میرا دل 

میرا دل 
تحریر محمد اظہر حفیظ
میرا دل کرتا ھے بے شک قانون عرب ممالک کی طرح نافظ نہ ھو ۔ پر اس طرح کی لسی (لبن) تو یہاں مہیا کی جا سکتی ھے۔ 
بڑی بڑی باتیں ھر حکومت کا وطیرہ بن چکی ھے۔ 
کتنے بے شرم اور بے حس ھوتے ھیں وہ لوگ جو حکومت کے ترجمان ھوتے ھیں اور حکومتی غلطیوں کی صفائیاں پیش کرتے ھیں۔ 
اور کتنا خوبصورت ھمارا میڈیا ھے جو انکی شان کے خلاف سوال بھی نہیں کرتا۔ مجھے یاد ھے زبیدہ جلال صاحبہ مشرف صاحب کے دور میں وزیر تھیں اور ایک پریس بریفنگ میں علامہ اقبال یونیورسٹی کے ملازمین بیٹھے تھے اور ان کے ذمہ تھا سوال کرنا اور کسی کو اجازت نہیں تھی سوال بھی لکھ کر دیئے گئے تھے۔ میڈیا ماشااللہ شروع دن سے آزاد ھے ۔ میرے چھوٹے بھائی شکیل قرار ماشااللہ نیشنل پریس کلب کے صدر منتخب ھوئے آج فون کیا بھائی وہ سب کام کردو جس کا آپ کو شکوہ تھا یا ھونے چاھیئے تھے دوسری طرف انور رضا بھی میرا بھائی ان سے بھی درخواست کی میری جان کچھ کردیو ھور کچھ نہیں تو میڈیا ھی آزاد کروادیو۔ اللہ ان دونوں کو ھمت دیں اور اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق دیں امین۔
میرا دل کرتا ھے سب اچھا ھو جائے۔
مجھے یاد ھے جب میں نیشنل کالج آف آرٹس لاھور میں داخل ھوا اور میں نے کچھ اساتذہ کو اچھا کام کرنے والے بچوں کا دشمن دیکھا تو دل دکھتا تھا پر کر کچھ نہیں سکتے تھے آج نیشنل کالج آف آرٹس راولپنڈی کا رزلٹ دیکھا تو دل پھر انھی حالات میں واپس چلا گیا ۔ واقعی آرٹ میں مارکنگ کا کوئی اصول واضع نہیں ھے جو دل استاد میں آئے کر گزرے۔ 
33 سال سے تقریبا فائن آرٹ سے وابستہ ھوں اس کی خرابی صرف یہ سمجھ آئی کوئی آرٹسٹ سے نہیں پوچھتا کیا بنایا ھے جو خود سمجھتا ھے وہ بنا ھوا دیکھنا چاھتا ھے ۔ میرے خیال میں آرٹ پر تنقید اور آرٹ مارکنگ کی بھی باقاعدہ تربیت ھونی چاھیئے۔ 
تاکہ کسی کا حق نہ مارا جا سکے ۔ ساھیوال میں ایک واقعہ میں کچھ لوگوں کی ھلاکت کا ھر طرف چرچا ھے اور میرا دل خون کے آنسو روتا ھے جب بار بار اس یتیم مسکین بچے سے میڈیا پوچھتا ھے بیٹے کیا ھوا تھا کون کون ھلاک ھوا جی میری امی میرے بابا اور میری آپی اور ابو کے دوست۔ 
وہ جو بھی تھے رب جانتا ھے پر جب فائرنگ ھوئی تو ماں نے تین بچوں کو اپنے ساتھ لگا کر چھپا لیا خود قربان ھوگئیں اور بچے بچ گئے ۔ یہ ماں بھی نا۔
پتہ نہیں کیا چیز ھوتی ھے۔ جب آپنی نہیں رھتی نہ تو دوسروں کی دیکھ دیکھ رونا آتا رھتا ھے ناجانے سب مائیں اتنی عظیم کیوں ھوتی ھیں۔ 
میرا دل کرتا ھے ایک بندوق میرے کول وی ھوے تے کوئی ایک کروڑ خون معاف ھووے پھر بتاوں کہ یہ ھے نیا پاکستان تقریبا ایک کروڑ کی قربانی چاھیئے ۔ معافی کسی کی بھی نہ ھو۔ ھر شعبے سے اقبال کے خود ساختہ شاھین نما گدھ چنے جائیں اور ان کے جسموں میں گولیوں کو چن دیا جائے۔ 
