنی کون اے او ھو سر جی بڑا ودھیا بندہ اے لاھور میں ھوتے ھیں اور فیصل آباد سے تعلق ھے بہت علم والے بندے ھیں، اچھا ابھی آپکو ایڈ کرواتا ھوں اور جناب واہ واہ کیا کام نیلی ٹائلوں والا مزار برقعے والی عورت میرے دماغ سے تصویر نہیں جاتی اب ان سے بھی سلام دعا شروع ھوئی اور حسد محبت اور احترام میں بدلنے لگا، رزاق بھائی عمیر صاحب دا بڑا ودھیا کم اے یار ماں باپ دونوں پروفیسر سن پڑھے لکھے سیانے ماں باپ دی اولاد اے سیانہ تے ھونا ھی سی اتوں خود ایم اے انگریزی اے اچھا، انگریزی بولنے والے سے میں ھمیشہ سے کشش محسوس کرتا تھا کیوں کہ مسٹر چپس انگریزی کا پروگرام تھا اور میں دیکھ کر بچپن میں خوش ھوتا تھا پر سمجھ کچھ نہیں آتی تھی سوچتا تھا جن کو انگریزی آتی ھے انکو تو پتہ ھوگا کیا بات چیت ھورھی ھے، میری عمیر صاحب میں دلچسپی بڑھنے لگی میں لاھور ان سے ملنے پہنچ گیا بہت اچھی ملاقات رھی، اور زندگی میں پہلی دفعہ دال چنا اور کدو کھائے اور شائد آخری دفعہ بھی کیوں کہ کدو مجھے پسند نہیں لیکن عمیر بھائی کی محبت میں کھا گیا، اور اب میں غلام یاسین کا بھی احترام کرنے لگا اس نے مجھے زندگی میں دو بہترین دوستوں سے روشناس کروایا، غلام یاسین کویت چلا گیا اور امیر انسان بن گیا اج کل چائنہ سے کچھ تجارت کرتا ھے رابطے میں ھے لیکن عمیر غنی صاحب اور رزاق وینس صاحب کا میری زندگی میں آنا غلام یاسین کا میری زندگی پر احسان ھے اور میں ھمیشہ شکر گزار رھوں گا انشاءاللہ، عبدالوراث حمید ایک ذھین بچہ لاھور ایک فوٹو واک میں ملا اور میرا ھی ھوگیا بہت اچھا بیٹا اکثر اسلام آباد اجاتا اسکو عمیر صاحب کے حوالے کر دیا اور عمیر صاحب نے حق ادا کیا اور اس بچے کو فوٹوگرافر کے ساتھ ساتھ ادیب بھی بنا دیا
عمیر صاحب کا اسلام آباد آنا لگا رھتا تھا کبھی شرجیل انظر صاحب کی طرف کبھی عقیل سولنگی کی طرف اور ملاقاتیں چلتی رھتی تھیں ایک دن بات ھوئی کہنے لگے اظہر بھائی نوکری بحال ھوگئی لیکچر شپ ماڈل ٹاون کالج میں میرا دل نہیں ھے جائن کرنے کا میں نے درخواست کی بھائی آپ بہت سمجھدار ھیں لیکن ھر مہینے ایک رقم کا آنا زندگی بدل دیتا ھے انھوں نے میری منت سماجت کی لاج رکھی اور کالج جائن کریا رابطہ اکثر ھی رھتا تھا، پھر عمیر صاحب منظر سے غائب ھو گئے میں بہت پریشان ھوا میں نے رزاق صاحب سے رابطہ کیا بھائی عمیر صاحب کدھر غائب ھیں یار ان کے بھائی کو برین کینسر کا مسئلہ ھے وہ انکے ساتھ مصروف ھیں اسلئے بہتر ھے آپ انکو تنگ نہ کریں اور میں اکثر رزاق صاحب سے خیر خبر لیتا رھتا تھا اور پھر رزاق صاحب یار انناں دی