میرے اندر کا بچہ

میرے اندر کا بچہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

ساری زندگی کی میری بچت صرف میرے اندر کا بچہ ھی ھے جو میں نے نہ مرنے دیا اور نہ ھی گم ھونے دیا۔ 
میں زندگی کے مزے لیتا ھوں ھر ملنے والے کی شکل کسی نہ کسی سے ملاتا رھتا ھوں۔ کبھی پتنگ اڑاتا ھوں کبھی سائیکل چلاتا ھوں کبھی اپنے سکول جاتا ھوں اپنے دوستوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ ان سے ملتا ھوں۔ گڑ بنتے دیکھتا ھوں ،گاوں کی پکڈنڈیوں پر چلتا ھوں، درختوں پر جن بھوت سوچتا ھوں خود ھی ڈر جاتا ھوں خود ھی مسکرادیتا ھوں کبھی رو دیتا ھوں اور روتے روتے مسکرانے لگ جاتا ھوں ۔ بیٹھا بیٹھا کہیں سے کہیں چلا جاتا ھوں خود کو ڈھونڈتا رھتا ھوں گم ھوجاتا ھوں۔ مزے کرتا ھوں میں اپنے خیالوں میں خوابوں میں کسی کو بھی مرنے نہیں دیتا سب سے ملتا جلتا رھتا ھوں باتیں کرتا ھوں جب لوگوں کو سناتا ھوں وہ مجھے دیوانہ سمجھتے ھیں کیا بتلاوں کہ میں تو ابھی بچہ ھوں۔ مجھے اکثر یاد نہیں رھتا کہ میری ڈاڑھی آگئی ھے چار بچے ھیں میں ایسے کھیلتا ھوں جیسے بچے کھیلتے ھیں کبھی بیڈمنٹن کبھی کرکٹ کبھی ھاکی کبھی فٹبال کبھی باسکٹ بال اور چھپن چھپائی تو بہت کھیلتا ھوں کبھی اپنے بچوں ساتھ اور کبھی اکیلا خود ھی چھپ جاتا ھوں اور خود ھی ڈھونڈتا رھتا ھوں کبھی تو مل جاتا ھوں اور کئی دفعہ اپنے آپکو نہیں ڈھونڈ پاتا۔ 
کئی دفعہ جاتے ھووں کو آوازیں لگاتا ھوں اور کئی دفعہ گلی میں گزرتے بچوں کو تنگ کرتا ھوں ۔ کئی گھروں کی گھنٹی بجا بھاگ جاتا ھوں پر جو مزا گاوں میں آتا تھا کسی کے بھی دروازے کی کنڈی سے پیراشوٹ ڈور باندھ کر رات کے اندھیرے میں چھت پر چھپ کر بیٹھنا اور ڈور کھینچ کر کنڈی کھٹکانا اور جب کوئی دروازہ کھولتا تو ڈور ڈھیلی چھوڑ دینا پھر گھر والوں کا دروازہ کھولنا دائیں بائیں دیکھنا اور کہنا یار وھم ھی سی بار تے کوئی وی نہیں جب اس نے دروازہ لگانا ساتھ ھی پھر ڈور کھینچنا اور چھوڑ دینا پھر دروازہ کھلنا اور کوئی نہ ھونا ایک عجیب کھیل تھا۔ عجیب مزا تھا۔ 
میں شروع سے ھی ایک شرارتی بچہ تھا اور الحمدللہ اب بھی وہ شرارت میرے اندر موجود ھے بہت سنبھال کر رکھی ھے میری بیٹیاں بھی میرے اندر اس بچے کو سنبھالے ھوئے ھیں اکثر پوچھتی ھیں بے بی تم اتنے شرارتی کیوں ھو کہاں سے یہ سب سوچتے رھتے ھو۔ کیا بتاوں بس ایسا ھی ھوں کئی دفعہ سوچتا ھوں وہ کتنے ظالم لوگ ھیں جو اپنی ذات پر ظلم کرتے ھیں اور اپنے اندر کے بچے کو مار دیتے ھیں اور بڑے ھوجاتے ھیں۔ میں تو ابھی بھی جب بھی کبھی شاپنگ کرنے جاوں اپنی پسند کی سب شرٹیں اور پینٹیں خرید لیتا ھوں بلکل اس بچے کی طرح جو چاھتا ھے سب پسند کی چیزیں اس کے پاس ھوں مجھے جو اچھا لگے اس لےلوں۔ بتا دیتا ھوں آپ مجھے اچھے لگتے ھیں اور کوئی برا لگے تو بھی برملا کہہ دیتا ھوں ۔ کیونکہ بچے من کے سچے۔
کئی دفعہ سلش کے دوگلاس لے لیتا ھوں کہ جب مزا آنا شروع ھوگا تو پہلا ختم ھوجائے گا اور جب برگر ، رول پراٹھا،آئس کریم کھاتے ھیں جو بچہ بھی چھوڑے اس کو کھانا اپنا فرض سمجھتا ھوں۔ میں ناشتے میں ھمیشہ ایک روٹی کھاتا ھوں لیکن پراٹھے جب بھی کھاوں ھمیشہ دو کھاتا ھوں کیونکہ پیٹ کا بھرنا اور نیت کا بھرنا فرق ھوتا ھے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ زندگی میں ابلا انڈہ ایک کھایا ھو جب بھی کھائے الحمدللہ دو انڈے ھی کھائے۔ ایک تو امتحان میں آتا ھے تو ایک انڈے کو ھمیشہ مذاق ھی سمجھا ۔ میں سوچ سوچ مسکراتا رھتا ھوں اپنی شرارتیں اور لوگ پوچھتے ھیں جناب کیا ھوگیا کچھ ھمیں بھی تو بتائیں کیوں مسکرا رھے ھیں۔ کیا بتاوں ظالمو جو تم نے مار دیا ھے میں نے بچا کر رکھا ھوا ھے۔ وھی مجھے ھنساتا ھے اور تم ھو چکے ھو ایک سنجیدہ انسان اور کیوں نہ ھوں کیا قاتل بھی کبھی مسکرا سکتے ھیں ۔ اپنے اندر کے بچے کے قاتل۔ حیران ھوں جو لوگ مزاحیہ ڈرامے دیکھنے جاتے ھیں، جگتیں سنتے ھیں ھنسنے کیلئے بیچارے وہ کدھر گیا جو ساری عمر ھنساتا رھا اب اس کو مارکر ٹکٹ خریدتے ھو ھنسنے کیلئے۔ 
ایک درخواست ھے اگر اندر کا بچہ ابھی زندہ ھے تو اس کو بچا لیں ڈھونڈ لیں مزے لیں زندگی کے۔
خریدیں بلبلے والا سپرنگ بلبلے بناو انکو پکڑو ، جھولے لو زور زور سے آوازیں نکالو،انجان بندوں کو آوازیں لگاو، ڈھول بج رھا ھے دھمال ڈالو۔ قوالی ھو رھی ھے مست ھو جاو حال میں چلے جاو،ریت گلی میں آئی ھے بیٹھ جاو پاوں پر ریت ڈالو گھر بناو،اس ریت کے ڈھیر پر چڑھو بکھیر دو ریت کو،سڑک کنارے گول پتھر ڈھونڈو، اٹھا لاو گھر رنگ کر مزے کرو، کمرے کی دیوار پر لائن لگاو کچھ تو بناو یہ سب کرکے دیکھو یا کرنا شروع کردو دھشت اور دھشت گردی ختم ھوجائے گی کیونک بچے بدلہ نہیں لیتے بھول جاتے ھیں معاف کر دیتے ھیں۔ میں بھی ایسا ھی کرتا ھوں اور خوش رھتا ھوں۔ کیونکہ میں ایک بچہ ھوں

Prev بے خبر
Next میں ربّ نال دکھڑے پھولدا، جے بندہ ہندا . . .

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.