پابندیاں

پابندیاں
تحریر محمد اظہر حفیظ
دنیا کا خیال ھے فوٹوگرافر تصاویر فلم یا میموری کارڈ پر محفوظ کرتا ھے اور خفیہ ادارے اور احباب جب چاھیں کیمرے سے فلم اور میموری کارڈ نکال لیتے ھیں اور بھول جاتے ھیں اس کے پیچھے بھی تو ایک کیمرہ ھے فوٹوگرافر کی آنکھ اس سے عکس کو کیسے مٹاو گے ۔
مجھے آج تک وہ سب تصاویر یاد ھیں جن کو بنانے سے روکا گیا،
باقی تصویریں تو شاید میرے ذھن میں مدھم پڑ چکی ھیں لیکن جن سے روکا گیا وہ سب تصاویر تازہ دم ھیں۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتی وہ باجی اور اسکا نکما شوھر آج بھی یاد ھے دیکھیں جی ھم عزت دار لوگ ھیں میری بیوی کی تصویر مت بنائیں جی بھائی نہیں بناتا ایک بات پوچھوں جی ۔ آپ خود کام کیوں نہیں کرتے جی میں انکی حفاظت کرتا ھوں یہ ھی میری ذمہ داری ھے الحمدللہ میری بیوی اور بچے کام کرتے ھیں مجھے کیا ضرورت ۔ سچ کہا آپ نے،
ایک تصویر دیکھی شمالی وزیرستان میں کچھ خواتین جارھی ھیں میں نے کیمرہ بند ھی رکھا کیونکہ اسی کا حکم تھا کچھ دھوپ میں بیٹھے نوجواں میرے پاس آئے کیمرہ آن کرو جی بہتر اور سب تصاویر دیکھیں شکر کرو عورت کا تصویر نہیں بنایا ورنہ زندہ نہیں جا سکتے تھے میرے ساتھ پچیس کے قریب حفاظت کیلئے فوجی کھڑے تھے۔ پوچھا بیٹا آپ لوگ کیا کام کرتے ھیں کہنے لگے پہلے ھمیں طالبان سپورٹ کرتے تھے اب فوج سپورٹ کرتی ھے ھمیں کام کرنے کی کیا ضرورت۔ بس وقت گزر رھا ھے۔
سب جگہوں کی تصاویر گوگل ارتھ پر تفصیلا موجود ھیں پر تصاویر پر پابندی سمجھ سے بالا تر ھے یہ پل ھے اسکی تصویر بنانا منع ھے یہ بیراج ھے اسکی تصویر بنانا منع ھے سب شہروں میں بلاضرورت ڈرون اڑانا منع ھے اسکی وجہ آج تک معلوم نہ ھوسکی۔ جی ایچ کیو کے سامنے چرچ کی تصویر بنانا منع ھے۔ لارنس گارڈن میں تصویر بنانا منع ھے۔ بادشاھی مسجد تصویر بنانا منع ھے، نور محل تصویر بنانا منع ھے۔ نواب صادق فیملی قبرستان تصاویر بنانا منع ھے۔ جامع مسجد راولپنڈی تصویر بنانا منع ھے ۔ اسکے پیچھے مندر جہاں پولیس کا قبضہ ھے اور دفاتر ھیں اندر جانا اور تصویر بنانا منع ھے۔ او بھائی جب سب منع ھے تو پھر کیمرے کی سیل بھی بند کردو اس ملک میں ۔ کالی پٹیاں ھاتھوں میں لیئے لوگ کھڑے ھوں فوٹوگرافر کی آنکھوں پر باندھ کر وھاں سے گزارا جائے۔ تاکہ اسکی آنکھ بھی تصویر نہ بنا سکے۔
میرے اندر آج بھی وہ ڈر موجود ھے اس طرف ڈاکٹر قدیر صاحب کا گھر ھے گھر کی طرف نہ دیکھنا ھے نہ اشارہ کرنا ھے ورنہ خفیہ ایجنسی والے روک لیتے ھیں یا پھر پیچھا شروع کر دیتے ھیں۔ 
یہ سپریم کورٹ،وزیراعظم سیکرٹریٹ،صدر ھاوس،ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلیویژن،دفتر خارجہ ،ایمبیسیز انکی طرف نہیں دیکھنا نہ انکی تصاویر لینا ورنہ گرفتار کرلیں گے۔
یہاں تک کہ بہت ساری یونیورسٹیوں میں آپ فوٹوگرافری پڑھاتے ھیں پر کیمرہ نہیں لے جا سکتے۔ پھر پڑھائیں کیسے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔
