میرا گاوں

میرا گاوں
تحریر محمد اظہر حفیظ
258 رب (رکھ برانچ نہر) پھرالہ تحصیل و ضلع لائلپور 
میرا گاوں لائلپور سے 25 کلومیٹر دور سمندری روڈ پر ڈجکوٹ موڑ سے پہلے آتا ھے وھاں سے اس کا فاصلہ ایک کلومیٹرھے گاوں میں ایک پرائمری سکول لڑکوں کا اور ایک پرائمری سکول لڑکیوں کا ھوتا تھا مسجدیں تین تھیں پر جامع مسجد صرف ایک تھی سب وھاں اکٹھے نماز پڑھتے تھے گاوں میں اتفاق مثالی تھا اس میں ھمارے بڑوں کی کاوشوں کے علاوہ جامع مسجد کے خطیب اور امام حافظ صاحب کا بہت ھاتھ تھا صبح کا آغاز سب بچے مسجد میں نماز کے بعد تلاوت قران پاک سے کرتے تھے حافظ صاحب ناظرہ قران کے ساتھ ساتھ مختلف دعائیں بھی یاد کراتے تھے۔ میرے بڑے پھوپھو زاد بھائی میاں عبدالقیوم محروم گاوں کے نمبردار تھے اور گاوں کا سارا نظام وھی دیکھتے تھے گاوں میں ایک چوکیدار تھا اور اور صفائی والا سارا گاوں ھی صاف ستھراتھا نالیاں بھی صاف تھیں اور دل بھی۔ صبح صبح سکول جانا فصلوں کے اوپر تختی کو پھیرتے جانا وہ اچھی طرح شبنم سے دھل جاتی تھی اور سکول جا کر اس پر گاچی لگا کر دو تختیوں کو ساتھ ساتھ کھڑا کرنا اور وہ تھوڑی دیر میں خشک اور ملائم ھوجاتی تھی پھر اس پر املاء خوش خطی اور بہت سا کام کرنا ماسٹر فضل حسین صاحب ماسٹر اقبال صاحب ماسٹر الیاس صاحب جیسے استاد تھے ماسٹر الیاس صاحب بلا معاوضہ گاوں کےبچوں کو سکول کے بعد پڑھاتے بھی تھے ھمارے گھروں کے سامنے بھائی جان نے ایک کمیونٹی سینٹر بنایا ھوا تھا ماسٹر صاحب وھیں ھم سب کی کلاسز لیتے تھے۔ اور کیا زمانہ تھا ھمارے گھر کے دو کمرے تھے ایک سٹور ایک کچن ایک باتھ روم اور ایک غسل خانہ گھر شہری طرز پر نئے بنے ھوئے تھے ساتھ تایا کا گھر تھا پھر ابا جی کے کزنز کے گھر تھا سب گھر ھمارے ھی تھے دوسری طرف پھر تایا اور پھوپھو کے گھر تھے چھتیں گھر صحن سیڑھیاں دل دماغ سب سانجھے تھے بہت پیار محبت سے رھتے تھے اور سب اس کا سہرا میری والدہ کو دیتے تھے کہ سب میں اتفاق انہوں نے قائم رکھا ھواھے لین دین سانجھا تھا دودھ لسی مکھن سب سانجھا سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے بڑے تایا جی میاں طفیل محمد صاحب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے وہ ھر غمی خوشی پر گاوں تشریف لاتے تھے جماعت کی ھائی ایس گاڑی ھوتی تھی اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس جناح کیپ پہنے ھوئے دیمی آواز میں اردو میں گفتگو کرنا جالندھرکے پہلے بی اے ایل ایل بی تھے ھر ایک سے فردا فردا حال پوچھنا مشورے دینا کون کیا کر رھا ھے انکو سب کی فکر بھی ھوتی تھی اور خبر بھی میاں صاحب کے علاوہ میرے اباجی اور دو تایا جی بھی جناح کیپ پہنتے تھے میاں صاحب کی کوشش سے 1967 میں ھی میری پیدائش سے پہلے ھی گاوں بجلی آگئی تھی 
