میں سیکھتا کیسے ھوں

میں سیکھتا کیسے ھوں
تحریرمحمد اظہر حفیظ
میں نے ھمیشہ اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے سیکھا۔ 
میں ایک پینڈو بچہ ھوں شاید کتب سے اتنا نہیں سیکھا جتنا تجربہ کرکے نقصان کرکے سیکھا اور فائدہ حاصل کیا۔ مجھے یاد ھے جب میں چھٹی کلاس میں 1981راولپنڈی آیا اور نیوکٹاریاں میں ھمارا گھر تھا۔ نیوکٹاریاں مارکیٹ میں لکڑی کے مختلف ٹکڑے دیکھے جن کے ملانے سے بہت سی چیزیں بنتی تھیں نام نہیں پتہ تھا پر کھیل دلچسپ تھا قیمت پوچھی جواب آیا ھے تو پندرہ روپے کی لیکن بارہ روپے کی دے دوں گا جی بہتر میں تھوڑا شرمیلا بچہ تھا قوت فیصلہ کمزور تھی واپس گھر آگیا تھوڑی دیر بعد پھر مارکیٹ گیا کھلونا مجھے پسند بہت تھا پر فیصلہ نہیں کر پا رھا تھا خریدوں یا نہ خریدوں اور ڈرتا تھا کوئی خرید نہ لے طارق بھائی یار کی مسلئہ اے بار بار مارکیٹ نو جاناں ایں پائن ایک کھلونا اے پسند بڑا اے پر سمجھ نہی آندی لواں یا نہ لواں کننے دا اے پائن بارہ روپے دا تیرے کول پیسے نہی نے جی ھیگے نے کننے پچاس روپے یار چار لے لے اس وچ سوچن والی کیڑی گل اے آج اس بات کو سینتیس برس بیت گئے اور پیسے ھیں تو بغیر سوچے خرید لیا زندگی آسان ھوگئی میں ایک دن پیپسی کمپنی سے 1994 میں ایک بڑا ایگریمنٹ کرکے آیا اور معاہدے کے کاغذ طارق بھائی کو دیئے یار اننا وڈا ایگریمنٹ کیتا مشورہ تے کر لینا سی بھائی خراب ھوجائے گا تو کوئی بات نہیں میرے پاس پیسے ھیں تو ڈر کیسا۔ کیا مطلب تو بھائی کو ساری بات سنائی اور وہ مسکرا دیا۔ 
والدین پر مکمل یقین کرنا بھی میں نے ساتویں جماعت میں ھی سیکھا ایک بتیس بور کی شکل کا پسٹل تھا اس میں پٹاخے بجتے تھے مجھے بہت پسند آیا جاوید برادرز پر موجود تھا قیمت ساٹھ روپے تھی دوکاندار سے وعدہ لیا کہ یہ کسی اور کو نہ بیچنا اور ابا جی کی ٹانگیں دبا رھا تھا وہ مجھے ھمیشہ صاحب کہہ کر ھی بلاتے تھے پوچھنے لگے میرے صاحب نے کچھ لینا ھے تو بتاو جی ابو جی ایک پستول مجھے اچھا لگتا ھے بلکل اصلی کی طرح ھے موقع تھا سب آخری چٹان ڈرامہ دیکھ رھے تھے میں اور ابو جی اکیلے تھے سب کہہ دیا جی میں اپنے پتر کو صبح لے دوں گا بس ساری رات اسی کے بارے میں سوچتا رھا اور صبح ابا جی کی گاڑی لینے آگئی چاچا قادر ڈرائیور ھوتا تھا میں ڈر رھا تھا ابو جی بھول نہ گئے ھوں اور دفتر نہ چلے چائیں قادر جی میاں صاحب اظہر صاحب دی سائیکل گڈی وچ رکھ لو صاحب نے پستول خریدنا اے جی میاں صاحب میرے سے ناشتہ نہ ھو اور ھم چل پڑے جاوید برادرز پہنچے ابا جی نے کھلونا چیک کیا صاحب تو اب