مرشد

مرشد

تحریر محمد اظہر حفیظ

کچھ دوستوں کا کہنا ھے کہ مرشد کا ھونا بہت ضروری ھے، پہلے پہل تو یہ بات سمجھ آئی کہ اللہ کے کسی ولی کو مرشد مان لیا جائے، مرشد کی تلاش میں جدھر جدھر سمجھ آئی سفر کیا اور جاکر مرشد تلاش کرنے کی کوشش کی، یہ تلاش ڈجکوٹ سے شروع ھوئی جہاں ایک بابا جی شیر شاہ صاحب کا میلہ لگتا تھا چوتھی کلاس میں اس میلے میں شرکت کی اور مرشد ڈھونڈتا رھا، پھر بڑی امام صاحب، مہر علی شاہ صاحب، بابا بلھے شاہ صاحب، بی بی پاکدامن صاحبہ، بی بی نیک دامن صاحبہ، علی ھجویری صاحب ، کلیام شریف صاحب ، زندہ پیر صاحب گھمگول شریف، شاہ عبداللہ غازی صاحب، شاہ شمس تبریز صاحب، شاہ رکن عالم صاحب، بہاؤالدین زکریا صاحب، صفدرشاہ بخاری صاحب، میاں محمد بخش صاحب اور بہت سے اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر حاضری دی، دعا کی اور تصاویر بنائیں پر تشنگی اپنی جگہ برقرار رھی، مرشد کی تلاش میں پھر میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی عبادت گاھوں تک بھی گیا جیسے مہاتما بدھ مت صاحب، پنجہ صاحب، ننکانہ صاحب، اور بہت سی جگہیں جو پاکستان میں موجود تھی پھرتا رھا پر میری تشفی نہ ھوسکی،

پھر اپنی سادگی پر ھنسی بھی آئی جب پتہ چلا کہ والدین ڈھائی ولی کے برابر ھوتے ھیں تو ان کی خدمت کی طرف دھیان دیا اور وقت بہت تھوڑا تھا پر دن رات خدمت گزاری پر لگ گیا اور وہ دونوں بہت جلد میرا ساتھ چھوڑ گئے، والدہ محترمہ کا جانا مجھے کسی حد تک خاموش کرگیا اس کے بعد تو زندگی کچھ دشوار نظر آنے لگی تھی میں ھواوں میں اڑتا تھا اور انکی وفات کے بعد زمین پر آگیا، زندگی کی رفتار ھی کم ھوگئی، میری زندگی کا محور والد صاحب ھوگئے اس سلسلے میں میرے دوست احباب، عزیز رشتہ دار بہن بھائی، بیوی بچے نظر انداز ھوتے رھے، پھر والد محترم نے بھی رخت سفر باندھ لیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، میں مزید خاموش ھوگیا اور ملنا جلنا تو پہلے ھی چھوڑ چکا تھا، خاموشی کے ساتھ ساتھ بلاوجہ رونا میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا، سب شکایت کرتے تھے گفتگو کم کرتے ھو ملتے جلتے نہیں، تصویریں نہیں بناتے، سب کچھ ھی تو بند ھوگیا تھا، مجھے پتہ تھا میرے سر کے ولی چلے گئے مجھے محتاط رھنا ھے پر کسی کو سمجھا نہیں پاتا تھا، پہلے روزانہ بہن کو فون کرتا تھا پھر یہ وقفہ کئی کئی ماہ کا ھوگیا،بیٹیوں سے گفتگو کم ھوگئی بیوی کے پاس بھی خاموش رھتا ھوں بات کم ھوتی ھے، سب ھی کہتے ھیں کوئی تو بات کریں، پر میرے پاس تو بات ھی کوئی نہیں ھے، ایک سال سے زیادہ ھوگیا کچھ دردیں جان نہیں چھوڑ رھیں جسکی وجہ سے مسکرانا بھی کم ھوگیا تو پتہ چلا کہ درد میں بات کرنا اور مسکرانا ممکن نہیں پھر بھی بات کرنے کی کوشش کرتا ھوں اور مسکرانے کی بھی پر پتہ نہیں کیوں بھیگی آنکھیں سامنے والے کو بتادیتی ھیں کہ میں تکلیف میں ھوں، شاید اچھا اداکار ھوں پر درد میں مسکرانا ابھی نہیں آیا،

لیکن ایک بات بتاوں مرشد مل گئے ھیں، کچھ دن پہلے ھی پڑھا “خاموشی گفتگو کی مرشد ھے” مجھے لگتا ھے مرشد کی تلاش مکمل ھوئی اور میں مراقبے میں ھوں بس خاموش ھوں، مرشد کے آگے کون بولتا ھے، اب خاموشی میں خاموش رھنے کی وجہ کسی کو بھی کیسے بتاوں، سب پوچھتے ھیں کوئی تو ھوگا جس سے بات کرتے ھوگے، کیا بتاوں کئی دفعہ تو اپنے آپ سے بات کرنا بھول جاتا ھوں کسی سے کیا کرنی، پہلے سنا تھا خاموشی نیم رضا مندی ھے پر اب سب کہتے ھیں کبھی بول کر بھی اظہار کرنا چاھیئے، میری چھوٹی بیٹی عبیرہ اظہر بہت بولتی ھے سب اسکو چپ کراتے ھیں پر مجھے تو پتہ ھے بول وہی سکتا ھے جسکو کوئی دکھ نہ ھو، میں اسے گلے لگاتا ھوں اور کہتا ھوں کوئی اور بات سنا میرا پتر، کیوں کہ نہ بولنے کے دکھ کا صرف مجھے پتہ ھے اور کسی کو نہیں، اس لئے جو بول سکتا ھے بولے، مرشد بھی ایک دن مل جائیں گے خاموشی کی صورت جب سب کچھ چھن جائے گا۔ اس سے پہلے کیا چپ ھونا،

میں واقعی خاموش ھوں کسی اور سے باتیں نہیں کرتا۔ بس لکھتا ھوں اور خاموشی سے دیکھتا ھوں، جب سے پتہ چلا ھے کہ ایک تصویر ایک ھزار لفظ بولتی ھے تب سے تصویریں بھی نہیں بناتا، میں بھی خاموش میرا کیمرہ بھی خاموش،

مجھے مرشد مل گیا ھے اپنا تلاش کیجئے۔

Prev سبز باغ
Next ویژن

Comments are closed.