ماں

ماں
تحریر محمد اظہر حفیظ

میری ماں جی کی ماں جی ھماری نانی بہت پہلے فوت ھوگئیں تھی پھر ھمارے نانا جی نے ھماری امی جی اور خالاوں کو پالا۔
امی جی اکثر نانی جی کو یاد کرکے رونے لگ جاتی تو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اب یہ خود نانی دادی بن گئی ھیں۔ اب اس میں رونے والی کیا بات ھے۔فوت سب نے ھونا ھے میں کئی دفعہ رونے کی وجہ پوچھتا تو کہتیں بابو تجھے سمجھ نہیں آئے گی۔ جس پر بیتی ھو وہ سمجھ سکتا ھے۔
طاھر بھائی میرے تایا زاد بھائی ھیں زندگی میں بہت کچھ ان سے سیکھا۔ جب تائی جان فوت ھوئیں تو میں نے انکو بھی بلکتے ھوئے دیکھا۔ بہت چھوٹے تھے تو ماما جی نصیر اور ماما جی ذکریا کی والدہ فوت ھوگیئں انکی اپنی عمریں بھی کوئی ستر یا اسی سال کے لگ بھگ ھوں گی جب ان کو دروازے کے ساتھ لگ کر روتے دیکھا تو حیران ھوتا کہ یار بندہ اس عمر میں بھی روتا ھے۔ فخر حمید مرحوم میرے پی ٹی وی میں ڈائریکٹر تھے انکی والدہ کی وفات کے بعد میں نے انکو کم ھی مسکراتے دیکھا۔ اکثر والدہ کو یاد کرتے رھتے تھے اور اکیلے ھوگئے تھے۔ ھمیں اپنی والدہ کی باتیں سناتے تھے ۔اور رو دیتے تھے۔ میرے دوست امین اقبال کی والدہ کی وفات کے بعد میں ان کے سامنے نہیں گیا۔ شاید میری برداشت جواب دے جائے۔ میرے دوست احمر رحمن کی والدہ کے انتقال کے بعد بھی کبھی ان سے کھل کر بات نہ ھوسکی۔
رمضان میں میرے دوست سیف الرحمن کی والدہ آنٹی زبیدہ انتقال فرما گئیں۔ سیف میرا بچپن کا دوست ھے اور سیف کی امی سے بلکل ماوں والا پیار تھا مجھے یاد ھے ھر رمضان انکے گھر افطاری ھوتی تھی بہت دیندار خاتون تھیں۔ ھمارے سارے گھر سے دوستی تھی۔ جب میری امی جی فوت ھوئیں تو اس کے کچھ عرصے بعد سیف اور نوید دونوں بھائیوں نے گھر بنائے تو اس کی دعا تھی۔ ھم سب گئے تو نوید مجھے کہنے لگا اظہر بھائی امی جی بلا رھی ھیں مل لیں جی اچھا۔ میں گیا تو مجھے پیار کیا گلے لگا کر رونے لگیں بیٹے آج باجی بہت یاد آئے زندہ ھوتے تو خوش ھوتے ھمارے گھر دیکھ کر۔ اس کے بعد میرا جانا نہیں ھوسکا کیوں کہ میں انکو روتے ھوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ بیمار تھیں تو بھائی نے کہا تم ھسپتال نہیں گئے میں نے کہا یار میں آنٹی جی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ جب صحتیاب ھوں گی تو ملنے جاوں گا۔ آج صبح فجر کے بعد میں قبرستان گیا پہلے اپنی امی جی کی قبر پر دعا کی، پھر ابا جی کی قبر پر دعا کی، پھر آنٹی پروین گوندل کی قبر پر دعا کی، پھر بوا جی کی قبر پر دعا کی، پھر استاد محترم معراج خان صاحب کی قبر پر دعا کی، پھر تیمور بھائی کی قبر پر دعا کی، پھر صالح بھائی کے والد صاحب کی قبر پر دعا کی اور فواد فاروقی بھائی کی قبر پر دعا کی اور آخر میں آنٹی زبیدہ کی قبر پر گیا اور دعا کی اور گھر کو واپس آگیا ۔ میں نے جتنا بھی اپنے والدین پر لکھا میرے دوست ڈاکٹر عامر شہزاد صاحب کا فون آتا اظہر بھائی آپ کے دکھ کو میں سمجھ سکتا ھوں میرے والد صاحب کو بھی فوت ھوئے نو سال ھوگئے ھیں۔ اگر ھفتے والے دن فون کرتا یا اتوار کو تو اکثر بھابھی فون اٹھاتیں بھائی ڈاکٹر صاحب گاڑی چلا رھے ھیں تھوڑی دیر تک فون کرتے ھیں وہ ھر ھفتے آبائی گھر جوھرآباد جاتے تھے والدہ سے ملنے۔ بہت ھی شفیق انسان ھیں میں جس مرضی ڈاکٹر کو چیک کروا لوں دوائی ڈاکٹر عامر شہزاد صاحب کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرتا بہت ھی مخلص انسان اور اچھے فوٹوگرافر ھیں ۔پہلے یسری میڈیکل کالج کے پروفیسر آف میڈیسن تھے ابھی کچھ دن پہلے ھی ایک بڑے ادارے کو بطور ھیڈ جائن کیا مجھے بتایا تو میں نے کہا بھائی ملکر ھی مبارکباد دوں گا۔ سوچا عید کے بعد انکے نئے آفس جاوں گا مبارکباد دینے۔ عید والے دن انکا فون آیا میں نہیں سن سکا کال بیک کی تو اسلام علیکم کہا تو آواز بیمار اور تھکی تھکی سی تھی۔ عامر بھائی عید مبارک سوری آپ کا فون نہیں سن سکا۔ آپ کی طبعیت ٹھیک ھے جی بھائی والدہ کا انتقال ھوگیا تھا مجھے اپنی امی جی کی وفات کا سارا منظر یاد آگیا۔ 31 مئی کو فوت ھوئیں اور یکم جون کو جنازہ تھا جوھر آباد میں ۔ اب میں اس دکھ کو سمجھنے کا قابل ھوچکا تھا کیونکہ 12 جون کو میری والدہ کو بھی اللہ پاس گئے آٹھ سال ھوجائیں گے۔ رات دیر کا وقت تھا صبح جانے کی کوشش کی پر طبعیت کچھ ٹھیک نہ تھی سو آج گیا۔ بیگم بھی ساتھ تھیں ۔ فجر میں بھی دعا کی اور ان سے گلے ملا مجھے اپنا سارا دکھ یاد آگیا عامر بھائی ماں جی کی باتیں بتا رھے تھے مجھے ایسے لگ رھا تھا جیسے وہ مجھے میری امی کے بارے میں بتارے ھوں۔انکے والد اور والدہ کی تاریخ وفات اور تدفین کی تاریخ وھی تھی بس دس سال کا وقفہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب بہت رنجیدہ تھے۔ راستے میں میں نے بیگم سے کہا یار ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں بھر آئیں تھیں میں نے اجازت لے لی کہنے لگیں ڈاکٹر صاحب کی والدہ صاحبہ کو ابھی فوت ھوئے آٹھ دن ھوئے ھیں اور خود آٹھ سال سے یاد کرکے روتے ھیں۔ اللہ تعالی سب کے والدین کی مغفرت کریں اور جو سلامت ھیں انکو صحت کے ساتھ ایمان والی زندگی دیں امین۔ ماں باپ کے جانے کا دکھ سمجھایا نہیں جا سکتا بس جس پہ گزری ھو وھی سمجھ سکتا ھے۔
اللہ تعالی صبر جمیل عطا کریں امین اور اگلے جہاں آسان کریں امین۔ جومسلمان والدین وفات پاچکے ھیں انکو سب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین۔

Prev اختلافی نوٹ
Next بے بس

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.