لاھور عشق ھے 

لاھور عشق ھے 
تحریر محمد اظہر حفیظ

لاھور ایک تہذیب ھے، لاھور ایک نشہ ھے، لاھور ایک عشق ھے، لاھور لاھور اے،
پورا سال ھم لاھور میں سفر کرتے ھیں۔ سگنل فری نہر پر لونگ ڈرائیو کا مزا لیتے ھیں ٹھوکر نیاز بیگ سے جلو موڑ تک دن ھو یا رات نہر کے کنارے کا یہ سفر مزا دوبالا کر دیتا ھے بندے کو دوبارہ زندہ کر دیتا ھے۔ ھم جہانگیر کے مقبرے سے شروع کریں نورجہاں کا مقبرہ پھر راوی اور اس کے اندر کامران کی بارہ دری، اس سے آگے بند روڈ،رنگ روڈ، راوی روڈ،یادگار،بادشاھی مسجد، شاھی قلعہ، بازارحسن، فوڈ سٹریٹ، بھاٹی،داتا دربار، بلال گنج، سنٹرل ماڈل سکول،کچہری،گورنمٹ کالج،ٹاون ھال،نیشنل کالج آف آرٹس، پنجاب یونیورسٹی،پرانی انارکلی، فوڈ سٹریٹ، نئی انارکلی، ایم اے او کالج، پوسٹ آفس، ھائی کورٹ، لارنس گارڈن، مال روڈ، واپڈا ھاوس،اسمبلی ھال، پینوراما سنٹر، الحمرا،اقبال ھال، گورنر ھاوس، ایچیسن کالج، نہر، فوٹریس، شیرپاو بریج، فردوس مارکیٹ،لبرٹی، منی ماکیٹ، مین بولیوارڈ، سٹیڈیم، سنٹر پوائنٹ، غالب مارکیٹ، مون مارکیٹ، ڈیفنس،ای ایم ای، بحریہ، واپڈا ٹاون، شوکت خانم، اقبال پارک،کریم مارکیٹ،مون مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ،بیڈن روڈ، دھلی گیٹ،ریلوے سٹیشن، شیرانوالہ گیٹ، بادامی باغ، میکلورڈ روڈ، میو ھسپتال،گنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، سر گنگا رام ھسپتال، شیخ زائد ھسپتال، سفاری پاک، شالیمار باغ،لاھور کالج،ایف سی کالج،کنیرڈ کالج،وارث نہاری،حاجی نہاری، پھجہ سری پائے،ریاض فالودہ،ھریسہ،بندوخان،سالٹ این پیپر،لاھور بروسٹ، اتنا کچھ پورا سال دیکھتے ھو کھاتے ھو اور شکر ادا نہیں کرتے ھرسال میں دو یا تین دن بارش کا پانی آتا ھے تو چیخیں مارنا شروع کر دیتے ھو، ناشکرے مت بنو، جب کہا گیا کہ شہر چھوٹے چھوٹے بساو اور مریدکے سے قصور تک باٹا پور سے واھگہ تک جب لاھور بساو گے تو اتنا تو حوصلہ پیدا کرو کہ دو دن بارش برداشت کر سکو۔ یہ ھمارا اجتماعی المیہ ھے کہ ھم سارا دن بجلی آتی رھے ایک گھنٹے کے لئے چلی جائے تئیس گھنٹے ھم نہیں لکھتے کہ الحمد اللہ بجلی آرھی ھے بس ایک گھنٹے پر سارا سوشل میڈیا بھر دیتے ھیں۔ بہت دن سے لاھور کی اچھی تصاویر دیکھنے کو نہیں مل رھیں تھی سب سوئے ھوئے تھے کہ بارش کیا ھوئی مینڈکوں کی طرح ٹرر ٹرر ٹرر کرتے سارے سوشل میڈیا پر چھلانگیں لگانا شروع کر دیتے ھو۔ کیا کبھی جب سب اچھا اچھا چل رھا ھوتا ھے پوسٹ کیا ۔ یا صرف منفی پروپیگنڈہ ھی کرنا فرض ھے۔ میرے لاھور کو فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ھے۔ لیکن یہ جو نئے شہر آباد ھوگئے ھیں لاھور میں ڈیفینس،بحریہ،واپڈا ٹاون،ویلنشیا،جوھر ٹاون،گلبرگ،ماڈل ٹاون اگر اجازت ھوتو عرض کروں گا یہ ھرگز بھی لاھوریے نہیں ھیں بلکہ خانہ بدوش ھیں آس پاس سے آکر اباد ھوئے ھیں نہر کے دوسری طرف کوئی لاھور نہیں ھے کوئی اور شہر ھے۔ زندہ دلان لاھور تھوڑا ادھر کرکے رھتے ھیں بے شک چیک کرلیں،
پرانی آبادیوں میں پانی کھڑا ھونا سمجھ آتا ھے پر جب آبادیاں ھی نئی بنی ھیں اور انکی پلاننگ غلط ھے تو ان سے پوچھے جنہوں نے بنائی ھیں آباد کی ھیں۔ خبردار جو میرے لاھور کو کچھ کہا۔ لاھور میری محبت ھے میرا عشق ھے اور یاد رکھنا کوئی بھی عاشق اپنے محبوب کی برائی نہیں برداشت کر سکتا۔

Prev من گھڑت
Next دروازہ

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.