میڈیا ملازمین اور مالکان

میڈیا ملازمین اور مالکان
تحریر محمد اظہر حفیظ

جب بھی کوئی اخبار چینیل شروع ھوتا ھے وہ بلند و باغ دعووں کے ساتھ ملازمین کو بھرتی کرتا ھے اور اپنی ھمت اور ضرورت سے زائد لوگوں کو بھرتی کرتا ھے وقت کے ساتھ ساتھ انکو احساس ھوتا ھے کہ کون مہنگے داموں رکھ لیا ھے اور کون نااھل ھے چھ ماہ کے بعد ٹیم میں رد وبدل شروع ھوجاتا ھے ۔ مالکان ایک تو کام کو سیکھ جاتے ھیں اور دوسرا جن سے وہ سیکھتے ھیں ان کو نکالنا اپنا فرض سمجھتے ھیں کہ یہ لوگوں کو بتائیں گے کہ مالکان کو کچھ بھی پتہ نہیں تھا ھم نے سکھایا۔ 
میں نے متعدد دفعہ تجویز دی کہ آپ مختصر عملہ ملازم رکھیں انکو ٹریننگ دلوائیں اور اچھیں تنخواھیں دیں اور لمبا عرصہ نوکری کی یقین دھانی کرائیں ایک تو چھوٹی ٹیم کو سنبھالنا آسان اور کام کی کوالٹی بھی بہتر ھوگی۔
ادارہ بنانے کے بعد آپ تعلیم یافتہ ٹیم کو لیں اور ان کی ٹریننگ کا بندوبست کریں اپنی ضرورت کے مطابق۔ چند رپورٹر رکھیں انکو فوٹوگرافی کی تربیت دیں کیمرے مہیا کریں، انکو کمپیوٹر چلانا سکھائیں انکو لیپ ٹاپ دیں انکو اردو انگلش ٹائپنگ سکھائیں خبر ایڈیٹ کرنا ٹائپ کرنا سرخی نکالنا سکھائیں پھر ھر کوئی اپنے فولڈر میں تیار شدہ خبر رکھے شام کو ایک ڈیزائنر آئے اخبار کو میٹیریل جوڑے اور اخبار پرنٹنگ کیلئے تیار ھوجائے۔ اب آپکا رپورٹر ،فوٹوگرافر،سب ایڈیٹر،ٹائپسٹ ایک بندہ ھی ھے۔ جب رپورٹر خود فوٹوگرافی کرے گا تو وہ خود جائے گا خبر کا معیار بہتر ھوگا، جب ایڈیٹنگ خود کرے گا تو خبر کا متن بھی درست سمت رھے گا۔ ایک ماہ کی تربیت ھے ۔ کم لوگ ھوں گے تنخواھیں اچھی ھوں گی اور بہت سے کامیاب ادارے بن جائیں گے کسی بھی اخبار کا بندہ نکال کر گزارہ نہیں ھوگا میڈیا انڈسٹری میں انقلاب آجائے گا۔ الیکٹرانک میڈیا بھی اپنی ٹیم کیلئے تربیت کا بندوبست کرے رپورٹرز اپنی خبر لکھیں اسکی عکسبندی کریں اسکو ایڈیٹ کریں اسکے ٹکر نکالیں اور اپنے فولڈر میں رکھ دیں پروڈیوسر صاحب اپنی ضرورت کے مطابق انکو اکٹھا کرلیں ھر رپورٹر کے پاس اپنا کیمرہ اور لیپ ٹاپ ھو وہ فوری طور پر اپنی خبر بنا کر ای میل کر دیں۔ جہازی سائز کی ٹیم سے پرفارمنس لینا ایک مشکل کام ھے اپنے ورکرز کی ٹریننگ کا بندوبست کریں اور انکو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں تاکہ وہ بہتر سے بہتر کام کر سکیں۔ 
اپنی مارکیٹنگ کی ٹیم کو مناسب انداز میں تربیت دیں اور بتائیں ھمارے پاس چھ ماہ کی تنخواھیں ھیں اشتہارات کی پیمنٹ کا دورانیہ تین ماہ ھے اس انداز میں سرکل بنائیں کہ ھم تین ماہ میں اپنی روٹین پر آجائیں۔ ھمارا خرچہ کتنا ھے اور ھمیں ماھانہ کتنے اشتہارات کی ضرورت ھے۔ گورنمنٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر اشتہارات میں بڑا کردار ادا کرتا ھے کس طرح ھم نے ان دونوں کو بیلنس کرنا ھے۔ 
کیا نئے طریقے دنیا میں رائج ھو رھے ھیں اخبارات نیٹ پر کیسے آتے ھیں اس کے اشتہارات کیسے لیئے جاتے ھیں چیننل کی لائیو سٹریمنگ کیسے ھوتی ھے اور اسکو کیسے بیچنا ھے، یو ٹیوب چینیلز کیسے بنتے ھیں اور اس سے کیسے پیسے کمائے جاتے ھیں۔ کم اخراجات والی پروگرامنگ کیسے ھوتی ھے اس پر اشتہارات کیسے لیے جا سکتے ھیں۔ سب کے ماھرین مارکیٹ میں موجود ھیں ادارہ بنانے سے پہلے معلومات لیجئے ضرورت کے مطابق لوگوں کو ملازم رکھیئے انکی تربیت کیجئے اور معاھدہ کیجئے آپ ادارے کے ساتھ پانچ سال دس سال تک پابند ھیں ادارہ آپکی ھر طرح کی تربیت کروائے گا۔ 
امید واثق ھے بہت سے کامیاب ادارے بنیں گے اور سب دوستوں کو روزگار مہیا ھوگا۔ 
ھر شہر میں پریس کلب بن چکے ھیں انکے ممبر ھوں نہ ھوں عہدیدار ضرور ھوتے ھیں سب اپنے لیول پر تربیت کا بندوبست کریں۔ملکی اور غیر ملکی سینئر صحافیوں کو بلایا جائے اور تربیت کا بندوبست کیا جائے۔
مقامی نیوز ایجنسیز غیرملکی نیوز ایجنسیز کے سسٹم کو دیکھیں کیسے وہ تربیت کرتے ھیں خبر تصویر ویڈیو بیچتے ھیں اور کیسے اپنے ٹیم ممبرز کا ساتھ دیتے ھیں۔ 
ھمیں اس سارے نظام کو بہتر کرنا ھوگا۔ تاکہ سب دوست اپنی نوکریوں پر محفوظ رہ سکیں۔ گھر کا ھونا بہت اچھی بات ھے پریس کلب میں سستا اور اچھا کھانا ملنا بھی اچھی بات ھے، لیکن ایک صحافی کا اپنی نوکری پر ھونا ان سب سے ضروری بات ھے۔ اللہ کے واسطے رحم کیجئے ان کی تربیت کا بندوبست کیجئے کیسے ممکن ھے کوئی ادارہ اپنی ریڑھ کی ھڈی کو نکال دے لیکن پہلے اس ادارے کی ریڑھ کی ھڈی بنئے تو سہی ۔ 
اپنے کام میں کمال حاصل کیجئے انشاءاللہ آپ سارے جہاں کو عزیز ھو جائیں گے۔

Prev نمائش
Next بے خبر

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.