میلہ

میلہ
تحریر محمد اظہر حفیظ

سوچتا ھوں سب یاروں دوستوں رشتے داروں کو بلاوں اور میلہ لگاوں ، لکی ایرانی سرکس لگی ھو ،موت دا کنواں ھو،موت دا گولا ھووئے،جلیبیاں نکل رھی ھوں، امرتسیاں بن رھی ھوں، کتلمے تلے جارھے ھوئے، جھولے لگے ھوں کوئی جھولا آسمان کو چھو رھا ھو اور کسی جھولے میں گھوڑے شیر گھوم رھے ھو،کہیں کتا دوڑ ھو رھی ھو کہیں کبڈی ھو رھی ھو کہیں بیل دوڑ ھو رھی ھو اور کہیں نیزا بازی کے مقابلے ۔ بازیگر اپنے کرتب دکھا رھے ھوں کہیں پتلی تماشہ ھو رھا ھو سب ھی مدعو ھو میرے پرائمری سکول کے کلاس فیلو 258 ر-ب پھرالہ سے آئیں میرے میٹرک کے دوست مدرسہ ملیہ اسلامیہ ھائی سکول سیٹلائٹ ٹاون راولپنڈی سے آئیں میرے آئی کام کے دوست فیڈرل کالج آف کامرس اسلام آباد سے آئیں میرے نیشنل کالج آف آرٹس کے دوست لاھور سے آئیں،میرے سب استاد تشریف لائیں ، میرے اخبار کے دوست لاھور اور اسلام آباد سے آئیں میرے ایڈورٹائزنگ کے دوست اسلام آباد سے آئیں میرے پاکستان ٹیلی ویژن کے دوست اب جہاں جہاں ھیں تشریف لائیں، میرے او پی ایف کالج کے ساتھی، میرے آئی ٹی ایم ایف کے ساتھی، میرے اقراء یونیورسٹی کے ساتھی، میرے نیشنل کالج آف آرٹس راولپنڈی کے ساتھی،میرے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے ساتھی، میرے ھمدرد یونیورسٹی کے ساتھی،میرے فوٹوگرافر ساتھی، میرے فیس بک کے دوست،میرے ٹویٹر کے دوست، میرے واٹس ایپ کے دوست، میرے نائیکون کے دوست، میرے سفر کے دوست، میرے غم اور خوشی کے دوست، میرے مسجد کے دوست،میرے مطلبی دوست، میرے بے لوث دوست، میرے شاگرد ، میرے دشمن سب اگر ایک ساتھ مل جائیں تو ایک میلہ لگ جائے، ساتھ گھومیں ناچیں گائیں فلم دیکھیں نماز کا وقت ھو تو ساتھ نماز پڑھیں، جھولے لیں، عارف لوھار کا تھیئٹر سنیں، عاشق جٹ کے گانے سنیں، نصیبو لال کی دھمال سنیں، الیکڑک کاروں میں بیٹھیں اونٹ اور گھوڑے کی سواری ھو،لنگر ھو چنے والے چاول، زردہ چاول، مٹھائیاں ھوں ، دھمال ھو ،کمال ھو ،جمال، ھو بے حال ھو ، ایسا میلہ کہ سب فکروں سے دور لے جائے سب کی دوستی ھوجائے کبھی بچپن لوٹ آئے اور کبھی جوانی لوٹ آئے کبھی دل ڈر جائے نہیں یا عمر نہیں ھے لچھا کھانے کی اوئے برف والا گولا گلا خراب ھو جائے گا، شکر قندی ڈال دے خوب مسالہ تے نچھوڑ دے مالٹا آج نہیں پروا، اوئے گول گپے جگر بنادے میٹھے بھی اور کھٹے بھی فروٹ چارٹ وی کھاواں گے تے چنا چارٹ وی گھومیں پھریں گے تو سب ھضم ھوجائے گا، کوئی فکر والی گل نہیں تے کسے بیماری دا ذکر نہیں، 
ایتھے گان دا مقابلہ ھو رھیا اے واہ جی واہ ڈھولچی لا وئی ڈگا، پھڑا فر مائیک ۔ ھو جا شروع ۔ میری جگنی جا وڑی ملتان اوتھے وڈے وڈے پہلوان پیر میریا جگنی کہندی اے نام اللہ دا لیندی اے۔
چل اگے چل اوئے کشتیاں واہ جی واہ جھارا پہلوان تے بھولو پہلوان بڑا تگڑا دنگل اے جناب ، تہانوں پتہ اے جھارے پہلوان دی کی خوراک اے جی کلو بادم پنج کلو دھی دی لسی تے ناشتے وچ کھاندا اے تے کلچے دی گنتی کوئی نہیں جناب نال تین درجن انڈے فر جناب تین ھزار ڈنڈ وی تے اے ھی لاندا اے بڑی کثرت والا کم اے پہلوانی، اس تو اگے کبڈی جناب اے تے ودھیا کھیل اے جاپی وی آئے ھوئے نے تے ساھی وی آئے ھوئے دیکھو کون زور آور ثابت ھوندا اے، نیزا بازی کیا نوابوں کا کھیل ھے سارے پنجاب سے شہہ سوار آئے ھیں ، لیکن پرنس ملک عطا صاحب کی کیا شان ھے جناب اس عمر میں بھی کمال نشانہ ھے۔ اللہ تعالی سلامت رکھے پاکستان کی شان ھیں، سلطان گولڈن پہلے پچاس کاروں کے اوپر سے موٹر سائیکل سے جمپ کریں گے اور پھر پچیس کاورں کے اوپر سے کار جمپ کریں گے یہ موت کے کھیل ھیں لیکن میرے ملک کے جانباز کھلاڑیوں کیلئے بس کھیل ھیں، 
جناب لکی ایرانی سرکس میں آئیے کتے کو حساب کے سوال حل کرتے دیکھیں، رسے پر سائیکل چلاتی لڑکی کو دیکھیں بارہ کھلے شیر میدان میں آگ سے گزرتے شیر، موت سے لڑتے بازیگر، اگے آئیں جناب موت کا کنواں تین کاریں اور چار موٹر سائیکل ایک ساتھ، یہ موت کا کھیل ھے جناب موت کا کھیل ، مولاجٹ دا شو شروع ھونے والا ھے الیاس کچی ٹاکی وچ دیکھو مولا جٹ دا کھڑاک۔مولے نوں مولا نہ مارے تے کوئی نہیں مار سکدا صاحب بہادر ۔
بھائیو تے بہنوں شام ویلا ھو رھیا اے اپنے اپنے گھر دی راہ لو تے اپنے بال بچیاں دا خیال کرو کوئی گواچ نہ جاوے ۔ میلے دے وچھڑے میلے وچ ھی میلدے نے ۔ جاندی واری حیدرآبادی چوڑیاں لیندے جاو کسے نوں نشانی دیندے جاو ،کوئی یاد کرے گا کوئی اپنا میلے گیا سی ، فیر پتہ نہیں میلہ کدوں لگنا اے،
واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں کسے نے میری گل نہ سنی، ھوئے کسے نے میری گل نہ سنی۔۔۔۔

Prev ذاتیات 
Next نمائش

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.