لاھور

لاھور
تحریر محمد اظہر حفیظ

لاھور بدل رھا ھے گاڑیوں کی رفتار آھستہ ھوگئی ھے ھارن غیر ضروری نہیں بجتے، سب اپنی لین میں چلتے ھیں ای چلان ھو رھے ھیں سب اپنا خیال خود رکھ رھے ھیں ٹریفک تو تقریبا اسلام آباد ھوگئی ھے باقی دیکھیں کیا کیا بدلتا ھے موٹرسائیکل سوار ھیلمٹ پہنے ھوئے ھیں ۔ اشارے سے پہلے رکتے ھیں اور اشارہ کھلنے پر چلتے ھیں پارکنگ طریقے سے ھوتی ھے پندرہ ماہ بعد لاھور گیا لاھور بدل گیا تھا پہلی دفعہ لاھور گیا تین دن اور تین رات میں کوئی تصویر نہیں بنائی یقین ھی نہیں آرھا تھا یہ میرا ھی لاھور ھے ھر سڑک پر راھنمائی کیلئے بورڈ لگے ھوئے تھے۔ راستہ بھولنے کا امکان ھی نہیں تھا۔ نسبت روڈ بھی کھلی لگ رھی تھی ون وے اصولوں کے مطابق چل رھی تھی ھریسہ کی کوالٹی بھی شاندار تھی شکریہ کامران بھائی نائیکون سے اور حاجی اکرام صاحب کی دو دن کی رفاقت بہت کچھ سیکھنے کو ملا ساتھ انکی لیب سے بہترین چالیس سے زیادہ پرنٹ بھی۔ بلو کے شو روم کا وزٹ کیمرہ سینسر کی بہترین صفائی عرفان احسن صاحب کامران سلیم صاحب سے ملاقاتیں محبت بھری باتیں نسبت روڈ سے میری نسبت بہت پرانی ھے زندگی کا پہلا کیمرہ یہیں سے خریدا تھا اور میری انسیت اس بازار سے بہت زیادہ ھے حاجی راحت صاحب کا البم بنانے کا سیٹ اپ بھی دیکھا اور سپر فوٹوز پر وسیم صاحب سے بھی ملاقات ھوئی۔کامران سلیم صاحب نے بدر بھائی سے بھی ملوایا اور ایک وائلڈ لائف پر بہترین کتاب بھی دکھائی۔اور 2018 کی اچھی بات بھی سیکھی “جس چیز پر فوکس ھو اسی پر دھیان دو باقی چھوڑ دو” انکا بھی خاص شکریہ فارغ وقت میں میں بلاوجہ نسبت روڈ کے چکر لگاتا رھا۔ ساجد عبدللہ صاحب کی بند روڈ پر واقع پنکھوں کی فیکڑی بھی دیکھی اور اعلی کوالٹی کے پنکھے بھی دیکھتے انکا اور انکے بیٹے سمیع کا پیار بھی ھمیشہ یاد رھے گا۔ سمیع بیٹے کا کہا گیا جملہ “جو چیز بازار میں مل جائے اس پر انرجی ضائع کرنے کا کیا فائدہ” گیا میں نیشنل کالج آف آرٹس لاھور میں رات کے کھانے میں شرکت کرنے تھا ساتھ نسبت روڈ کا بھی پروگرام بنا لیا۔ نیشنل کالج میں اساتذہ کے علاوہ سینئر جونئیر اور کلاس فیلوز سے بھی اچھی ملاقات رھی میڈم طلعت اور دبیر صاحب بہت پیار اور شفقت سے ملے اگر میں نہ جاتا تو شاید یہ پیار اور شفقت سے محروم رھتا۔ آفتاب بھائی اور فائق بھائی نے لکھنے کی مد میں بہت راھنمائی فرمائی انشاءاللہ آئندہ احتیاط کروں گا اور انہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ دونوں بھائیوں کی فیملیوں سے زبردست ملاقات رھی باجی سعدیہ تجمل سے 25 سال بعد ملاقات ھوئی انکی طبعیت بہتر نہیں تھی سب دوستوں سے دعا کی درخواست ھے سید آصف حسین زیدی صاحب کو دیکھنے کی ھمت نہ تھی بہانہ کرکے نکل آیا میں انکو بستر پر لیٹے ھوئے نہیں دیکھ سکتا انکو چلتا پھرتا سگریٹ پیتا دیکھنا چاھتا ھوں اللہ انکو صحت کاملہ عطا فرمائیں امین دعا کی درخواست ھے۔ لاھور میرا لاھور نہیں تھا۔ صاف ستھری سڑکیں سب سگنلز چلتے ھوئے ھر طرف پل انڈر پاس یہ سب کیا تھا۔ نیشنل کالج آف آرٹس بھی بدل گیا تھا بند گیٹ جنگلے انگوٹھا مشینیں سیکورٹی باتھ رومز کا دروازہ بھی دوسری طرف ھوگیا تھا اور ھال میں لگے اے سی اور جو میں ھوسٹل میں داخل ھوا ایک گیٹ قلعہ نما پھر ایک گیٹ وھی انگوٹھا مشین سسٹم۔ گاڑی گراونڈ میں کھڑی کی اور سیدھا اپنے کمرہ نمبر 112 گراونڈ فلو دروازہ کٹھکایا اندر سے ایک نوجوان نکلا سائڈ پر ھوجا یہ میرا کمرہ ھے وہ جگر بھی فوٹوگرافر اور فلم میکر تھا کمرہ ویسے کا ویسا ھی تھا کھڑکیوں کے راڈ کٹے ھوئے الماریاں ٹوٹی ھوئیں شیشے کالے اور ڈارک روم مزا آگیا ساری یادیں تازہ ھوگیئں پھر واش روم کا چکر اور بلند آواز میں گانا گایا اور پیشاب بھی فرمایا۔واش روم ذرا ماڈرن تھے یعنی سب ٹوٹیاں اور لائٹیں لگی ھوئیں تھی اور تو اور غسلخانہ والی سائیڈ پر ایک بڑا شیشہ بھی لگا ھوا تھا اور مرنے کا مقام تو وہ تھا جو دیکھا ھر فلور پر سرکاری وائی فائی نسب ھے اور جب باھر نکلا تو کامن روم میں اے سی دیکھ کر تو یقین ھی نہیں آیا یہ کونسی جگہ ھے۔ پر افسوس تھا جنگلوں کا جو کالج اور ھاسٹل کو گھیرے ھوئے تھے بلکل ایک قلعہ کی طرح۔ بہت دل کیا کوئی شرارت ھوجائے پانی کا شاپر پھینکا جائے پر ساتھ آئے افسران آفتاب بھائی فائق بھائی کبیر لالا،معظم لالا طاھر امین سے مار کا خطرہ تھا۔ آڈیٹوریم میں بہت مزہ آیا سب سے زیادہ جو ایک عظیم انسان بلند آواز میں ھنستا تھا اور سب طرف سناٹا چھا جاتا تھا۔ عمر سید ، شازیہ ،سعدیہ خان اور سب ساتھیوں کا شکریہ جنہوں نے اتنے اچھے ایونٹ کا بندوبست کیا خاص طور پر ھزار سے زیادہ نیشنل کالج آف آرٹس کے طلبہ کو سنبھالنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ھے۔ شکریہ این سی اے کے دوستو اور استادوں کا جن کی وجہ سے یہ سب ممکن ھوا۔ سیلفیاں تو اس لیول کی بنی کہ کیا ھی بتاوں ۔ کیا کیا دکھاوں۔ پھر واپس چل پڑا اور اسلام آباد آکر بریک لگائی۔ سوچتا ھوں لاھور کو لاھور ھی رھنے دیتے اسلام آباد بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ پل انڈر پاس بنانے کی کیا ضرورت تھی اتنے کے ایف سی میکڈونلڈ ھارڈیز بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ سارے اندرون شہر کو رنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی کوئی راھنمائی فرمائے اگر لاھور دیکھنے جانا ھو تو کہاں جایا جائے۔ شکریہ

Prev ماضی، حال، مستقبل
Next فوکس اور دھیان

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.