فاطمہ اظہر

فاطمہ اظہر
تحریر محمد اظہر حفیظ
16 دسمبر 2001 کو اللہ نے دوسری بیٹی سے نوازا ۔ میں ان دنوں فاطمہ جناح یونیورسٹی میں پڑھا رھا تھا وھاں ایک بہت اچھی بیٹی تھی تحریم راشد مجھے اس کی ھر بات پسند تھی بعد میں چھوٹے بھائیوں جیسے دوست احمد شہاب سے اس کی شادی کروادی ماشااللہ دونوں بہت خوش ھیں اور اب تو ان کے اپنے دو بچے ھیں ۔ اس کے نام کو دیکھتے ھوئے ھم نے بھی دوسری بیٹی کا نام تحریم اظہر رکھ دیا۔ اب دو بیٹیاں تھی رات کو تحریم اٹھ جاتی اظہر اسکو پکڑیں میں فیڈر بنا لاوں میرے سے دودھ زیادہ گرم ھوجاتا تھا اور بیگم پھر اسکو ٹھنڈا کرتی ۔ ھم نے پہلا مائیکرو ویو اوون خریدا سائز کیلئے فیڈر ساتھ لیکر گیا جو سب سے بڑا مائیکرو ویو اوون تھا اس میں فیڈر آرام سے آجاتا تھا یوں یہ مشکل بھی آسان ھوئی ایک منٹ میں دودھ نیم گرم ھوجاتا تھا اور تحریم خوش۔ تحریم امی اور ابو یعنی دادا دادی کی بہت لاڈلی پوتی تھی دادی کو کسی نے بتایا کہ تحریم کا مطلب ٹھیک نہیں ھے تو ھم نے باھمی مشورے سے اس کا نام فاطمہ اظہر رکھ دیا اب نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی خاتون جنت کے نام سے تھی ۔ 
فاطمہ کو گرمی بہت لگتی تھی پہلے ھم نے اپنے کمرے کا اے سی بدلا نیا لگوایا اور پھر اپنی گاڑی میں بھی اے سی لگوا لیا فاطمہ کے آنے سے ھماری زندگی کا معیار پہلے سے بہتر ھوا آمدن بھی بڑھ گئی اور ٹھنڈ بھی۔
فاطمہ کو بہت چھوٹی ھوتی کو ھی دادی نے کلمے دعائیں یاد کروا دی تھیں۔ فاطمہ ھر وقت دادی پاس رھتی تھی۔ اور دادا اس کو میرا شیر پتر کہتے تھے۔ مجھے بہت اچھی لگتی تھی ببلو سی بچی تھی جب بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکراتا تو رونے لگ جاتی امی کہتی کیا ھوا میری فاطمہ کو بابا مجھے تنگ کر رھے ھیں۔ کیا کہا مجھے دیکھ کر مسکرا رھے ھیں ۔ امی جی خبردار جو میری فاطمہ کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ اب جب بھی میں کن آنکھیوں سے فاطمہ کو دیکھتا تو وہ پھر رونے لگ جاتی شرمیلی بہت تھی امی جی پھر کہتیں کیا ھوا میری فاطمہ کو۔ امی جی بابا مجھے چوری چوری دیکھتے ھیں۔ مجھے بھی بہت پیار آتا اور اچھا میری جان نہ مسکرا کر دیکھ سکتے ھیں اور نہ ھی چوری چوری تو میری بیٹی ھے نہیں میں امی کی بیٹی ھوں جی اچھا باجی۔ فاطمہ جب چار سال کی تھی علیزے پانچ سال کی اور عائشہ ایک سال کی ھونے والی تھی ھم سب نے عمرے پر جانے کا سوچا یوں امی ابو اور ھم پانچ عمرے کیلئے روانہ ھوئے ۔ عائشہ بیگم کی ذمہ داری تھی اور علیزے اور فاطمہ میری ۔ طواف کے بعد سعی کا وقت آیا تو میں نے ان دونوں کو ایک وھیل چیئر پر بٹھایا چڑھائی تو بہت آسانی سے چڑھ جاوں جب واپسی ھو تو بہت مشکل ھو جائے میں آگے جھک کر ان دونوں کو پکڑوں اور ساتھ وھیل چیئر چلاوں پیچھے سے عربی لڑکے میری ٹانگوں کو وھیل چیئر ماریں بہت مشکل سے عمرہ ھوا۔ لیکن مزہ بہت آیا۔ یکم اگست کو عائشہ کی سالگرہ تھی ھم نے فجر مکہ میں اور عصر مدینہ جا کر پڑھی اس طرح اس کی پہلی سالگرہ منائی۔ ابا جی عائشہ کو لیکر ھوٹل چلے جاتے میں علیزے اور فاطمہ کو لیکر انتظار کر رھا تھا امی اور بیگم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کی زیارت کرنے گئے ھوئے تھے اس دن ان دونوں نے مجھے بے شمار تنگ کیا جب میں رونے لگ گیا تو وہ دونوں آگیئں کیا ھوا رو کیوں رھے ھیں بتایا پاوں سوج گئے ھیں کتنے چکر ان دونوں نے بازار کے لگوائے واپس آتے ھیں تو پھر کچھ یاد آجاتا ھے۔ شکر الحمدللہ خیر خیریت سے واپس آئے اب فاطمہ کچھ بڑی ھوگئی تھی اور فرمائشیں کرنے لگی تھی پر فرمائشیں بہت مختلف تھیں۔ بابا یہ کیا ھے بیٹے اونٹ مجھے ایک لے دیں جی اچھا بیٹے ۔ ساتھ ھی رونا شروع اونٹ لینا ھے میں نے اونٹ ھم ھنستے رھتے گھر آکر امی مجھے بابا نے اونٹ نہیں لیکر دیا ۔ امی بھی مسکرائیں کیوں بھئی تم نے اونٹ کیوں نہیں لیکر دیا میری بیٹی کو ۔ امی جی اپنی بیٹی کی فرمائشیں چیک کریں۔ اگلی دفعہ باھر نکلے بابا یہ کونسا جانور ھے بیٹے بھینس بابا مجھے بھینس لینی ھے یار پتر تیری فرمائشیں بہت عجیب ھیں۔
میرے بیٹے کی سالگرہ ھے کیا تحفہ لینا ھے بابا جی پہلے پکا وعدہ کریں لیکر دیں گے جی بابا کی جان اچھا اونٹ یا بھینس لے دیں بیٹے رکھیں گے کہاں اپنے کمرے میں باندھ لوں گی سب ھنسنے لگے اور فاطمہ رونے میں نے گلے لگا لیا بیٹے کوئی ایسی چیز بتاو جو ھم رکھ سکیں اچھا مجھے چھوٹے طوطے لا دیں اور میں اس کیلئے بہت سے طوطے اور خوبصورت پنجرہ لے آیا اب وہ بہت خوش تھی ایک دن مجھے یاد ھے سبز رنگ کا ایک طوطا مر گیا بہت روئی اس کو پنجرے سے نکالا تو باھر پھینکنے جارھا تھا نہیں بابا اس کو بلی کھا جائے گی اس کو پھینکنا نہیں جی میری جان اور پھر ایک دن تائی کو کسی نے بتا دیا اس سے سانس کی بیماریاں پھیلتی ھیں فاطمہ سکول سے آئی اور میں دفتر سے گھر میں طوطے نہیں تھے وہ کام والی باجی کو تائی نے دے دیئے تھے۔ کافی دن ھم دونوں اداس رھے ابھی بھی باجی کو بلیاں بہت پسند ھیں لیکن وہ اب کھلونا نما بلیوں سے خوش ھو جاتی ھے۔ امی اور ابو سے اس کی بہت دوستی تھی ان کی وفات کے بعد وہ بہت کم گو اور اپنے آپ میں رھنے والا بچہ بن گیا ھے ۔ فاطمہ باقی بیٹیوں کی نسبت مضبوط جسم کی بچی ھے سوچا تھا اس کو سپورٹس میں ڈالوں گا لان ٹینس یا باسکٹ بال کھیلاوں گا۔ کچھ دن کیلئے خانس پور جانے کا اتفاق ھوا تو پتہ چلا ابا جی کا شیر بہت ڈرپوک ھے پہاڑ پر سب چڑھ رھے ھیں باجی کھڑی ھے اس کو ھمت دی ساتھ چلایا چڑھ تو گئی پر شیروں کی طرح نہیں۔یوں ابو جی کا شیر سپورٹس میں جاتے جاتے رہ گیا۔ اب ماشااللہ فاطمہ باجی نویں جماعت پاس کر چکی ھے دسویں کی تیاری میں ھے میری بہت خدمت کرتی ھے ٹانگیں دباتی ھے میرے سے باتیں کرتی ھے بابا جی کوئی مزاحیہ بات سنائیں میں اس کو اپنی شرارتیں سناتا ھوں خوب ھنستی ھے بابا جی کوئی اور یار فاطمہ تیرا باپ کوئی جوکر ھے جو ھر وقت مزاحیہ بات سناتا رھے بابا جی فضول باتیں نہیں کرنی مزاحیہ باتیں کریں ۔ فاطمہ جی بابا میرے لئے انڈہ ابال کر لاو جی بابا تھوڑی دیر میں ایک انڈہ ابال کر لے آئی پتر میں تو ھمیشہ دو انڈے کھاتا ھوں اچھا مجھے تو نہیں پتہ اچھا کسی اور سے پوچھ لو تایا بابا کتنے انڈے کھاتے ھیں بیٹے دو علیزے بابا کتنے انڈے کھاتے ھیں دو مما جی بابا کتنے انڈے کھاتے ھیں دو اب فاطمہ نے پھوپھو کو فون ملایا پھوپھو ایک بات تو بتائیں جی بیٹے بابا کتنے انڈے کھاتے ھیں بیٹا دو یار بابا سارے پاکستان کو پتہ ھے مجھے کیوں نہیں پتہ اور ھنسنے لگ گئی۔ یہ موبائل کا پیچھا چھوڑ دیں جی میری جان ۔ ھر وقت کیا کرتے رھتے ھیں موبائل پر بیٹا کہانیاں لکھتا ھوں تو اچھا آج میری کہانی لکھنی ھے جی میری جان۔ فاطمہ ایک بہت باپردہ اور باحیا بیٹی ھے ماشااللہ۔ اللہ ایسی بیٹیاں سب کو دیں ان کے نصیب اچھے کریں امین یہ ھمیشہ ٹھنڈ میں رھیں دنیا اور آخرت میں امین

Prev تنہا
Next میرے ھمسفر بنئے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.