پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا -پہلی قسط

پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

(پہلی قسط )

بھینسا، شیر، چیتا، ھاتھی، گینڈا ھیں وہ جانور جنکی وجہ سے کینیا کو پانچ بڑوں کی سرزمین کہا جاتا ھے،
نائیکون پاکستان نے ھم فوٹوگرافراز کو جن میں اسلام آباد سے میں محمد اظہر حفیظ، لاھور سے آصف شیرزای، عثمان پرویز مغل، آغا رضوان علی، شکیل شہزاد، کامران سلیم، عاطف سعید اور کراچی سے ٹپو جویری، کاشف قادری اور شعیب علی کو چنا گیا اور کمپنی کی طرف سے نہال ناصر اور زبیر قطب صاحب ساتھ ھیں اسکے علاوہ نائیکون دوبئی اور سنگاپور کی مینجمنٹ بھی ساتھ تھی یوں سترہ افراد پر مشتمل یہ چھوٹا سا قافلہ مختلف مقامات سے روانہ ھو کر دوبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اکٹھے ہوئے ، اور وہاں سے ھم سب نیروبی ائیرپورٹ کینیا کے لئے روانہ ھوئے بہت دوستانہ ماحول تھا اور چھ گھنٹے کی مسافت کے بعد نیروبی پہنچے ، سرووا ھوٹل نیروبی میں قیام کیا ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا کیا کرنا ھے راستے میں کچھ ڈاکومنٹریز ضرور دیکھیں مسائی مارا پر، پر کچھ اندازہ نہیں تھا صبح سات بجے ناشتہ کے بعد ھم سب تیار تھے ایک شخص کم تھا ڈھونڈا،تو پتہ چلا،عثمان سویا،ھوا،ھے اس کو جگایا تو قافلہ چل پڑا، کیمرے بیگوں سے باھر تھے اور باھر چار جیپس تیار تھیں سفاری جیپ کا سفر پہلی دفعہ تھا ھر سیٹ کا شیشہ کھلتا تھا اور چھت کھل کر، تقریباً تین فٹ اوپر چلی جاتی تھی ھر فوٹوگرافر کے پاس ایسی جیپ ھونی چاھیے یہ جیپ پیک اپ کو تبدیل کر کے بنائی جاتی ھے جس کی قیمت اندازاً پچاسی لاکھ ھے، سفر، شروع کیا نیروبی سے نکلے راستے کی زندگی کمال کی تھی ھر، طرف تیز رنگ کے کپڑے بھاری موٹر سائیکل جو کہ شائد اس علاقہ میں رکشہ کے طور، پر چلتے ھیں نظر آئے وائلڈ، لائف، تو شروع نہیں ھوئی تھی پر، لائف شروع ھوگئی تھی میری جیپ کے ساتھی لٹل کیو ڈرائیور ھر جانور، پرندے کا نام جانتا تھا ایک انسائیکلو پیڈیا تھا، آصف شیرازی ایک کمال کے شریف انسان اور پرندوں کی فوٹوگرافی کے ماھر، آغا رضوان ایک فوٹوگرافی کے استاد اور ساری زندگی تجربات میں ھی گزار، دی ابھی بھی یہی کر، رھے ھیں، عثمان پرویز مغل مشہور شادی بیاہ کے فوٹوگرافراور میں محمد اظہر حفیظ جو فوٹوگرافی کا طالبعلم، مذاق غصہ پیار سب جاری تھا سفر جاری تھا بہت لمبا سفر تقریباً سات گھنٹے دوگھنٹے کا سفر پختہ سڑک اور پھر پتھر یلے راستے اور ان پھر گاڑی کی سپیڈ بہت تیز ڈرائیور سر آھستہ چلائیں گے تو جمپ بہت لگیں گے اس لیے تیز ھی جانا ھو گا، اور چل رھے تھے کبھی سر چھت میں لگ جاتا اور، کبھی چھت سر میں، اوئے ھوئے روکو روکو اتنے ھرن آغا کی آواز تھی اور درجنوں ھرن ھمارے سامنے تھے کلک کلک کلک کلک کی آواز تھی اور کوئی کسی کا نہ رھا سب تصاویر، بنا رھے تھے اور اس ڈریم لینڈ میں داخل ھو رھے تھے جس کا اندازا ھی نہ تھا اوکے اگے چلو گاڑی چل پڑھی اور یار گاڑی روکو کیا ھوا زیبرے اور جناب سینکڑوں زیبرے ھمارے سامنے ھوگیا شروع پھر کلک کلک کلک بس یہی آواز آرھی تھی جب ھم ھوٹل پہنچے تو سامنے سرینا مسائی مارا تھا بہت ھی حسین اور سادہ، پتہ چلا کہہ اس سارے علاقے کے سرینا بھی پرنس کریم آغا خان صاحب کے ھی ھیں دوپہر کا کھانا کھا کر دوبارہ تیار ھوئے اور چل نکلے فوٹوگرافی کرنے دائیں دیکھو بہت سے ھاتھی اور ساتھ ھی ھم سب فوٹوگرافی کر نا شروع پہلی دفعہ آزاد ھاتھی اتنی بڑھی تعداد میں پہلی دفعہ دیکھے اور آغا کی ایک انوکھی خوابش دل میں ھی رھی کہ میں نے نیچے جاکر ھاتھی، زرافہ، اور درختوں کی وائڈ اینگل سے تصویر لینی ھے اوھو یہ بھینسا ھمیں کیا کہے گا مجھے نیچے اترنے دو تو ڈرائیور بتاتا سر دو سو ڈالر جرمانہ ھے اور ساتھ آپکو مسائی مارا سے نکال دیا جائے گا، پر آغا کہاں باز آنے والا تھا اچھا دریائی گھوڑا تو انسان نہی کھاتا اب تو اترنے دیں ڈرائیور سر یہ انسان کو نہیں کھاتا بس دو ٹکڑے کر کے پھینک دیتا ھے یوں یہ نوک جوک چلتی رھی سفر کا مزا دوبالا ھوتا، رھا، غروب آفتاب کیا اور ھم واپس چل پڑے پہلا دن اختتام پزیر ھوا ھوٹل آئے کھانا کھایا حلال اور حرام کا ڈر ھی ختم تھا سب سبزیاں اور دالیں پکی ھوئی تھیں اور انناس کے کیا، ھی کہنا، شائد دنیا، کا سب سے مزیدار، انناس اور صبح پانچ بجے کا الارم لگایا گھر رابطہ کیا اور سو گیا، بہت تھکاوٹ تھی بس تین ھزار تصاویر ھی بنی تھیں پہلے دن، جو، میری زندگی کی بہت زیادہ اھم تصاویر تھیں اس کے علاوہ سیلفیاں تو کچھ نہ پوچھیں ھزار ھا سیلفیاں اس میں عثمان پرویز اور شکیل شہزاد سب سے آگے تھے پر ٹپو جویری بھائی بھی کسی سے کم نہ تھے یوں پہلا دن گزر، گیا، اور دوسرا شروع ھوا

Prev فوٹوگرافی میری ھمسفر
Next پانچ، بڑوں کی سر زمین کینیا-دوسری قسط

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.