ھمارے گھر سے نکل کر بائیں طرف جائیں تو ایک کھالہ آتا تھا اور اس کے کنارے پیپل کے قدآور درخت ھوتے تھے پھر کچھ فاصلے پر ھمارا سکول اور کیکر کے درختوں کے نیچے ھماری کلاسز ھوتی تھیں سکول کی چھت کمزورتھی اس لیئے کلاسز باھر ھی ھوتی تھیں کیکر کی پھلیوں کا ایک آپنا میٹھا پن اور مزا تھا اور اس کے کانٹوں کا چھبنے کاایک اور مزا سکول میں ایک اکلوتا نلکا ھوتا تھا اس کی خاصیت یہ تھی کہ ھمیشہ خراب رھتا تھا اس لیے آج تک پتہ نہیں چل سکا اسکا پانی کھارا تھا یا میٹھا سکول کے ایک طرف پانی کا جوھڑ تھا جہاں سے سب جانور پانی پیتے تھے اور اس میں جونکیں بہت تھی اکثر جانوروں کو لگی ھوتی تھیں اور انکا خون چوستیں تھیں گھر سے دائیں طرف جائیں تو گرودوارہ تھا اور اس سے آگے جا کر لڑکیوں کا سکول گاوں میں آرائیں اور گجر ھی آباد ھوئے 1947 میں صرف ایک گھر تھا جن کو جٹ کہتے تھے تو ایک دن ابا جی سے پوچھا یہ ایک گھر جٹوں کا کیسے ھنستے ھوئے کہنے لگے یار ھیں تو یہ آرائیں ھی انکی کی حرکتیں جٹوں والی ھیں اس لیے سب انکو جٹ کہتے ھیں۔ گاوں میں کماد گندم کپاس کی فصل زیادہ ھوتی تھی کچھ درخت آم کے تھے اس کے علاوہ کیکر اور ٹاھلی کے درخت ھی زیادہ دیکھے۔ پھر علاقہ سیم زدہ ھونے لگ گیا ۔ بھینسیں اکثر گھروں میں تھیں اورکتے کم ھی تھے گھوڑے بھی شاید ایک دو لیکن بیل بیل گاڑیاں عام تھیں کچھ لوگوں پاس ٹریکٹر ٹرالی بھی تھے بس سکون ماحول تھا ساتھ والے قصبے ڈجکوٹ میں بڑا بازار تھا اور میلہ لگتا تھا ڈاکٹر بھی ڈجکوٹ ھی بیٹھتا تھا ھمارے گاوں میں دو حکیم تھے پر بیمار بھی کوئی نہیں ھوتا تھا سب اچھا اچھا ھی تھا میں نے کبھی اپنے گاوں میں پولیس نہیں دیکھی مجھے یاد ھے ھمارے کزن عابد بھائی ماما جی زکریا کے بیٹھے تھے انکو شام کو سائیکل پر گھر آتے ھوئے کسی نے گولی ماردی اور وہ فوت ھوگئے یہ پہلا قتل یا جرم تھا جو میں نے دیکھا تو سب یہی کہہ رھے تھے اسکو غلطی سے گولی لگ گئی ورنہ ھمارے گاوں کا ماحول ھی ایسا نہیں تھا سب دھیمے مزاج کے لوگ تھے سب سے زیادہ غصے والے میرے والد محترم میاں حفیظ صاحب ھی تھی بڑے بڑے پھنے خاں راستہ بدل کر گزرتے تھے یا پھر چاچا رشید گلی میں سے کوئی دو بار گزرا کیا انکی آواز آتی تھی کاکا انوں روک کے پوچھ کی مسئلہ اے اور پھر اس کی خیر نہیں اور ڈھائی من کی بوری چاچا جی رشید ایسے اٹھاتے تھے جیسے کوئی ھلکی سی چیز ھو ابھی ماشااللہ وہ 80 سال سے زیادہ ھوں گے جب بھی کوئی بھاری چیز آئے اور ھم سوچ رھے ھوتے ھیں چاچا جی کی آواز آتی ھے کاکا ایک پاسے ھوجا اکثر میت کی تدفین کے بعد پتھر کی سلیب یا تو چچا رشید رکھتے ھیں یا پھر اب میرے چچا زاد بھائی ناصر۔
