فوٹوگرافی میری ھمسفر

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

فوٹوگرافی کے سلسلے میں بہت سے استاد صاحبان کے پاس، جانے کا اتفاق، ھوا ان میں سے ایک استاد رشید صاحب تھے جنکا راولپنڈی نیو کٹاریاں مارکیٹ میں رشید، فوٹو سٹوڈیو، تھا این سی اے میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور میں کسی اسٹوڈیو کے ساتھ کام کرنا، چاھتا، تھا میں استاد رشید، کے پاس، گیا اسلام وعلیکم استاد جی فوٹوگرافی کا شوق ھے اگر اجازت ھو تو آپکا ڈارک روم استعمال کر لیا، کروں، اچھا دیکھتے ھیں لیکن پہلے وعدہ کرو اس مارکیٹ میں دوکان نہیں ڈالو گے اگلے دو سال تک استاد جی دو سال کو چھوڑیں کبھی بھی نہیں ڈالوں گا اور کو ئی حکم بس، کل سے آجانا، میں گیا تو انکا ڈارک روم بس، اتنا تھا کہ کیمیکل ٹرے کے علاوہ بمشکل ایک آدمی کھڑا ھوسکتا تھا اور اس کے علاوہ سبز روشنی یا سرخ روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا، گھڑی کا تو ذکر ھی نہیں تھا، استاد کو کبوتر پالنے کا بہت شوق تھا ھر وقت کوئی نہ کوئی کبوتر باز، آیا، رھتا اور استاد کبوتروں کی کہانیاں سنتا اور، سناتا، رھتا اور میں ڈارک روم کو جی بھر، کے استعمال کرتا، تھا، این سی اے، کے ڈارک روم بہت جدید، تھے تمام سہولیات مہیا تھیں فلم سکھانے کے لیے ڈرائیر، کلر انلارجر، چھوٹی بڑی ھر سائز کی ٹرے سٹاپ واچ سرخ اور سبز روشینیاں اے سی کمال جگہ تھی اور دوسری طرف استاد رشید کا اسٹوڈیو بس، گزارا، تھا لیکن سیکھنے کے لیے بہترین استاد جی چار منٹ دی ڈیویلپنگ دو منٹ دی واشنگ تے چھ منٹ دی فکسنگ پر وقت دا کس طرح پتہ چلے گا سٹاپ واچ، کتھے استاد کی ایک آنکھ خراب تھی دوسری سے مجھے دیکھ کے مسکرائے تسی او بابو، فوٹوگرافر اسی آں مار کھا، کے سکھے ھوئے ویسے سٹاپ واچ، ھوندی کے اے تے اسدی ضروت کی اے اتھے استاد جی وقت دا اندازہ کس، طرح ھوے گا
اچھا اسنو تسی سٹاپ واچ، کہندے ھو، بہت آسان اے ایک بہترین استادی نسخہ استاد رشید نے بتایا جو ہمیشہ کام آیا جزاکاللہ خیر استاد جی، کہنے لگے ایک دفعہ درود شریف، ایک دفعہ قل ھواللہ ھو احد تے ایک واری اذا جاء نصرللہ ولفتح تین چیزوں پڑھو، تے ایک منٹ ھو جاندا، ھن تہاڈی مرضی اے جناں وقت دینا اے اننی واری پڑھ دے جاو تے موجاں کرو، بس جی پھر صبح سے شام ڈارک روم اور یہ آیات اللہ نے بہت برکت اور عزت دی اس کام میں چھٹیاں ختم ھوئیں اور این سی اے واپس آگئے جاوید صدیق صاحب سے چابی لی اور ڈارک روم چلا گیا کچھ اپنی فلمیں تھیں اور کچھ کلاس کے دوستوں کی پروسیس کر کے ڈرائیر، میں لگائی اور باھر نکلا جاوید، صاحب کی آواز آئی اظہر حفیظ سٹاپ واچ، لے جانا بھول گئے یا اپنی خرید، لی ھے تو یاد آیا سٹاپ واچ تو اب زندگی میں رھی ھی نہیں بس اللہ کا کرم ھوگیا، ھے وقت کا مسئلہ ھی نہیں، سر بھول گیا تھا پر