میرے دوست

میرے دوست
تحریر محمد اظہر حفیظ

میں اپنے دوستوں کا بہت احترام کرتا ھوں اگر کہیں میرے ساتھ چلو تو عمر بھر چلتا رھتا ھوں اور اگر کہہ دیں اکیلا چھوڑ دو مجھکو میں انکو اکیلا چھوڑ دیتا ھوں۔ دوستوں کے معاملات میں میں اپنی مرضی نہیں کرتا بس ان کی سنتا ھوں اور انکی مانتا ھوں۔ جس نے کہا دوبارہ فون نہ کرنا پھر کبھی فون نہیں کیا جب پیغام آیا فون کرو اگلے ھی لمحے فون کرلیا۔ اگر پیغام نہیں آیا تو پھر اپنی دھن میں رھتا ھوں ناراض نہیں ھوتا۔ کچھ دوستوں نے اپنے ٹیلیفون نمبر کبھی نہیں دیئے انکو یاد بھی کبھی نہیں کیا۔ اور نہ کبھی کسی سے انکا حال چال پوچھا دنیا یہ نہ سوچے کہ اپنے ھی دوستوں کا حال لوگوں سے پوچھ رھا ھے اور نہ ھی دوستوں کے بارے میں کسی سے رونا رویا کہ چھوڑ کر چلے گئے ھیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ نہ ملنے سے دوریاں آتی ھیں میں تو سال بعد ملوں یا دس سال بعد اسی جوش و جذبے سے ملتا ھوں ۔ جیسے ھمیشہ ملتا تھا۔ میرا نہیں خیال کہ دوست چھوڑنے کی چیز ھوتے ھیں یہ تو ھمیشہ ساتھ ھوتے ھیں اور محسوس ھوتے ھیں۔ جنہوں نے جانا ھوتا ھے انکو نہیں روکتے اور نہ ھی روکنا چاھئے۔ 
زندگی کے ھر سفر اور ھر موڑ پر نئے دوست بنتے ھیں پر پرانے اپنے اعلی مقام پر فائز رھتے ھیں کچھ کم ظرف یہ سوچتے ھیں شاید نئے دوستوں کی وجہ سے پرانے بھول گئے ھیں تو یہ آپکی سوچ ھے میری نہیں۔
مجھے جوڑنے کی عادت ھے اپنے سے وابستہ تمام رشتوں کو، تمام اشیاء کو۔
کوشش ھوتی ھے جہاں لڑائی جھگڑا ھو اس کو حل کراوں۔ 
صلح جو انسان ھوں اور صلح جوئی ھی پسند ھے۔ بدلے کا قائل نہیں ھوں معاف کرنے اور معافی مانگنے کو بہتر سمجھتا ھوں۔ جنہوں نے ساری زندگی زیادتیاں کی ان کیلئےبھی ھمیشہ اچھا سوچا اور اچھا ھی کیا۔ کبھی برا تو دشمن کا بھی نہیں چاھا۔ دشمنوں کا ھونا بھی ایک اچھی روایت ھے ورنہ بندہ معاف کس کو کرے اور اسی طرح دوستوں کا ھونا بھی ضروری ھے بندہ معافی کس سے مانگے۔ بس اسی طرح ھنستے روتے زندگی گزر رھی ھے زیادہ گزر گئی ھے تھوڑی رہ گئی ھے امید ھے گزر جائے گی انشاءاللہ۔
میں تو اللہ کا شکر گزار بندہ ھوں کہ اس نے دوست دشمن دونوں عطا کئے اور ان کی واضح نشانیاں بتادیں۔ مجھے اچھا لگتا ھے دشمنوں کو دوست بنانا پریقین کیجئے وہ بنتے نہیں ھیں بس اداکاری کرتے ھیں۔ اور موقع کی تلاش میں رھتے ھیں اور اپنا ھی نقصان کرتے رھتے ھیں ۔ اللہ انکو ھدایت دیں امین۔ میرے دوستوں اور دشمنوں دونوں کو سلامت رکھیں امین۔ 
میں ایک عجیب و غریب انسان ھوں عجیب زیادہ ھوں اور غریب کم ۔ میرا خیال ھے میں وہ سوال ھوں جو کسی کو سمجھ نہیں آتا اور ھر کوئی اپنے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتا ھے پر حل نہیں کرپاتا۔ اور میں ویسے کا ویسا ملنگ۔ میرے سارے دوست بہت ھی شاندار ھیں الحمدللہ ۔
اللہ سب کو ایسے دوست عطا کریں۔ جو ھر وقت دل و دماغ میں رھیں اور قائم رھیں امین۔ 
میں اپنے دوستوں کو دکھی نہیں دیکھ سکتا ھر وقت سب کیلئے دعا کرتا رھتا ھوں کہ میرے اللہ ان کیلئے آسانیاں کریں امین ۔ 
جھوٹ نہ بولتا ھوں نہ برداشت ھوتا ھے بے جا تعریف بھی مجھ سے نہیں ھوتی۔ بس جو نظر آتا ھے محسوس کرتا ھوں کہہ دیتا ھوں۔ پتہ نہیں ٹھیک کرتا ھوں یا غلط ۔ کئی دفعہ مجھے خود سمجھ نہیں آتی۔ اور نہ ھی میں سمجھنا چاھتا ھوں۔ میرے دوستوں میں میری بیوی اور چاروں بیٹیاں بھی شامل ھیں اور ھم زندگی کو بھرپور گزارتے ھیں ساتھ ساتھ رھتے ھیں۔ 
پر کچھ سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں ھیں جب بھی کوئی تحریر سوچ رھا ھوتا ھوں تو بیوی پوچھتی ھے آپکے اندر کیا چل رھا ھے سچ سچ بتائیں بس مسکرا دیتا ھوں اور سب سے پہلے تحریر اسی کو بھیجتا ھوں۔ تاکہ وہ جان سکے کہ میرے اندر کیا چل رھا تھا۔ میری بیٹیاں ھمیشہ مجھے مسکراتا دیکھنا چاھتی ھیں جب بھی پاس آتی ھیں یار بابا کوئی مزاحیہ سا واقعہ سنائیں ۔ بیٹا کیا میں جوکر ھوں ۔ یار بابا چلیں یار سنائیں اور پھر میں بھی شروع ھوجاتا ھوں انکو سنانے گاوں کے قصے کالج سکول کے قصے۔ کیونکہ دوستوں کی ھر بات میں مانتا ھوں اور وہ مجھے مسکراتے ھوئے اچھے لگتے ھیں۔

Prev الحمدللہ میں اپنے خواب دیکھتا ھوں
Next حساب

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.