میرے ھمسفر بنئے

میرے ھمسفر بنئے
تحریر محمد اظہر حفیظ
اسلام آباد میرے ساتھ چلئے دیکھتے ھیں ھر طرف سے روات والی سائیڈ سے داخل ھوں سڑک ذرا اونچی نیچی ھے پر اب بہتر ھورھی ھے بس ایک جگہ سڑک تنگ ھے وھاں کچھ رش بن جاتا ھے باقی ٹھیک ھے ۔ پہلے پتھر کے پہاڑ بہت ھوتے تھے اب سیمنٹ کے پہاڑ بہت ھوگئے ھیں میں چالیس سال سے اسلام آباد سے وابستہ ھوں پہلی دفعہ 1978 میں آیا تھا موسم بھی اچھا اور عجیب تھا کہیں بارش کہیں دھوپ کہیں بادل کچھ پتہ نہیں چلتا تھا ۔ بارشیں بھی خوب برستیں تھیں اور لئی نالہ بھی خوب چڑھتا تھا۔ پھر درخت کٹنا شروع ھوئے اور سیمنٹ کے پہاڑ بننا شروع۔ فیض آباد پر ٹریفک بہت جام ھوتی تھی حالانکہ ٹریفک بہت کم ھوتی تھی کچھ مورس گاڑیاں اور چند سوزوکیاں اور کچھ ٹانگے یا پھر مری کی بسیں ۔ پھر انقلاب آیا فیض آباد پل بن گیا اب تو ھر طرف پل ھی پل ھیں اور ٹریفک شدید پھنسی ھوئی۔ پتہ نہیں ھمیں اور کتنے راستے چاھیئں دو تین سیر گاھیں ھوتی تھیں دامن کوہ شکر پڑیاں روز اینڈ یاسمین گارڈن اور راول ڈیم ایک عاشقوں کی بیٹھک کنول جھیل بھی ھوتی تھی بڑا خوبصورت تنگ راستہ جگہ جگہ جوڑے بیٹھے پیار محبت کی پینگیں چڑھاتے تھے اب وہ جھیل بھی سیمنٹ کی بن گئی اور پیار محبت بھی پروان چڑھنا بند ھوگئے۔ شکر پڑیاں جو فلمی صنعت کی ضروت ھوتا تھا اکثر فلمیں یا گانے شوٹ ھوتے تھے اب غیر آباد ھوگیا ھے اس کا اکلوتا فوارہ بھی اب جوس کے ڈبوں کی اماج گاہ بن گیا ھے اور سٹیل کا چاند ستارہ نہ پہلے نظر آتا تھا نہ اب آتا ھے۔ عالمی حکمرانوں کے لگائے پودے بھی اب قد آور ھوگئے ھیں لیکن اب وہ ناکافی ھیں جتنے ھم نے کاٹے ھیں۔لیکن اس کی دوسری سمت اگر شکرپڑیاں کی طرف دائیں مڑنے کی بجائے بائیں مڑ جائیں تو پرانے ھیلی پیڈ کی جگہ پاکستان مونومنٹ کے نام سے گرینائیٹ اوڑے ایک خوبصورت مقام نے لے لی ھے۔ جہاں سے اسلام آباد کا نظارہ بڑا حسین ھے وھاں سے نکلیں تو روز اور یاسمین گارڈن جس کے راستے بہت خوبصورت ھوگئے ھیں لیکن ان پر روز اور یاسمین دونوں کے پھول نہیں ھیں۔ پھر اگے چلیں تو دامن کوہ کا راستہ بہت خوبصورت ھوگیا ھے اس کے قدموں میں ایک وسیع بچوں کا جاپانی پارک اور مرغزار چڑیا گھر نے لے لی ھے اور دو جنگل ریسٹورانٹ بھی ھیں ۔ اوپر دامن کوہ سے فیصل مسجد اور اسلام آباد کے سیمنٹ کے پہاڑوں کا نظارہ بھی غیر اسلامی ھے کیونکہ اس میں کہیں شاید ایک عمارت وزیراعظم سیکریٹریٹ اسلامی آرکیٹیکچر کا نمونہ ھے باقی سب غیر اسلامی آرکیٹیکچر ھے۔ دامن کوہ کا نظارہ دیدنی ھے دن ھو یا رات اس سے اوپر مونال ریسٹورانٹ سے بھی اسلام آباد کا نظارہ اور کھانا شاندار ھے اور پیر سوہاوہ کو تو شاید لوگ بھول ھی گئے ھیں اب تو آپ اس سے بھی اوپر ھائی لینڈ بھی جا سکتے ھیں وہ ھائی تو بہت ھے پر نظارہ کوئی نہیں۔ واپس چلتے ھیں اگر چلنے کی ھمت ھو تو ٹریل نمبر ایک سے ٹریل نمبر چھ تک ضرور سفر کریں۔ کچھ مشکل ٹریک ھیں اور کچھ آسان نمبر پانچ شاید سب سے آسان ھے اور اسکی گڑ والی چائے اور پکوڑے بھی بہترین ھیں شالیمار گراونڈ کا ایک چکر ضرور لگائیں اور ساتھ سید پور گاوں اور اس میں بنے غیر روایتی ریسٹورانٹس کا بھی ذائقہ ضرور چکھیں یہاں سے راول ڈیم اور لیک ویو پارک ضرور جائیں راول ڈیم توابھی تک 1978 والی جگہ پر ھی کھڑا ھے وھی بیرئیر وھی کشتیاں اور وھی سیپریٹ چائے لیکن لیک ویو پارک جو پہلے گرین ووڈ کہلاتا تھا کافی بہتر ھوگیا ھے شکریہ کامران لاشاری صاحب پر اب مقامی لوگ زیادہ تر چیزیں اتار چکے ھیں جو بہت زیادتی کی ھے پارک کے ساتھ۔ اس میں برڈ پارک بہت اھمیت کی جگہ ھے اس کے پرندے بہت انمول ھیں یہاں سے نکلیں تو بری امام ضرور جائیں اس کی نئی عمارت بہت خوبصورت ھے۔ اور اندر حسین نقش نگاری کی گئی ھے جب بری امام جائیں تو پھر گولڑہ شریف بھی ضرور جائیں مزار دیکھیں سفید پتھر کا بہترین کام دیکھیں اور چل پڑیں شاہ اللہ دتہ غاریں دیکھیں سرائے خربوزہ جائیں اس سے پہلے کہ وہ بھی سیمنٹ کا ھوجائے اور جائیں اوپر پہاڑوں پر دیکھیں پرانا کنواں اور نئے ریسٹورانٹ۔ نیچے اتریں اور چل پڑے گولڑہ ریلوےاسٹیشن کیا سکون ھے پرانے درخت عمارت ریلوے میوزیم کچھ تو ھے جو پہلے جیسا ھے وہ شاید گولڑہ ریلوے اسٹیشن ھی ھے۔ یہاں سے نکلیں فیصل مسجد ضرور جائیں شادی کے شوٹ اور محبت کرنے والوں کی ملاقاتوں کا آج کل یہی مقام ھے اور وہ پولیس والے جو پہلے کنول جھیل پر جوڑوں سے رشوت لیتے تھے انکی ٹرانسفر اب فیصل مسجد ھوگئی ھے۔ کچھ خریداری کرنا ھو یا مارکیٹ جانا ھو تو سپر اور جناح سپر کی اھمیت پہلے والی نہیں رھی اب ایف ٹین اور ایف الیون مرکز کھل گئے ھیں لیکن کراچی کمپنی اور آبپارہ مارکیٹ میں پارکنگ کی مشکل کے علاوہ کوئی فرق نہیں ھے فوڈ سٹریٹ تو بن گئی ھیں تجربہ نہ ھی کریں تو بہتر ھے سیور فوڈ بلیو ایریا، حبیبی ریسٹورانٹ آئی ایٹ، دیس پردیس سید پور گاوں کو ضرور وزٹ کریں کافی بہتر کھانا ھے ۔ باقی یہ نیا اسلام آباد ھے پرانا کہیں کھو گیا ھے ۔ اگر ملے تو میرا سلام دیجئے گا۔

Prev فاطمہ اظہر
Next حیران

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.