بھائی دی طبیعت زیادہ خراب اے میں نے گاڑی نکالی اور لاھور چلا گیا عمیر بھائی کو فون کیا جی میں لاھور میں ھوں بھائی کو دیکھنا ھے کوئی میرے لائک حکم ھے تو بتائی جی دعا کریں دوپہر کو ملتے ھیں اپ فارغ ھو لیں جی میں آپکے لیے ھی ایا ھوں اور کوئی کام نہیں ھے اچھا، اور پھر سارا دن فون کیا رابطہ نہیں ھوا واپس آگیا راستے میں رزاق صاحب کو فون کیا تسی کیوں گئے، انکے بھائی کی طبعیت زیادہ خراب ھے وہ ھسپتال میں ھیں میں نے سوچا اللہ انکے والدین کو جنت الفردوس میں جگہ دیں، اور میں رونے لگ گیا یااللہ تیرا شکر ھے وہ اس جہان میں نہیں ھیں ورنہ جوان بیٹے کو جاتا کیسے دیکھتے ساتھ اب عمیر بھائی کی تکلیف اور انکی بہن کی تکلیف کا احساس اور افسردہ کر دیتا میں بہت رویا اللہ سے دعا کی اسکی صحت کے ساتھ زندگی کی اور وہ جوان بھی اپنے امی ابو پاس چلا گیا میں لاھور گیا عبدالوارث، عمیر بھائی اور میں قبرستان گئے تو ایک چھوٹی سی قبر پر عمیر بھائی رکے اور پھول ڈالنے لگے پوچھا بھائی قبر کہاں ھے کیونکہ عمیر بھائی چھ فٹ کے جوان ھیں تو یقیناََ انکا بھائی بھی اسی قد کاٹھ کا ھوگا افسردہ ھوئے کہنے لگے بیماری میں اسکا قد سکڑنے لگا اور وہ بالکل چھوٹا سا ھوگیاتھا یہی اسکی قبر ھے دعا کی اور واپس چل پڑے میں اسلام آباد روتے روتے ھی پہنچ گیا، عمیر بھائی اب بہت اکیلے تھے اور عبدالورث اب بڑے ھو کر گھوڑ سواری اور دیگر دلچسپیوں میں مشغول تھے ایک نام سننے میں آیا آمنہ یاسین انکا شکریہ اس مشکل وقت میں انھوں نے عمیر بھائی کو سنبھالا، عمیر بھائی اسلام آباد آئے تو آمنہ یاسین ساتھ تھیں بہت اچھی خیال رکھنے والی پڑھاکو لڑکی، دعا کی یا اللہ انکی شادی ھو جائے اور ایک دن ڈاکٹر عامر شہزاد بھائی نے بتایا ماشاءاللہ عمیر غنی اور آمنہ یاسین کا نکاح ھوگیا میرے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر تھی فورا عمیر بھائی کو فون کیا مبارک باد پیش کی اور شادی کی تاریخ پوچھی کچھ وقت درکار ھے آمنہ یاسین کے بھائی ملک سے باھر ھیں جب تشریف لائیں گے تو انشاءاللہ یہ فریضہ بھی سرانجام پا جائے گا، اب دکھ یہ ھے جس عظیم فوٹوگرافر سے مجھے غلام یاسین نے ملوایا اس کو آمنہ یاسین نے فوٹوگرافی سے دور کردیا، میری آمنہ یاسین بہن سے درخواست ھے اب عمیر غنی بھائی ماشاء اللہ باقاعدہ آپکے ھوچکے اللہ مبارک کریں اور انکو فوٹوگرافی کی طرف واپس لائیں اور ھمیں ان کے اعلی کام سے مستفید ھونے کا موقعہ دیں شکریہ

Prev لکی ایرانی سرکس اور ھم
Next یکم مئی 2017

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.