فرشتہ

فرشتہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

فرشتے کا ذکر بچپن سے سنتے آئے تھے کہ جبرئیل علیہ السلام وحی لیکر آتے تھے، میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وھاں تک گئے جہاں فرشتے بھی نہیں جاسکتے۔ ان کے بھی پر جلنے لگ جاتے ھیں ۔ ھر انسان کے ساتھ دو فرشتے ھوتے ھیں جو انکی نیکی اور بدی لکھتے ھیں ۔ شیطان کا ذکر رمضان میں خاص طور پر ھوتا ھے کہ شیطان بند کردیا گیا ھے۔ پر اے رب ذولجلال سب جہانوں کے رب یہ کونسا رمضان آیا ھے جس میں فرشتہ ھلاک ھوگئی اور شیطان آزاد ھوگیا۔ یہ کونسے شیطان ھیں جن کو رب باری تعالی رمضان میں بھی پنجرے میں بند نہ کرسکا اور وہ اس کی فرشتہ کے ساتھ زیادتی کرتے رھے اور اس کو مار کر جنگل میں پھینک دیا۔ او میرے اللہ سارے خیالات اور جذبات مجروع ھو گئے ۔ مجھے لگتا ھے کہ اللہ کے فرشتے قبر میں بعد میں آئیں گے پہلے یہ فرشتہ صفت بیٹی آئے گی کہ تم تو اب مرے ھو اس وقت کہاں تھے جب مجھے مجروح کیا جا رھا تھا، سفاک شیطان میرے ساتھ شیطانی کھیل کھیل رھے تھے کہاں تھے تم میرے رب تو نے ھمیں سب سوالوں کے جواب بتائے ھیں فرشتہ پوچھے گا تیرا رب کون ھے ھم کہیں گے اللہ تعالی فرشتہ پوچھے گا تیرا دین کیا ھے ھم کہیں گے دین اسلام، فرشتہ پوچھے گا تمھارا نبی کون ھے ھم کہیں گے محمد عربی صلی علیہ والہ وسلم ۔ پر جو یہ دس سالہ فرشتہ سوال کرے گی تم بتاو کہاں تھے تمھارا مدینے کی ریاست والا وزیراعظم کہاں تھا وہ ھراسمنٹ والی عدالتیں کہاں تھی پہلے مجھے انسان نما کتے نوچتے رھے پھر اصل کتے اگئے ۔ میں تو بہت معصوم تھی مجھے تو ایسی جگہوں سے ویسے ھی ڈر لگتا تھا پھر یہ ظالم درندے مجھے مار کر وھاں کیوں پھینک گئے میں تو مری ھوئی بھی ڈرتی رھی۔ وہ طرح طرح کے جانور آجارھے تھے پر کوئی بھی جانور انسان سے بڑا جانور نہیں تھا۔ اسلام آباد پاکستان کا دارلحکومت وزیراعظم کا شہر ھر طرف اربوں روپے کے کیمرے مثالی پولیس ،رینجرز کہاں تھے یہ سب کوئی تو جواب دے میری روح تڑپتی رھی ھم مہمند پٹھان جنہوں نے تحریک انصاف کو پہلے خیبر پختون خواہ میں حکومت دلوائی اور پھر سارے پاکستان میں ھم سب بہت خوش تھے ھمارا خان آگیا ھے انصاف آگیا ھے۔ وزیراعظم عمران خان میری تڑپتی زخمی روح چک شہزاد کے جنگلوں میں بھٹک رھی ھے انصاف ڈھونڈ رھی ھے کبھی ادھر سے گزرو گے تو میں تم کو روک لوں گی ۔ تمھیں شاید پتہ نہیں فرشتوں کو موت نہیں آتی اور وہ ھزاروں سال سے عبادت میں مشغول ھیں میں بھی تو عبادت ھی کر رھی تھی رمضان کا مہینہ تھا کیا صلہ ملا مجھے میرے خاندان کو اس عبادت کا۔ تمھیں ووٹ دینے کا۔ مجھے انصاف چاھیئے۔ کہاں ھیں وہ سب ایجنسیاں جن کو پل پل کی خبر ھوتی ھے اسلام آباد میں پاکستان میں کیا ھورھا ھے میری اپکی بیٹی فرشتہ کی ان سب سے اپیل ھے ان ظالمو کو پکڑنے میں مدد دیں اور راول ڈیم چوک میں ان کا وھی حشر کیا جائے جو انھوں نے میرے ساتھ کیا ھے۔ یاد رکھنا میرے وزیراعظم قیامت کے دن تمھیں اس فرشتہ کی چیخوں، تکلیفوں، کربوں، دردوں ،سوالوں کا جواب دینا ھوگا۔ میں ھر اس شخص کی بیٹی ھوں جو بیٹی کا باپ ھے وھی میرا اور میرے ماں باپ کا دکھ تکلیف سمجھ سکتا ھے۔ مجھے بچایا جا سکتا تھا اگر مثالی اسلام آباد کی پولیس میرے والد کی دھائی پر غور کرلیتی ، پر پولیس تو مصروف ھے آپ کے ساتھ میرے وزیراعظم۔

Prev جمع
Next مزے زندگی کے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.