مورچہ بند

مورچہ بند
تحریر محمد اظہر حفیظ

جب دشمن سر پر چڑھ آئے اور کمک بھی کم ھو تو مورچہ بند ھو کر ان کا مقابلہ کرتے ھیں۔ دشمن گلی محلوں میں دندھناتا پھر رھا ھے تعداد میں بھی زیادہ ھے اور ھر باھر نکلنے والے پر جان لیوا حملہ کرتا ھے اور متاثرہ شخص کو اپنا ساتھی بنا کر تیار کر لیتا ھے کہ آج سے تم میری طرف سے کام کرو گے اور کوئی بھی اس کی اس پیشکش کو ٹھکرا نہیں سکتا اور اس کا سافٹ وئیر ھی بدل جاتا ھے اور اس کو اس کے گھر والے بھی دوبارہ گھر لانے کو تیار نہیں ھوتے اور اس کو ایک ایسی جیل بھیج دیا جاتا ھے جہاں اسکا کوئی اپنا بھی نہیں مل سکتا۔ وہ مورچے میں رھنے کو اذیت سمجھتا ھے بیوی بچوں ساتھ ماں باپ کے ساتھ۔ لیکن تیار ھے ایک ایسی جیل میں جانے کو جس کا نام قرنطینہ سنٹر ھے، وینٹیلیٹر ھے کیونکہ آپ نے احتیاط نہیں کی اب کیسا شکوہ کہ ھمیں باندھ کر رکھا جا رھا ھے سہولیات کم ھیں، جب مورچے سے نکل کر دشمن کا شکار بنو گے قیدی بن جاو گے، تو کیا وہ تمھیں فائیواسٹار ھوٹلز میں رکھے گا، ابھی بھی محفوظ وھی ھیں جو مورچہ بند ھیں باقی دشمن کو دعوت عام دے رھے ھیں آو مجھ پر حملہ کرو۔
مجھے اداکارہ گوری کی ایک فلم یاد آرھی ھے اسکی ماں کہتی ھے گوری تو ویاہ کر لے تو جواب میں گوری کہتی ھے ، ماں میں اس بندے دی ووھٹی بنا گی جھیڑا چھ گولیاں کھا کے وی کھلوتا روے، اگلا سین ھیرو گوری میرے نال ویاہ کر لے تینوں میری شرط دا پتہ اے اھو تیری ماں نے دسیا اے چل فر بسم اللہ کر تے مار میری چھاتی وچ چھ گولیاں تے ووھٹی بنن نوں تیار ھوجا۔
آج کل لگتا ھے شاید سب لڑکیوں نے یہ شرط رکھی ھے جو کرونا سے بچ جائے گا وہ ھمارا دلہا بن سکے گا۔ کیونکہ جس طرح جوان گھروں سے نکل کر باھر چھتر کھارھے ھیں ضرور کوئی تو کشش ھوگی جس کی طرف بھاگے جارھے ھیں۔ ھر دوسری پوسٹ گھر پر رھیں، محفوظ رھیں، فاصلہ رکھیں، رش میں مت جائیں، غیر ضروری سفر نہ کریں، ھاتھ بار بار دھوئیں، ھمارے پاس طبی سہولیات کم ھیں، احتیاط کیجئے، پر ھمارے جوان تو گلی محلوں میں کرونا کو ایسے ڈھونڈھ رھے ھیں جیسے یہ کوئی انعام ھو، تمغہ امتیاز ھو۔
اس جنگ کو جیتنے کا ایک ھی طریقہ ھے مورچہ بند ھونا، لڑنا یقینا ھلاکت ھے۔ اور خودکشی کو حرام کہا گیا ھے، شہید کی شرائط دوسری ھیں۔ فرق کو سمجھ لیں، وباء آکر شکار کرے تو آپ شہید ھیں، وباء ڈھونڈ کر شکار ھونا خود خودکشی ھے۔ سفری موت شہادت ھے ، ٹرین کے آگے لیٹ کر مرنا خودکشی ھے۔ فرق جانیے اور مورچہ بند رھے۔ موت سے پہلے مرنے کی کوشش مت کیجئے۔ اپنا اور اپنے پیاروں کا گھر میں رہ کر ھی خیال رکھیئے۔ بس ایک کام کرنا ھے مورچہ بند رھنا ھے، دشمن خود ھلاک ھوجائے گا جب اس کو کوئی شکار نہیں ملے گا کچھ دنوں کی ھی تو بات ھے۔ انشاء اللہ مسجدیں آباد ھوں گی، شادی ھال سج جائیں گے، بازار آباد ھوجائیں گے، سیر گاھیں کھل جائیں گی۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں کھل جائیں گی،دفتر کھل جائیں گے، گھروں کی رونقیں بحال ھوں گی، گلے بھی ملیں گے اور مصافحہ بھی کریں گے۔ ھر طرف عید ھوگی۔ پکوان پکیں گے سب مل بیٹھیں گے۔ پھر ھم تم ھونگے جنگل ھوگا رقص میں سارا منظر ھوگا۔

Prev میرا رب
Next میں کہاں ھوں

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.