ناکردہ گناہ

ناکردہ گناہ
تحریر محمد اظہر حفیظ
میں نے ھمیشہ ھر اس کام کی معافی مانگی جو میں نے کیا ھی نہیں۔ تاکہ تعلق بچ جائے رابطے استوار رھیں ۔ زندگی میں ناکردہ گناہوں کی بھی بہت سی سزا بھگتی۔ لوگوں کے جھوٹ کو لوگوں نے سچ جانا اور ھمیں سزا وار ٹھہرایا انکو کچھ نہیں کہا پر اپنے جسم میں صبح شام رات تین وقت انسولین لگاتے ھوئے صرف انیس سال ھوگئے ھیں اور جن کے جھوٹ سے اور جھوٹی گواہی سے یہ مسئلہ ھوا وہ کہتے ھیں بیماریوں سے گناہ دھلتے ھیں۔ اگر پوچھیں کہ آپ کونسی بیماری پسند کریں گے اپنے گناہ دھلوانے کیلئے تو فرشتے بن جاتے ھیں کہ ھم نے تو کوئی گناہ کیا ھی نہیں۔ ھم کیوں بیمار ھوں یا بیماری کا سوچیں۔
جو زندگی گزر گئی شکر الحمدللہ جس نے جو کیا معاف کیا جن کو مجھ سے دکھ پہنچا معافی کا درخواست گذار ھوں۔ مجھے معاف کر دیجئے۔ بہت کوشش کی دنیا میں رہ کر دنیا گزاری جائے شاید ایسا ممکن نہیں ۔ مجھے اب سمجھ آتی ھے کہ انشاء جی نے کیوں کہا جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا۔ وحشی کو سکون سے کیا مطب۔
دنیا سے کنارہ کیے بنا دنیا مشکل ھے ۔ اپنے کام سے کام رکھنا ھی آسان زندگی ھے۔ ورنہ کون کسی کو کب جینے دیتا ھے۔ میرا اب دل نہیں کرتا کہ جو میں نے کیا ھی نہیں میں اس کی سزا کیوں بھگتوں ۔ مجھے صرف اس کی سزا دی جائے جو میرا قصور ھے نہ کہ اسکی جسکا مجھےپتہ ھی نہیں۔ نہ مجھ سے سوال کیا جائے نہ جواب مانگا جائے جس چیز کا مجھ سے تعلق نہ ھو۔ میں کسی کو بھی کیوں بتاوں کہ میں کیا سوچ رھا ھوں۔ کم از کم مجھے سوچنے کی آزادی تو دی جائے۔ کہ میں آزادانہ طور پر سوچ سکوں۔ مجھ پر جس جس کو شک ھے کہ میں اسکو نقصان پہنچاوں گا وہ مجھے چھوڑ دے دور چلا جائے۔ نہ میں نے کبھی کسی کو نقصان پہنچایا اور نہ ھی ایسا کبھی سوچا۔ اس لیے اطمینان رکھئے۔ میں اپنا لکھتا ھوں اپنی تصویریں بناتا ھوں ۔ تو بنانے دیں لکھنے دیں پلیز میں اللہ کو حاضر جان کر کہتا ھوں میں کسی کا بھی برا نہیں سوچتا بے شک وہ اپنے آپ کو میرا دشمن ھی تصور کرتا ھو۔ یا دوست۔ دونوں صورتوں میں آپ سب کیلئے دعاگو ھوں۔ اللہ تعالی آپ سب کا بھلا کریں امین۔
مجھے لوگوں کے بدلتے رویے نا مناسب لگتے ھیں تو بھی چپ رھتا ھوں کچھ نہیں کہتا۔ بس پھر پوچھتے ھیں آپ چپ کیوں ھیں کیا بتاوں۔ اگر ساری دنیا مجھے میرے حال پر چھوڑ دے تو شاید یہ انکا مجھ پر احسان ھوگا اللہ کی قسم میں ھرگز بھی احسان فراموش نہیں ھوں۔ جس نے بھی میرے ساتھ نیکی کی میں ھمیشہ یاد رکھتا ھوں اور رکھوں گا انشاءاللہ۔ ادھار کے معاملے میں بھی کوشش کرتا ھوں وقت پر واپس کروں۔ پر جنہوں نے میرے پیسے دینے ھیں وہ مہلت کے مزے لے رھے ھیں۔ لیتے رھے جب انکو پتہ چلے گا ادھار کتنی بری چیز ھے شاید دیر ھوچکی ھوگی۔
عادتیں بدلنا بہت مشکل بلکہ ناممکن کام ھے ۔ نہ تو کوئی سائیکالوجسٹ بدل سکتا ھے نہ ھی عالم آپ اپنی عادت سے مجبور اور میں اپنی عادت سے مجبور۔

Prev فادرز ڈے اور کرکٹ
Next آپ کی بات بلکل ٹھیک ھے میری بھی سن لیں

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.