فلمیں پروسیس کر، لی ھیں اچھا دکھاو میں اندر، سے لے آیا سب فلمیں نارمل تھیں نہ کوئی انڈر، تھی نہ ھی کوئی اوور، یہ کیسے ھوا سب مختلف لوگوں کی فلمیں ھیں اور نارمل ھیں تو سمجھ آئی اللہ کی مدد شامل حال ھو جاتی ھے اگر فلم اوور ھے تو درود اسکے مطابق تیز ھوجاتا، ھے اور اگر انڈر ھے تو، آھستہ ھو جاتا ھے یوں فلم نارمل ھو جاتی ھے، بس سٹاپ واچ زندگی سے نکل گئی اور زندگی ہمیشہ کے لیے رواں دواں ھوگئ اور آج تک کوئی بھی سٹاپ میری فوٹوگرافی میں نہیں آیا الحمدلله
شکریہ استاد رشید صاحب
جب بھی اسلام آباد آتا استاد کو، ملنے جاتا پھر پتہ چلا انکا سٹوڈیو، کہیں شفٹ ھوگیا ھے اور یوں استاد سے رابطہ ختم ھوگیا
استاد رفیق کراچی سے این سی اے ورکشاپ کروانے آئے این سی اے میرے پاس ھوسٹل میں ٹھہرے بہت نفیس انسان تھے آغا خان ھاسپیٹل میں فوٹوگرافر تھے انفر ریڈ فوٹوگرافی اور زون سسٹم کے ماھر تھے یہی پڑھانا چاھتے تھے لیکن انکو جاوید صدیق صاحب نے اجازت نہیں دی اور یوں وہ مجھے اکیلے کو ھی سکھا کر واپس چلے گئے اب میں انٹیریر کی فوٹوگرافی میں کافی کام کرنے لگا زون سسٹم بہت عمدہ چیز تھی سب جگہوں کی علیحدہ علیحدہ میٹرنگ کر کے انکی اوسط لیکر اس پر تصویر کھینچنے سے سب چیزوں کے کلر اور روشنی بہت اچھی ھوجاتی تھی این سے میں ڈسکس ھونا شروع ھوا جاوید صاحب نے لوگوں سے کہا وہ انلارجر پر کام کرتا ھے اور کچھ نہیں میں نے فلم ایکسپوز کر کے انکے حوالے کر دی اور جب رزلٹ آیا تو فرمانے لگے تم مجھے یہ طریقہ فوٹوگرافی سکھاؤ میں سب کو سکھاؤں گا میرا جواب تھا سارے این سے کو سکھاؤں گا آپ آڈیٹوریم میں ورکشاپ کا انتظام کریں کیونکہ آپ نے رفیق صاحب کو نہیں بتانے دیا تو اب میں خود بتاوں گا لیکن وہ بھی نہیں مانے اور میں بھی اسطرح رفیق بھائی کا سبق مجھ تک محدود، رھا، پہلی دفعہ ھیسل بلینڈ کیمرہ بھی رفیق بھائی کے پاس دیکھا بہت اچھے انسان تھے سارا سامان ساتھ لائے تھے انفرریڈ پیپر اور فلمز اور بہت کچھ اور جاتے ھوئے مجھے عنائت کر گئے پھر رفیق بھائی سے چند سال بعد اسلام آباد میں رابطہ ھوا وہ ھماری ایک جونئیر سے شادی کے خواھاں تھے جو غالباََ نہیں ھو سکی اور رفیق بھائی اس کے بعد نظر نہیں آئے وہ بہت مختلف کام کرتے تھے تتلیوں کی فلیش کی مدد سے فوٹوگرافی بیک گراونڈ کالا ھو جاتا تھا اور کلرز بہت اچھے آتے تھے پھر اسی طرح پھولوں کی فوٹوگرافی انکے کام کی نمائش کا انتظام بھی کیا این سی اے میں بہت ھی مختلف کام تھا بہت سی مختلف ٹیکنیک ان سے سیکھی بہت شکریہ رفیق بھائی اتنی شفقت اور محبت کا، اگر کوئی دوست رفیق صاحب سے رابطے میں ھیں تو راہنمائی کریں میں انکو بہت مس کرتا ھوں

Prev 23 مارچ
Next پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا -پہلی قسط

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.