ھمارے دادا جی ماشااللہ سے سات بھائی تھے اور سب ھی صاحب اولاد تھے بہت بڑا کنبہ اور ماشااللہ اتفاق ایسا کہ سب ھی مثال دیں۔ زندگی رواں دواں تھی کچے راستے تھے اور پکے گھر۔بجلی پانی سب کچھ تھا۔
پھر ایک ھم سے غلطی ھوگئی اور گاوں میں سڑک منظور ھوگئی۔ عبدالقیوم بھائی نے وہ گاوں کے درمیان سے ھمارے گھروں کے سامنے سے بنوادی اور اب مٹی اڑھتی تھی باھر اکھٹے بیٹھنے کا کلچر ختم ھوگیا گاوں میں کاریں رکشے چلنا شروع ھوگئے جس جس کو موقع ملا اسی سڑک کے راستے گاوں چھوڑتا چلا گیا اس سڑک کے راست بد امنی جرائم اور پولیس بھی ھمارے گاوں آنا شروع ھوگئی حافظ صاحب کا انتقال ھوگیا اور گاوں میں چار جامع مساجد بھی بن گئی فرقہ وارانہ فساد بھی شروع ھوگئے اور سیاست بھی سکول مڈل اور ھائی ھوگئے اور بلڈ پریشر بھی ھائی ھم بھی گاوں چھوڑ آئے اور ھمارے بڑے بھی تایا جی سب فوت ھوگئے ابا جی بھی اب سب چچا ھیں یا پھر پھوپھو اور جب گاوں جاتا ھوں تو خیال آتا ھے سڑک نہیں بننی چاھیئے تھی اس کے راستے آئیں تو برائیاں جدائیاں ھمارے گاوں اور سب آھستہ آھستہ جیسے جیسے موقعہ ملا یہاں سے چلے گئے ھیں اب شاید سڑک ٹوٹ گئی ھے کیونکہ چچا اصغر نے اپنے دو بچے گاوں پھوپھو کی طرف بیاھے ھیں اور ماشااللہ تایا زاد بھائی میاں طاھر نے اپنے بیٹے کی منگنی گاوں خالد بھائی کی بیٹی سے کی ھے مجھے اچھا لگ رھا ھے رشتے دوبارہ آپس میں جڑ رھے ھیں ماشااللہ سے۔
ایک تجویز ھے گاوں میں پکی سڑک نہیں پکے تعلق ھی ھونے چاھیں اور یہاں بسنے والوں کو یہیں رھنا چاھیئے میرے سکول کی عمارت بہت شاندار ھے پر وھاں ماسٹر الیاس صاحب نہیں ھیں وہ بھی اسی سڑک کے راستے واہ کینٹ آگئے ھیں کل پھر ان سے ملنے جاوں گا بہت شفقت کرتے ھیں میرے ساتھ ساتھ میرے والدین کو بھی دعائیں دیتے ھیں میرے پاس بہت سی تحریریں ھیں تصویریں ھیں گولڈ میڈل اعزازات ھیں پر میرا گاوں میری سادگی میرے دوست میرے ماں باپ میرے بڑے میرے پاس نہیں استاد جی سے کہوں گا دعا کریں مجھے سب واپس مل جائے سب نہیں تو میری سادگی میرا گاوں ھی واپس مل جائے۔
آپ بھی دعا کیجئے گا

Prev محبت
Next بد تمیز

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.