بڑا ھوگیا ھے یہ بچوں کا کھلونا ھے چل رھن دے قادر صاحب دی سائیکل اتار دے سکول جائے میاں صاحب بچے دا دل ٹٹ گیا جے ابا جی کچھ نہیں بولے اور گاڑی میں بیٹھ چلے گئے میرے سے سائیکل نہ چلے پہلے تو جاوید برادرز والے سے معافی مانگی پائن معاف کردینا تہاڈا وقت ضائع کیتا اور سکول کی طرف چل پڑا انکھیں آنسوں سے بھری ھوئی تھی سائیکل نہیں چل سکتی تھی بوجھل قدموں کے ساتھ آھستہ آھستہ چل رھا تھا بکواس قسم کے خیالات ذھن میں آرھے تھے اس طرح کے والد کا کیا فائدہ جو ساٹھ روپے کا پستول نہ لے کر دے سکے اس سے تو وہ اچھے جو یتیم ھیں ان کے دل میں تو کوئی خواھش ھی پیدا نہیں ھوتی ھوگی یہ سب بکواس میں سوچتا رھا پھر سکول میں مصروف ھوگیا دوپہر کو گھر آیا موڈ خراب ھی تھا امی جی اظہر کسے نال لڑ کے آیا این نہیں امی جی اسی کس دے سر تے لڑنا ھر پاسیوں مار ھی کھانی اے ۔ الٹی باتیں نہ کرو کپڑے بدلو اور کھانا کھاو جی اچھا ۔ کھیلنے کو بھی دل نہیں کر رھا تھا ٹیرس پر کھڑا تھا ابو جی آگئے ھاتھ میں اخبار میں لپٹی کوئی بڑی سی چیز تھی میں نے بھی لفٹ نہیں کرائی جوتے وغیرہ بدل کر مجھے آواز دی صاحب او صاحب میں نے جواب نہیں دیا اٹھ کر آگئے صاحب ایویں نہ روسیا کر ویکھ تیرے واسطے کی لیا اے اور اخبار پر لپٹے دھاگے کھولنے لگے اندر ایک دو نمبر کی ایئر گن تھی اب وہ مجھے سمجھا رھے تھے صاحب کسی کو زخمی نہیں کرنا کسی کی آنکھ کا نشانہ نہ لینا ویکھ انج چلائی دی اے ابا جی مینوں کجھ نظر نہیں آرھیا میں انکے پاوں پڑھ گیا مینوں معاف کر دیو پر صاحب تو کیتا کی اے ابا جی دسن جوگا وی نہیں بس معاف کردیو یار ناراضگی جان دے جی ابا جی چل فر مجھے لیکر عثمانیہ اس کا نام طباق ھوتا تھا وھاں لے آئے بلیو ایریا ویٹر جی سر یار بکرے کی ران روسٹ کر کے لا ساڈا صاحب ناراض ھوگیا اے اس نوں منا لیئے اور میں پھر رونے لگ گیا من جا میرا پتر جی ابا جی وہ دن اور آج کا دن میں نے والد صاحب کی ھر بات مانی جہاں سے انھوں نے روکا رک گیا ۔ نیشنل کالج آف آرٹس پیاجی فلم دیکھن چلیئے نہیں یار ابا جی کو نہیں بتایا ھوا وہ آگئے تو پریشان ھوں گے یار اننا وی نہیں ڈری دا۔ میری جان ڈر نہیں یقین کی بات ھے۔ چنیوٹ جانا تھا سب تیاری تھی گاڑی میں بیٹھنے لگا صاحب کدھر جی چنیوٹ جانا ھے گھوڑوں کی فوٹوگرافی سب دوست آرھے ھیں چھڈ یار کی جانا اے چل اندر گاڑی لاک کی دوستوں کو فون کیا نہیں آرھا کیوں اباجی نے منع کردیا یار ھن تسی آپ ابا جی ھو سمجھانا سی جی ساتویں جماعت کے بعد انکو کبھی سمجھانے کا نہیں سوچا اور نہ سوچ سکتا ھوں۔ سب نظام انکی مرضی سے ھی چلا ھمیشہ الحمدللہ اتنا اچھا باپ بننا ممکن نہیں۔ اللہ میرے ماں باپ کو اس کا اجر عظیم عطا کریں امین اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین۔ 