کوئی زیادہ مشکل نہیں ھے نیا پاکستان بنانا۔ عثمان بزدار صاحب تو وسیم اکرم ھیں جس نے انکو اس بچے کو ھسپتال جاکر دیکھنے کا مشورہ دیا اسکا شکریہ اور جس نے ساتھ پھول لے جانے کا مشورہ دیا اس کا نام بتایا جائے تاکہ جب اسکے ماں باپ ھلاک ھوں تو پوری قوم کی طرف سے گلدستے بجھوائے جا سکیں وہ جو بھی ھو۔ 
بندر کے ھاتھ استرا آجائے تو وہ اپنے کان کاٹ لیتا ھے سنا تھا دیکھ بھی لیا۔ ھماری خفیہ ایجنسیاں الحمدللہ دنیا کی مانی ھوئی ایجنسیاں ھیں پر جو جگ ھنسائی کا موقعہ صوبائی وزیر قانون نے مہیا کیا اس کا بھی پتہ لگایا جانا چاھیئے کہ یہ کیا مذاق ھے۔ اور کیوں کیا گیا کس کو بچانے کیلئے کیا گیا۔ 
ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے لواحقین کو ادائیگی اور پھر گورنمنٹ کی طرف سے ادائیگی یہ سب کیا مذاق ھے ۔ کس لئے پیسے بانٹ رھے ھو۔ 
حکومت فوجی ھو یا جمہوری جو غلط ھے وہ غلط ھی ھے۔ اللہ سب کو ھدایت دیں۔ امین 
میری چار بیٹیاں ھیں حالات زمانہ دیکھتے ھوئے میں چاروں سے باتیں کر رھا تھا بیٹی علیزے آپ سب سے بڑی ھیں آپ نے میرے ساتھ اٹھارہ سال زندگی کے گزارے بیٹی فاطمہ آپ دوسرے نمبر پر ھیں آپ نے میرے ساتھ زندگی کے سترہ سال گزارے بیٹی عائشہ آپ تیسرے نمبر پر ھیں آپ نے زندگی کے چودہ سال میرے ساتھ گزارے بیٹی عبیرہ چوتھے نمبر پر ھے اس نے صرف آٹھ سال میرے ساتھ گزارے سب سے کم ناز نخرے میں نے اس کے اٹھائے میری بیٹیو تم سب اسکا خیال رکھا کرو وقت اور حالات کا کیا پتہ ۔ بابا جی آپ کو ھر وقت اسی کی پڑی رھتی ھے میری جان میری بات کو سمجھو حالات کا کچھ نہیں پتہ کل کیا ھو ۔ 
میرے دل میں کیا ھے جو ان کو بتا سکوں۔ میری بیوی کو آج کرنٹ لگ گیا کہنے لگی یار اگر مجھے کچھ ھوگیا تو پلیز ان کو اکیلے مت چھوڑنا ان سے ناراض مت ھونا اسکو کیا بتلاتا میں تو کبھی کسی سے بھی ناراض نہیں ھوا یہ تو میری اولاد ھیں ان سے کیسے۔ 
تین بچے جو واقعی بچ گئے ھیں ان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بیٹیاں تو میری عبیرہ سے بھی چھوٹی ھیں جو ابھی بھی میرے ساتھ سوئی ھوئی ھے دروازہ کٹکا کون باباجی عبیرہ کیا بات ھے بابا جی ڈر لگتا ھے چل میرے ساتھ سو جا۔ سوچتا ھوں انکی ساری زندگی کیسے گزرے گی اس تاوان کے بدلے جو انکے ماں باپ کی موت کے بدلے ادا کیا گیا ھے بھائی تو میں بھی ھوں میری ماں جی اکتالیس سال کا تھا جب اللہ پاس گیئں اور ابا جب میں پینتالیس سال کا تھا اللہ پاس گیئے میں اپنی ایک اکلوتی بہن کا حق ادا نہیں کرپاتا وہ ننھا محمد عمیر خلیل کیسے اس چھوٹی عمر میں دو بہنوں کا خیال رکھے گا۔ جن کے ھاتھ میں فیڈر ھیں پتہ نہیں اس کو فیڈر بنانا بھی آتا ھے کہ نہیں اس کو کہانی سنانی بھی آتی ھے کہ نہیں پر وہ ان کو سلا سکتا ھے سو جاو ورنہ پولیس والے انکل آجائیں گے سو جاو۔
پاکستان زندہ باد عوام۔ پاکستان پائندہ باد

Prev عدالت
Next پاکستان کی نیشنیلٹی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.