میری امی جان

میری امی جان

اسلام علیکم امی جان

آج 12 جون 2018 سات برس بیت گئے امی جان آپ کو اپنے اللہ پاس گئے ھوئے یقین خوش ھوں گی۔ جنت الفردوس میں رھائش پزیر ھوں گی اور ھماری منتظر ھوں گی ھمیشہ کی طرح جانے کب آئیں گے لیکن کیا بتاوں اپکو باجی اور بھائی تو رھے ھمیشہ صراط مستقیم پر اور میں ٹھہرا گنہگار بیٹا دعائیں تو بہت کی آپ نے پر مجھے اپنی خود سمجھ نہیں آتی کیا کرنا چاھتا ھوں۔
کہاں جانا چاھتا ھوں کیا بننا چاھتا ھوں۔ بس زندگی گزر رھی ھے پتہ نہیں پھرملاقات ھو نہ ھو ۔سب یہاں ٹھیک ھیں امی جی طارق بھائی کی بڑی بیٹی ایم ایس کر رھی ھے چھوٹی ڈاکٹر بن رھی ھے میں نے اپنی چاروں کو رب کے سپرد کردیا ھے دیکھیں کیا بنتی ھیں میری ترقی ھوگئی ھے پر صحت بس ٹھیک ھی ھے باجی کا بڑا بیٹا یونیورسٹی میں پڑھ رھا ھے اور باقی تیاری میں ھیں ابا جی بھی آپ کے چار سال بعد چلے گئے تھے یقینن ملاقاتیں ھوتی ھوں گی ابا جی بہت بدل گئے تھے نرم مزاج اور زیادہ خیال رکھنے والے روزانہ قبرستان جاتے تھے انکو تو سب دعائیں زبانی یاد ھوگئی تھیں جو قبرستان میں پڑھتے ھیں پر میرا وھی حال ھے نہ دعائے قنوت یاد ھوئی اور نہ ھی چوتھا قل بس دیکھ کر پڑھ لیتا ھوں آپ کے پاوں کی طرف قبر پر چاروں قل لکھے ھیں ایسے ھی ابا جی کی قبر کے پاس بھی لکھے ھوئے ھیں اور ساتھ منزل بھی لیکر جاتا ھوں کوشش کرتا ھوں دونوں کی قبروں پر ایک جیسی دعائیں مانگوں پر ھمیشہ آپ کے ھاں زیادہ دعائیں ھوجاتیں ھیں اور ابا جان کے ھاں کم ھر دفعہ سوچتا ھوں برابر پڑھوں گا لیکن اس کمی بیشی کا بھی حساب ھوگا مجھے پتہ ھے۔
آپ کی دعاوں کی ٹھنڈک جاری ھے الحمدللہ اور رب باری تعالی میرے سب کام خود ھی ٹھیک کر دیتے ھیں زندگی خوشحال ھے الحمدللہ ۔
ماشااللہ اب تو آپ دونوں اللہ پاس ھی ھیں تو دعاوں کا اثر بھی جلدی ھوتا ھوگا۔ 
اباجی کے حکم کے مطابق جو جو ذمہ داریاں میرے ذمہ لگا گئے تھے سب کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ھوں۔پھوپھو کو اور باجی کو عید بھیج دی ھے۔ بس روزانہ قبرستان کا چکر نہیں لگتا اور انکی آواز کانوں میں گھونجتی رھتی ھے یار تیری امی سانوں اڈیکدی ھوئے گی آج نہیں آئے چل میرا پتر چلیے دعا کر آئے۔ میری ماں میں کدھی سوچیا وی نہیں سی کہ ابا جی آپ کے ساتھ اتنی محبت کرتے ھیں ماں جی دھوپ ھوتی تھی یا بارش میں کہتا ابا جی چھتری لے لو تو کہتے تھے یار او وی تے اسطرح ھی پئی ھوئی سے سانو کیڑھا بارش خور دینا چل شاباش دیر نہ کر روز قبر پر پودوں اور گھاس کو خود پانی دیتے تھے انکے جانے کے بعد گھاس بھی خشک ھوگیا تھا اور ابا جی بھی ۔ امی جی میں آپ۔ ابا جی اور بچوں ساتھ مکہ اور مدینہ گیا تھا سب یادیں آپ کے ساتھ بھائی اور انکے بچے بھی ھو آئے ھیں اکیلئے انکو اندازہ ھی نہیں جب ماں باپ ساتھ ھو تو کیا مزہ ھے مکہ اور مدینہ کا۔ میری بیوی کہتی ھے پھر چلتے ھیں سوچتا ھوں ھر جگہ ساتھ یادیں آپ سے وابستہ ھیں جزبات کیسے قابو رکھوں گا ابھی بھی آپ کے اور اباجی کے کپڑے اکثر خرید لیتا ھوں اور پھر روتا رھتا ھوں اور پھر اباجی کی جرابیں اور ٹوتھ برش تو اکثر ھی لے آتا ھوں پہلے تو کئی دفعہ آپکے کمرے میں کئی دفعہ سلام کرنے بھی جاتا تھا آپکو تو پتہ ھے مجھے یاد نہیں رھتا بس یہ ھی اچھا ھے گھر داخل ھو کر بلند آواز میں سلام کرتا ھوں اور جب قبرستان پاس گزرتا ھوں تو سلام اور دعا بھی عادتوں میں شامل ھوگئی ھے اگلے جہاں تو کافی رونق ھوگی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ھماری امھات سب رشتے دار سب ھی تو ھیں وھاں ھم بھی جلدی آجائیں گے یہ دنیا کوئی اتنے مزے کی نہیں۔ بس اللہ ھی سب کو ھدایت دیں۔ امین
آپکا بیٹا محمد اظہر حفیظ

Prev ملاوٹ 
Next میرے پیارے اللہ جی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.