مکھنا

مکھنا

تحریر محمد اظہر حفیظ

رات کے پچھلے پہر عنایت حسین بھٹی صاحب کو سن رھا تھا کیا کمال انسان اور گلوکار تھے، گا رھے تھے چن میرے مکھنا، اور مجھے کئی چن اور مکھنا یاد آگئے، شازیہ منظور صاحبہ نے بھی اس گانے سے بہت شہرت پائی اور ان کواس گانے ویڈیو نے اور خاص طور پر نرما کی پرفارمنس نے خاصی شہرت دلوائی ، روف انور صاحب ایک صاحب علم انسان تھے ھمارے استادوں میں سے تھے، انھوں نے محبت میں اپنا گھر بار سب تباہ کردیا اس پر وہ اکثر رنجیدہ رھتے تھے، پر شازیہ منظور صاحبہ کا گانا چن میرے مکھنا بلند آواز میں لگا کر اکثر جھومتے تھے اور زیر لب مسکراتے بھی تھے جیسے ان کا مکھنا ان کے ساتھ ڈانس کر رھا ھو، مجھے اس وقت انکی یہ حالت سمجھ نہیں آتی تھی، کہ قوالی پر تو لوگوں کو وجد میں جاتے دیکھا پر ایک گانے پر کسی کو وجد میں جاتے پہلی دفعہ دیکھا ھے، عنایت حسین بھٹی صاحب کے لب لہجہ اور آواز کو پہنچنا شاید ممکن نہیں، میرا عنایت حسین بھٹی صاحب کی آواز سے پہلا تعارف ھمارے کلاس فیلو راو دلشاد علی صاحب نے کروایا تھا، وہ ایک مناسب گلوکار ھیں پر انکو گانا ایک ھی یاد تھا سجناں نے بوے اگے چک تان لئی اور چار سال یہی سناتے رھے گانا اور بول بہت زبردست تھے جس کی وجہ سے ھم نے عنائت حسین بھٹی صاحب کو سننا شروع کردیا، اور ان کے کئی شہرہ آفاق گانے بھی سننے کو ملے، او پیا جاندا ای یاریاں دا ڈنگیا، اور میں ان کو بار بار سنتا تھا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا، کئی دفعہ تو رو بھی دیتے تھے، کیونکہ گانے میں موسیقیت کے ساتھ ساتھ شاعری بھی بہت شاندار ھوتی تھی ، آجکل ھم گانے پر ڈانس تو کرسکتے ھیں پر سمجھ نہیں سکتے، میرے ایک دوست اپنی محبت کی کہانی سنا رھے تھے کہ ھم دونوں ایک دوسرے کو مکھنا کہتے تھے، لفظ ھی بہت خوبصورت ھے مکھنا، مکھن کی طرح ملائم، مجھے اس دن بھی عنایت حسین بھٹی صاحب کا گانا کچھ سمجھ آیا کہ وہ کیوں کہتے ھیں چن میرے مکھنا، استعارے تو بہت سنے کوئی اپنے محبوب کو چاند کہتا ھے اور کوئی پھول کہتا ھے کوئی اس کی ھنسی کو جھرنے سے تشبیہ دیتا اور کوئی اس کی آنکھوں کو ھرنی جیسی آنکھیں کہتا ھے، کوئی اس کی آواز کو کوئل کی کوکو سے تشبیہ دیتا ھے، ھر تشبیہ کیلئے مختلف الفاظ استعمال ھوتے ھیں پر جتنا مکمل لفظ مکھنا ھے شاید ھی ھو، اس کا رنگ، لذت، ملائمیت، خوشبو، شکل، دودھ سے نکلنا، دودھ کو رب کے نور سے جوڑنا، پاکیزہ ھونا، اگر ان سب چیزوں پر غور کیا جائے تو عاشق اور معشوق دونوں کیلئے مکھنا سے بہتر لفظ شاید ھی کوئی ممکن ھو، اس کی تفصیل جیسے عنائت حسین بھٹی صاحب نے گا کر پیش کی ھے چن میرے مکھنا ھن مشکل ھوگیا ساڈا بچنا چن میرے مکھنا، یہ جو مکھنا ھوتے ھیں نا ان کے دیکھنے میں ھنسنے میں جادوگریاں بہت ھوتی ھیں، اور جادو بھی وہ جو سر چڑ کر بولے، مجھے کچھ سنیاسی بابوں سے بھی اختلاف ھے محبوب آپکے قدموں میں، اویے جاہلو، دل میں بسنے والے محبوب کو قدموں میں لے آئے تو وہ محبوب تو نہ رھا، محبوب تو آنکھوں کی روشنی ھوتے ھیں دل کی ڈھرکن ھوتے ھیں، ان کو سر آنکھوں پر ھی رھنے دو، قدموں میں لا کر کیا کرو گے، مکھنا ایک بہترین لفظ ھے محبوب کیلئے، عاشق کیلئے، معشوق کیلئے کیونکہ اس کو ھمیشہ ناز سے اٹھاتے ھی دیکھا گیا ھے اور جس نے قدموں میں گرایا وہ خود گر پڑا،

Prev عمران قریشی
Next میری خواھشیں

Comments are closed.

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.