پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا-دوسری قسط

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

(دوسری قسط )

بھینسا، شیر، چیتا، ھاتھی، گینڈا ھیں وہ جانور جنکی وجہ سے کینیا کو پانچ بڑوں کی سرزمین کہا جاتا ھے،
دوسرا دن صبح پانچ بجے کا الارم لگایا اور نہا کر تیار ھوئے چھ بجے ناشتہ تھا کالا انناس بہت خاص پھل ھے جو ھر کھانے میں موجود ھوتا ناشتہ کی میز پر انناس تربوز، گرما، طرح طرح کے ڈبل روٹیاں اور بند موجود تھے فرائی اور املیٹ سب دستاب تھا، انناس کے تازہ جوس، کی کیا، ھی بات تھی اس کے ساتھ ڈرائی فروٹس ناشتہ کیا اور آغا رضوان نے ناشتہ ساتھ پیک بھی کروا لیا جو، بعد، میں بہت کام آیا، ساڑے چھ بجے روانگی ھوئی اب سبجیکٹ کا بھی اندازہ تھا اس لیے بہتر تیاری کے ساتھ تھے ھم سب، ھوٹل کے ٹیرس سے بہت خوبصورت صبح کا، منظر، تھا، سب اس، طرف متوجہ ھوئے اور منظر کشی ھونے لگی، آغا رضوان، عاطف سعید، کامران سلیم اور سنگاپور سے ساتھی طلوع آفتاب کی منظر کشی کر رھے تھے، اور ڈرائیور ھمارا انتظار کر رھے تھے، جیپ میں بیٹھے میں اور آصف شیرازی ، عثمان اور آغا کا انتظار، کر رھے تھے جب یہ آئے تو، میں نے مذاق سے کہا آغا لمبے ایکسپوز اور مونو، پوڈ پر کچھ سمجھ نہیں آیا تصاویر تو ھل گئی ھوں گی تو آغا جی نے تاریخی جملہ کہا آج تو سیٹنگ لی ھیں تصویر کل بناؤں گا تو میں بول پڑا یار آج کی تصویر کبھی کل بھی ملی ھے اور آغا ناراض سے ھو کر بیٹھ گئے، میری سگریٹ نوشی سے صرف یہ ھی دشمنی ھے کہہ میرے والد محترم اسی کی وجہ سے ھلاک ھوئے اور کوئی مسلئہ نہیں آغا اور عثمان تھوڑی دیر بعد سگریٹ لگا کر، جیپ میں کھڑے ھو جاتے، پتہ نہیں خود کو جلاتے تھے یا ھمیں، سلسلہ جاری تھا، ببر شیر، دریائی گھوڑا، ھرن، نیل گائے، چیتا، زیبرا، لگڑ بگڑ، زرافہ سمیت کئی جانور اور پر ندے ھم پابند کیمرہ کر چکے تھے اور جس جانور کا نام لیتے ڈرائیور اسکی تلاش میں چل نکلتے اور وہی جانور یا پرندہ سامنے ھوتا، بس جنت تھی جنگلی حیات سے محبت کرنے والوں کی، نائیکون کا ھر کوئی شکر گزار تھا جس نے یہاں آنے کا موقعہ دیا، دوپہر کو ڈرائیور جو کہ وائرلیس سیٹ پر آپس میں رابطہ پر تھے نے ایک سمت بھاگنا شروع کردیا اور ھم نے بہت پوچھا کدھر وہ چلتا جارھا تھا آخر بیرونی گیٹ پر آ کر دیکھا باقی تین جیپس بھی کھڑی ھیں اور جی گروپ فوٹو بنوائیں جی اچھا جب گروپ فوٹو بن گئی تو حکم ھوا ھم مقامی آبادی میں جائیں گے، جب مقامی آبادی میں پہنچے تو، پتہ چلا تصویر کشی کی اجازت نہیں پہلے فیس ادا کریں کتنی فیس ھے جی ھے تو ستر ڈالر آپ تیس آدا کردیں انکے سربراہ بولے نائیکون ٹیم ادا کرنے کو تیار تھی لیکن ھم بول پڑے بہت زیادہ پیسے ھیں کامران سلیم بھائی بولے اگر ھم آپکو دیکھیں گے تو آپ بھی تو ھمیں دیکھے گے پیسے کم کریں آخر بیس ڈالر پر اتفاق ھوا پندرہ بندوں کے تین سو، ڈالر ادا کئے گئے اور چیخنے اور اچھلنے والا خوش آمدید ڈانس سٹارٹ ھوا وھاں پتہ چلا میرے علاوہ کامران سلیم بھی وھیں سے ھیں افریقیوں سے زیادہ وہ چھلانگیں لگا رھے تھے بلا کی گرمی تھی، اس کے بعد آگ لگانے کا طریقہ دیکھایا گیا اور پھر ھم بستی میں داخل ھوگئے کچھ لوگ تصویریں منظم کرکے کھینچ رھے تھے اور اور کچھ جیسا نظر آیا ویسے ھی عاطف سلیم شعیب علی ٹپو جوویری بھائی ماڈل بنائےایک لڑکے کو مختلف جگہ بٹھا رھے تھے میں نے ڈالر والے سے پوچھا تمھاری عورتیں کہاں ھیں وہ مجھے ایک طرف لے چلا اور وھاں سٹال لگے ھوئے تھے، مختلف اشیاء جو وھاں کی روایتی ھیں، اور سب خواتیں سٹال کی نیچے چھپ کر بیٹھی ھوئی تھیں بچوں سمیت کیونکہ گرمی بہت شدید تھی میں جلدی جلدی انکی تصاویر بنانے لگا اور واپس نکل آئے آغا، شعیب علی، عثمان غائب تھے یہ فلیش کی روشنی سے کچھ تجربات کر رھے تھے اور کامیاب بھی ھوئے آغا چند اچھی تصاویر لینے میں کامیاب بھی ھوئے، اور ھم وھاں سے چل کر دوبارہ جنگل کی طرف چل نکلے آغا بہت خوش تھا کہہ ایم ڈی نائیکون سنگاپور بہت خوش ھوئے انکا کام دیکھ کر اور پاکستان آکر ملنے کا وعدہ بھی کیا ایک خوش آئند بات تھی اچھا لگا، اور جناب جنگل آگیا ایک جگہ رک کر دوپہر کا کھانا کھایا، اور پھر زرافہ اور شیر کی تلاش، میں نکل پڑےآصف شیرازی کی وجہ سے بہت سے پرندوں کو بھی دیکھنے کا موقعہ ملا اور پرندے تھے بھی کمال کےکسی کے سر، پر تاج کوئی نیلے رنگ کا کوئی جامنی کوئی پیلا کسی کی چونچ لمبی اور کسی کی ٹانگیں یہ سمندری شاہیں ھے یہ عقاب کونسا ھے آصف بھائی جو انگلش بولتے شرماتے تھے لیکن پرندوں کے معاملات فرفر انگلش میں ڈرائیور سے پوچھتے اور شیئر، کرتے، انکے ساتھ ساتھ ھم بھی پرندوں کی تصاویر بنا رھے تھے شکریہ شیرازی صاحب یہ کیا کوئی دس بارہ زرافے ایک ساتھ واہ واہ گاڑی روکیں گاڑی چلائیں. سامنے جائیں گاڑی واپس کریں بس شروع کلک کلک کلک اور یوں سلسہ چلتا رھا سب گاڑیاں مختلف سمعتوں میں تھیں اور مختلف مناظر بنا رھیں تھی ھاتھیوں کے غول، زیبرا اور ھرن کے غول بہت دیدہ زیب تھے اور نیل گائے تو، گائے سوپ کی طرح ھر طرف موجود تھی، جانوروں کی تعداد کا اندازہ کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ ھر جانور بڑی تعداد میں موجود تھا شام کو دوبارہ جانے کا ارادہ تھا لیکن بارش کا موسم دیکھ کر ھم نہیں گئے لیکن عاطف سعید بارش میں شیرنی کی حسب روایت ایک شاندار تصویر بنانے میں کامیاب ھوگئے، آصف شیرازی نا جانے کی رائے دینے والواں سےوقتی ناراض نظر آئے اور ھم واپس ھوٹل کی طرف چل پڑے ھوٹل آکر کیمرے کمرے میں رکھے ڈیٹا کاپی کیا اور کھانے کا وقت ھو گیا کھانا کھا رھے تھے کہ شور شروع ہوگیا ھاھا ھو ھو جمبو جمبو اور افریقی لباس پہنے ایک کیک اور سارا ھوٹل سٹاف اچھلتے کودتے ایک طرف جارھے تھے ھم سب بھی چل دیئے کوئی فلم بنا رھا تھا اور کوئی تصاویر کسی کی سالگرہ تھی اور ھم بھی جا شریک ھوئے بہت مزا آیا، اب دوبارہ صبح کا وقت طے ھوا اور سب کمروں کو چل دیئے پھر وہی تھکاوٹ اوردھکتا جسم ھم سو گئے اور جنگل کی دنیا بھی یوں دوسرا دن اختتام پزیر ھوا۔

Prev پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا -پہلی قسط
Next پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا - تیسری اور آخری قسط

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.