دسویں جماعت میں تین مضامین میں فیل ھوگیا بہت شرمندہ ھوا کوئی مشورہ دے ویلڈنگ کا کام سکھا دیں کوئی کہے جنرل سٹور ڈال دیں مضمون تھے عربی، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات اختیاری اگلے امتحان میں کامیاب ھوگیا لیکن اس ناکامی کے بعد اللہ نے زندگی میں کبھی ناکامی سے دوچار نہیں کیا میں سمجھتا ھوں آپ اپنے فیل ھونے سے کامیاب ھونا سیکھتے ھیں بس تھوڑی اور محنت کا فرق رہ جاتا ھے۔ نیشنل کالج آف آرٹس اپنے خاندان سے جانے والا پہلا فرد تھا مجھے پانی سے بہت ڈر لگتا تھا اقبال حسن میرے استاد ڈرو نہیں پانی کے نزدیک جاو ڈر اتر جائے گا پھر جس بھی چیز سے ڈر لگا اس کے نزدیک گیا اور ڈر اتر گیا یہاں تک کے اللہ کے نزدیک گیا تو ڈر محبت اور دوستی میں بدل گیا۔
اشفاق افضل مرحوم بھائی ایک مجھے کہنے لگے پیا جی میں میاں عامر (پنجاب کالجز والے)کے پاس نوکری کرتا تھا ان کے دفتر میں ایک تصویر لگی ھوئی تھی۔گروپ فوٹو تھا چار لائنیں تھی آگے استاد تھے پھر پوزیشنوں والے تھے اور اس کے پیچھے درمیانے قسم کے طلباء کہنے لگے تمھیں پتہ ھے یہ پہلی دو لائنوں والے لوگ اب پچھلی دو لائنوں والوں کے پاس ملازمت کرتے ھیں پھر میں ایک دن حیدر رفیق بھائی جو کیپٹل گروپ کے مالک ھیں پاس بیٹھا تھا کہنے لگے اظہر جی دنیا میں کامیاب درمیانے طالب علم ھیں کیونکہ وہ ناکامی سے سبق سیکھتے ھیں اور فرسٹ آنے والے ان کے پاس نوکریاں کرتے ھیں ۔ 
میری درخواست ھے سب دوستوں سے اپنی کمزوریوں کوتاھیوں کو نئے آنے والوں شیئر کریں تاکہ وہ حوصلہ پکڑیں اور کامیاب ھو سکیں۔ میری پہلی کمرشل اسائنمنٹ انٹرفلو کیلئے لیدرجیکٹس کا شوٹ تھا اور نوکری فوٹوگرافر کی پکی تھی لیکن پروسیسنگ میں ٹرانسپیرنسی فلمیں خراب ھوگیئں اور مجھے فوٹوگرافر کی نوکری نہ ملی بہت پریشان ھوا لیکن چار سال بعد میں انٹر فلو میں آرٹ ڈائریکٹر تھا اور میرے پاس دو فوٹوگرافر ٹیم میں تھے اللہ کا شکر ادا کیا اگر فلمیں خراب نہ ھوتیں تو ان دو میں سے ایک میں ھوتا۔ 
شکر الحمدللہ 
یاد رکھئے گیا اگر والدین بچوں کیلئے برا نہیں سوچ سکتے تو میرا اللہ کیسے آپ کیلئے برا کر سکتا ھے بس انتظار کیجئے اور مزا کیجئے۔ پاکستان زندہ باد عوام پاکستان پائندہ باد

Prev جہالت کے ماونٹ ایورسٹ 
Next فوٹوگرافر یا کیمرہ مالک

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.