ناکرونا وائرس

ناکرونا وائرس
تحریر محمد اظہر حفیظ

میں معذرت خواہ ہوں سارے سائنسدانوں سے، سیانوں سے، جو ایک وائرس کا نام تک ٹھیک نہیں رکھ پائے، میں کل کے اخبار میں اشتہار دوں گا برائے تصیح نام وائرس ، میرا نام “ناکرونا وائرس” ھے لوگ مجھے کرونا وائرس کے نام سے پکارتے ھیں۔
آپ اگر میرے کردار پر میرے کام پر غور کریں تو آپ کو خود ھی میرا نام سمجھ آجائے گا۔ میری خصوصیت ھے کچھ بھی نہ کرنے دینا۔ نماز باجماعت نہیں ادا ھوسکتی، حج نہیں ادا ھوسکتا، عمرہ نہیں ادا ھوسکتا، کاروبار نہیں ھوسکتا، جنازہ نہیں ادا ھوسکتا، اکٹھ نہیں ھوسکتا، گھر سے باھر نہیں جا سکتے، سلام نہیں کرسکتے،گلے نہیں مل سکتے، ساتھ ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، ٹرانسپورٹ نہیں چل سکتی، بازار نہیں کھل سکتے، دفتر نہیں کھل سکتے۔ سکول نہیں کھل سکتے، کالج نہیں کھل سکتے، یونیورسٹیاں نہیں کھل سکتیں، مدرسے نہیں کھل سکتے، جہاز نہیں اڑ سکتے، ٹرین نہیں چل سکتی، موٹر سائیکل ڈبل سواری نہیں ھوسکتی، ھوٹل نہیں کھل سکتے، ریسٹورانٹ نہیں کھل سکتے، چائے خانے نہیں کھل سکتے، واکنگ ٹریک نہیں کھل سکتے، واکنگ ٹریل نہیں کھل سکتے، کسی سے مل نہیں سکتے، تیمارداری نہیں کر سکتے، ڈاکٹر پاس نہیں جاسکتے، سفر نہیں کر سکتے، اپنے بچے گود میں نہیں اٹھا سکتے، اپنے گھر کی بیل بھی نہیں بجا سکتے، سیر پر بھی نہیں جاسکتے، بینک نہیں جاسکتے، مزدوری نہیں کر سکتے، فیکٹری نہیں کھول سکتے۔ پرچے نہیں دے سکتے، داخلہ نہیں لے سکتے۔ چوری نہیں کر سکتے، ڈکیتی نہیں کر سکتے، بھیک نہیں مانگ سکتے،
اس لئے مہربانی فرما کر میرے نام میں تصیح کی جائے اور تمام اشتہارات درست کئے جائے، جیسا کہ، ناکرونا جان لیوا بیماری نہیں ھے پر ناکرونا کی احتیاط بھی ناکرونا ھی ھے، ناکرونا سے بچاو کیلئے چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں جب بھی کوئی قریب آئے تو باآواز بلند پکاریں ناکرونا، احتیاط ھی زندگی ھے ، اپنے منہ کو ھاتھ لگانے سے پہلی کہیئے ناکرونا اور پرھیز کیجئے ورنہ نا کرونا کرونا ھوجائے گا۔ بیس سیکنڈ صابن سے ھاتھ دھوتے جائے اور پڑھتے جائے، ناکرونا، ناکرونا، ناکرونا یہی اس سے بچت کا طریقہ اور احتیاط ھے، ماسک پہنئے اور ناکرونا سے بچیئے۔
باقی سب ممالک اس کو کرونا کہتے رھے اور یہ کرتا رھا وہ سب جو اس کے بس میں تھا۔ وزیراعظم صاحب، وفاقی وزیر اطلاعات صاحبہ، صوبائی وزیر اطلاعات صاحبان ، وزیراعلی صاحبان، وزیر سائینس و ٹیکنالوجی صاحب کل پریس کانفرنسز کریں اور اس تبدیلی پر دنیا کو بتائیں کہ کوئی آج تک اس کا علاج کیوں دریافت نہیں کرسکا اور جو علاج دریافت ھوئے وہ کارآمد کیوں نہیں ھوئے، کیونکہ ھم علاج کرونا وائرس کا ڈھونڈتے رھے اور بیماری تھی ناکرونا وائرس۔ جیسے آپ کسی کو دوسرے نام سے پکاریں تو اس کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کس سے مخاطب ھیں اسی طرح جو بھی دوائی یا ویکسین لگائی جاتی تھی کامیاب نہیں ھوتی تھی کیونکہ یاد رکھیں درد گردہ کی الگ دوائی ھے اور سر درد کی الگ، اسی لیئے کرونا وائرس اور نا کرونا وائرس کی دوائی میں بھی فرق ھے۔ جیسے آپ میڈیکل سٹور پر جائیں اور اس سے کہیں کہ کرونا وائرس کی دوائی دے دیں تو آپ کو کرونا ھی ھوگا آپ اس سے کہیں کہ ناکرونا وائرس کی دوا دے دیں دیکھیں پھر آرام کیسے آتا ھے، شکریہ یہ سب پڑھنے کا گھر بیٹھ کر کچھ تو لکھنا ھی تھا، سوچا اکیلے کس سے بحث کروں۔ ویکسین تو ایجاد نہیں کر سکا پر صحیح نام تجویز کردیا ھے اس کے کوئی کاپی رائٹ نہیں ھیں آپ بھی نام استعمال کر سکتے ھیں، “ناکرونا وائرس”
پر چھ فٹ کے فاصلے سے، ناکرونا یہی اس کا اصل نام ھے سنا تو کئی دفعہ پہلے بھی ھوگا ۔ جس طرح کرونا کا نام ایک فلم میں استعمال ھوا ھے اور لوگ دعوی کر رھے ھیں یہ اسی پر فلم ھے ۔ تو میرے سادے دوستو ناکرونا جی بھی تو ھزاروں فلموں میں بطور لفظ استعمال ھوا ھے، تو پھر اصل لفظ کیا ھوا، “ناکرونا وائرس”۔
کچھ لوگ تو اس کا بہت احترام بھی کرتے ھیں ۔ اور ادب سے “ناکرونا جی” کہہ کر پکارتے ھیں ۔ پر وہ پھیپڑوں کی بجائے دل پر اثر انداز ھوتا ھے اور جان لیوا بیماری ھے۔ اپنے گھر پر ھی رھیئے۔ محفوظ رھیئے

Prev خود غرض مختارے
Next اپریل کی بارشیں

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.