کچھ پرندے،پہاڑ اور درخت رہ گئے ھیں جن پر پابندی نہیں ھے جلد انشاءاللہ جس طرح کچھ پرندوں کے شکار پر پابندی ھے اسی طرح انکی تصاویر بنانے پر بھی پابندی ھوگی۔ اگر آپ ھنزہ میں پہاڑوں کی ھوائی تصاویر بنانا چاھتے ھیں تو اجازت نامہ اور فیس ادا کریں تو ممکن ھے ورنہ اپنے آپکو گرفتار سمجھیں۔ اتنی پابندیاں بہت ضروری ھیں سیاحت کے فروغ کیلئے۔ حکومت وقت سیاحت کے فروغ کی دعوے دار ھے تو مہربانی فرما کر کچھ نظر کرم ادھر بھی ورنہ کالی پٹیاں باندھ کر ھمیں اس طرف سے گزارا جائے نہیں تو یہ سب منظر ھماری آنکھوں میں محفوظ ھوجائیں گے اور ھم ساری دنیا کے آگے بیان کر سکیں گے کہ سکھر بیراج کیسا ھے کالاباغ کیسا ھے جہلم کا پل کیسا ھے چناب کا پل کیسا ھے ایک بڈھا راوی بھی ھوتا تھا منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم،خان پور ڈیم یہ سب پانی کے ذخیرے ھیں۔ چرچ اور مساجد عبادت گاھیں ھیں۔ قلعے اور محل حفاظتی تحویل میں ھیں ، باغ ملاقات کرنے کی جگہ ھے ریلوے سٹیشن ممنوعہ علاقے ھیں بس سٹاپ دھشت گردی کا شکار ھو سکتے ھیں۔ کوئی تو ضابطہ اخلاق بنائیں جو ممکن بنا سکے سیاحت کو ۔ ھر طرف ناکے، پہرے یہ سب کیا ھے لائیسنس یافتہ اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی ھے اور چور، ڈاکو،دھشت گرد کھلے عام اسلحہ،بم،بارودی جیکٹ لیئے پھرتے ھیں۔ 
یہ بحریہ ٹاون ھے فوٹوگرافی پر پابندی ھے یہ کینٹ ھے فوٹوگرافی پر پابندی ھے۔ اب تو حالات اتنے اچھے ھیں کہ کیمرہ کھلے عام لیکر نکلو تو موٹر سائیکل سوار آتے ھیں اور گن پوائنٹ پر چھین کر یہ جا وہ جا انکو روکنے والا کوئی نہیں ھے۔ سب رکاوٹیں ھمارے لیئے ھی ھیں۔ پولیس سٹیشن جاو تو پرچہ درج کرنے کی بجائے ثبوت مانگتے ھیں کہ کیا ثبوت ھے تمھارے پاس کیمرہ تھا اور آیا کہاں سے۔ کیسے یقین کرلیں کہ کوئی چھین کر لے گیا۔ مجھے جمیلہ آباد چوکی ملتان کا وہ دن یاد ھے جب ایک گھنٹہ مجھے فوجی جوان یہ سمجھاتے رھے آپ ملتان ائیرپورٹ سے کیمرہ نہیں لیجا سکتے سامان کو بس سے بک کرائیں کیونکہ کیمرہ کینٹ میں لیجانے کی اجازت نہیں لاکھ سمجھایا بھائی جان اسلام آباد سے لیکر آیا تھا اب واپس جا رھا ھوں پر وہ تو ماننے کو تیار نہیں تھے پھر شکریہ آئی ایس پی آر کے دوستوں کا جنہوں نے اجازت دلوائی اور اب وہ چوکی ختم ھوچکی ھے شکر الحمدللہ اب آسانی سے کیمرہ لیجا سکتے ھیں۔ صرف پاکستانی ائیرپورٹ پر جہاز کے ساتھ تصویر بنانے کی اجازت نہیں ھے باقی ساری دنیا میں ایسا کچھ نہیں ھے۔ اگر حکومت وقت واقعی سیاحت کا فروغ چاھتی ھے تو فوٹوگرافرز کو ساتھ لیکر چلیں انکے لیئے کچھ آسانیاں پیدا کی جائیں۔ یہ چلتے پھرتے فری کے آپ کے ایمبیسیڈرز ھیں جو پاکستان کے کلچر اور سیاحت کو اپنے خرچے پر فروغ دے رھے ھیں۔ ممنوعہ علاقوں کی مقدار کچھ کم کیجئے یا پھر فوٹوگرافرز کی معلومات حاصل کرکے انکو لائسنس جاری کردیں تاکہ وہ آسانی کے ساتھ سارے پاکستان میں فوٹوگرافی کر سکیں اور پاکستان کی خوبصورتی اور کلچر دنیا کو دکھا سکیں۔

Prev بیس سال ساتھ ساتھ
Next سوشل میڈیا

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.