معافی چاھتا ھوں

معافی چاھتا ھوں
تحریر محمد اظہر حفیظ

زندگی میں بہت غلطیاں ھوئیں، کئی لوگوں کی دل آزاریاں ھوئیں آس پاس کے دوست عزیز رشتے دار کوئی بھی ھو جیسے ھی بات یا غلطی سمجھ آئی فورا معافی چاھتا ھوں سوری جیسے سنہرے الفاظ دل سے ادا کرنے میں تاخیر نہیں کی۔
مجھے رشتے تعلق دوستیاں بچانی ھیں۔ اس کیلئے بعض دفعہ غلطی دوسرے کی بھی ھو تو میں معافی مانگ لیتا ھوں چلو تعلق بچ جائے۔ میری انا کی خیر ھے۔ دوستی، تعلق، رشتے سے انا بڑی نہیں ھوتی ۔ تقریبا پچاس سال سے یہی پریکٹس میری زندگی کا حصہ بن گئی ھے۔ اور زندگی گزر رھی ھے شاید گزر ھی جائے۔ بہت سے دوستوں نے نوکری کرنے نہ دی اس بات کو بھی درگزر کیا، میری بیٹیاں یقیننا مجھ سے چھوٹی ھیں میں اکثر ان سے بھی معافی مانگنے میں دیر نہیں لگاتا ھوں ۔ میری بیوی اکثر غصے میں اظہر یہ کیا بات ھوئی۔
میں اپنی اس بری عادت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ھوچکا ھوں لوگ اس کو شاید میری کمزوری سمجھنے لگ گئے ھیں کہ جو مرضی کرلو اس نے کون سا ناراض ھونا ھے۔ زیادہ سے زیادہ چپ ھی ھوجائے گا۔ مجھے چپ لگ گئی ھے اب کم بولتا ھوں۔ زیادہ روتا رھتا ھوں۔ جس جس نے جو تکلیف دی سب کو معاف کرتا ھوں اور ساتھ ساتھ معافی بھی مانگتا رھتا ھوں۔
شاید میں بدل رھا ھوں اب میں احتجاج کرنا شروع ھوگیا ھوں سب کے رویوں کا پر ابھی خاموش احتجاج ھے۔ ڈرتا ھوں اس وقت سے جب یہ با آواز بلند ھوجائے۔
کچھ ھفتوں سے مجھے پہلے جیسا دکھائی اور سنائی نہیں دے رھا سب بدل رھا ھے۔ مجھے کچھ اچھا محسوس نہیں ھورھا۔ میرے اندر کی خاموشی شاید ٹوٹ رھی ھے۔ اب سمجھ نہیں آرھی کہ کچھ بن رھا ھے یا ٹوٹ رھا ھے۔ پر میں نے تو آج تک ٹریفک کا اشارہ بھی کبھی نہیں توڑا حالانکہ سب سڑکوں سے میری آشنائی ھے وہ میرا احترام کرتیں بھی ھیں۔ مجھے اپنی اپنی محسوس ھوتی ھیں۔ میں راستہ بھول جاوں تو میری راھنمائی بھی کرتی ھیں۔ مجھے سمجھ نہیں لگ رھی جب میرے اپنوں کا دل میری وجہ سے ٹوٹتا ھے تو میں بہت شرمسار اور بے چین ھوجاتا ھوں میں نے یہ کیا کردیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاھیئے تھا اور پھر وھی معاف کر دیں معافی چاھتا ھوں کی گردان شروع کردیتا ھوں۔ اور یہ سب کہنے کے بعد مجھے ایسا لگتا ھے کہ میں شاید نارمل ھوگیا ھوں پہلے جیسا پر میرے اپنے اپنی اپنی ڈائری بنا رھے ھیں اور اس میں دکھوں تکلیفوں کے ماونٹ ایورسٹ لکھ رھے ھیں ۔ جو میں نے ان کیلئے کھڑے کئے۔ میں ایک بار پھر اس غلطی کیلئے معافی چاھتا ھوں۔ مجھے معاف کردیجئے اس ڈائری کو اگر ممکن ھو تو آگ لگا دیجئے۔ شاید تعلق بچ جائیں ۔ ورنہ میرے بس میں نہیں نفرت کے ان پہاڑوں کو سر کرنا یا کھودنا ۔ میں بوڑھا ھو رھا ھوں۔میری ھمت جواب دے رھی ھے۔ نئے تعلق ،رشتے دوستیاں بنانے کے قابل بھی نہیں ھوں۔ ایک مودبانہ گزارش ھے آپ میری زندگی سے جس طرح سے بھی وابستہ ھیں ۔ میرے دفتر کے ساتھی ھیں،میرے استاد ھیں۔میرے شاگرد ھیں، میرے کلاس فیلو ھیں، میرے عزیز ھیں،میرے دوست ھیں، میرے اپنے ھیں یا پھر میرے غیر ھیں میں اپنی ھر اس غلطی کی معافی چاھتا ھوں جو میں نے کی ھے یا نہیں کی۔ مجھے معاف کر دیجئے۔میرا خیال ھے کہ آپکی اپنی گفتگو آپکی دشمن ھوتی ھے آپ کے پیارے جو آپ کو سننا چاھتے ھیں۔ وہ سننے کے ساتھ ساتھ ڈائری بھی بناتے رھتے ھیں اور وقتا فوقتا اس ڈائری کو کھول طعنوں کی شکل میں استعمال کرتے رھتے ھیں۔ جب آپ کو چپ لگ جاتی ھے تو پھر آپکی خاموشی بھی گالی بن جاتی ھے کیا سوچ رھے ھیں،کیا پریشانی ھے، آجکل گفتگو کس سے ھو رھی ھے۔ ایک بہرا گونگا کسی سے کیا بولے گا اور کیا سنے گا۔
میں زندگی کو آسان بنانا چاھتا ھوں اپنی بھی اور آپکی بھی۔ میری مدد کیجئے۔
کہیں دیر نہ ھوجائے ۔ میں آپ سے معافی چاھتا ھوں بے شک غلطی میری ھو یا آپ کی درگزر کر دیجئے۔ مجھے معاف کردیجئے۔ شکریہ۔

Prev محرومیت
Next تعلق

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.