پینڈو

پینڈو
تحریر محمد اظہر حفیظ

میری دوست کہتی ھے کہ تم اپنے گاوں کو بہت مس کرتے ھو تمھاری ھر دوسری تحریر میں تمھارے گاوں کا ذکر ھوتا ھے۔ بلکل ایسا ھی ھے ۔ میں گیارہ سال کی عمر میں شہر آگیا اور شہر کا ھی ھوکر رہ گیا۔ شہر کی روشنیاں، رنگینیاں،ھلچل اور پھر اس میں گم ھوتا گیا۔ نیشنل کالج آف آرٹس میں بھی میں ایک پینڈو بچہ ھی تھا۔ مجھے یاد ھے کچھا تو بہت پہنا شاید آٹھ سال کی عمر میں نیکر پہلی دفعہ پہنی ورنہ ھمیشہ ھی شلوار قمیض پہنی۔ اپنے آپ کو بڑا ننگا ننگا محسوس کیا مجھے کئی دن لگے نیکر پہن کر باھر جانے میں مریڈ چوک نواز بھائی پاس گرمیوں کی چھٹیوں میں آئے ھوئے تھے۔ پھر گاوں جا کر شاید ھی دوبارہ نیکر پہنی ھو۔ ھمیشہ شلوار قمیض ھی پہنا۔ سکول یونیفارم بھی شلوار قمیض ھی تھا سکول میں میٹرک میں باسکٹ بال کھیلنا شروع کی تو پہلی دفعہ ٹریک سوٹ خریدا، کئی دن گھر میں پہن پہن کر شرمندہ ھوتا رھا کیسا بے ھودہ لباس ھے اور کالج گیا تو پہلی دفعہ جینز کی پینٹ اور نیلی شرٹ خریدی بڑے بھائی نے پہننی سکھائی اور بتایا بیلٹ کیسے لگاتے ھیں پھر بیلٹ کے ساتھ دونوں انگھوٹے ڈال کر کیسے بل نکالتے ھیں شرٹ کیسے سیدھی رکھتے ھیں۔ میں نے پینٹ شرٹ پہن تو لی لین بہت شرمسار تھا یہ کیسے کپڑے ھیں، غالبا 1987 کی بات ھے میں موٹر سائیکل پر سوار ھوا اور ڈینٹی فاسٹ فوڈ گیا میں اور شفاقت حسین میرا دوست ھم دونوں نے کھانا کھایا یہ میرا پینٹ شرٹ پہن کر پہلا سفر تھا۔ میں نے اپنے آپ کو کافی ھلکا پھلکا محسوس کیا۔ اور تھوڑا سا بے شرم بھی ۔ پھر میں نیشنل کالج آف آرٹس لاھور چلا گیا اور شلوار قمیض تو تقریبا بھول ھی گیا بس زندگی جینز میں بسر ھونے لگی ۔ فوٹوگرافی اور فیشن فوٹوگرافی نے مجھ سے میرا پینڈو پن چھین لیا۔ اور میں آپنے آپ کو ایک ماڈرن شہری سمجھنے لگا، ماڈلز،ڈانس پارٹیز،فیشن شوز اسی کو زندگی سمجھنے لگا۔ ایڈورٹائزنگ کی زندگی بھی عجیب زندگی تھی۔ پھر یکدم میرا اللہ مجھ پر مہربان ھوا اور مجھ سے یہ سب کچھ واپس لے لیا۔ 1997 میں میں پہلی دفعہ اعتکاف بیٹھا اور اللہ سے دعا کرتا رھا یااللہ مجھے وہ پینڈو والا سادہ اظہر حفیظ واپس کردے۔ مجھے اور کچھ نہیں چاھیئے۔ اور یہ جو ھوشیار ھونے کی شہری ھونے کی یادیں ھیں یہ سب مجھ سےواپس لے لے۔ اللہ کا مجھ پر کرم ھوگیا اور اللہ نے مجھے میرا پینڈو پن واپس کردیا۔ میری زندگی آسان اور پرسکون ھوگئی تھی سب نمائشیں ختم ھوگئی تھیں اور میں واپس گاوں والا معصوم اور سادہ کالو محمد اظہر حفیظ بن چکا تھا۔ جو میری ماں دعائیں کرتی تھی میرا کالو کرے کولئاں رب سیدھیاں پاوے۔ میں دنیا اور اس کے سب رنگ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اور نہ انکو چھوڑنے کا مجھے افسوس ھے اور نہ ھی کبھی یاد آئے۔ میں خوش ھوں اور دنیا کو اپنے گاوں کی اور اپنے دوستوں کی باتیں سناتا ھوں۔ اسی میں خوش رھتا ھوں۔ بہت سادہ سی زندگی تھی۔ ایک پاو گوشت سارے گھر کیلئے کافی ھوتا تھا سب جی بھر کر کھاتے تھے پھر ھم پورا پورا بکرا لانے لگے اور نہ برکت تھی نہ ذائقہ، سب آکر ھمارے گھر ھی ٹھہرتے تھے نزدیک کے رشتہ دار اور دور کے بھی کوئی تنگی نہیں تھی الحمدللہ۔ اب سب کچھ ھے پر کوئی نہیں ھے۔ رویے محبتیں چاھتیں بدل گئی ھیں۔ میں تو پینڈو بچہ ھوں پر میرے اردگر سب شہری آبادی ھے لوگ ھیں۔ مجھے یاد ھے اقراء یونیورسٹی میں ھیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سعدیہ نیازی صاحب کہنے لگیں اظہر صاحب ھفتے کو میرے گھر برنچ ھے آپ نے بھی آنا ھے تو میں نے کہا سعدیہ میں تو شام کو مصروف ھوں وہ مسکرائیں سر جی صبح دس گیارہ بجے آجانا برنچ صبح لیٹ ناشتے کو کہتے ھیں اور میں مسکرایا بھی اور شکر بھی کیا میرا پینڈو ابھی بھی میرے اندر موجود ھے۔ میں ھمیشہ اپنی کم علمی اور لا علمی کا مزا لیتا ھوں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ھے راستہ بھولنا اور سادگی سے پوچھنا پاجی اے لاھور مال روڈ ای اے ۔ داتا صاحب کے سامنے کھڑے ھوکر پوچھنا پائن اے داتا صاحب کتنی دور اے۔ راوی دے پل تے کھلو کے کسے کولوں اے پوچھنا پائن اے بڈھا راوی اے یا جوان راوی۔ سکھر بیراج تے کھلو کے پوچھنا اور کننی دور اے۔2012 میں سرینا ھوٹل میں اسلام آباد فیشن ویک کور کرنے گیا تو سیکورٹی گارڈ خاتون نے کہا کیمرہ آن کرکے فلیش چلا کر دکھائیں میں نے بہت سادگی سے اس باجی کی تصویر بنادی وہ بولیں میری تصویر کیوں بنائی عرض کیا تو آپ کے کہنے کا کیا مطلب تھا۔ آپ نے کس کی تصویر بنانے کو کہا تھا وہ بیچاری میری سادگی پر مسکرادی۔ اگلے دن انھوں نے دوبارہ کیمرہ چلا کر دکھانے کو نہیں کہا۔ 
میری بیٹیاں میری بیوی اور شاید میرے دوست بھی میرے سادہ اور پینڈو ھونے کو پسند کرتے ھیں کیونکہ چالاکی اور چالاک لوگ مجھے خود اچھے نہیں لگتے توں میں ایسا کیوں بنوں۔ کئی دفعہ سوچتا ھوں یہ شہری لوگ اپنے آپ کو کیا دلاسہ دیتے ھوں گے جو ھم سب کر رھے ھیں کیوں کر رھے ھیں۔ کس کے لئے کر رھے ھیں۔ پھر یاد آیا وہ ھی تو سب ھیں جو نیند کی گولیوں اور سکون آور گولیوں کا کاروبار چلاتے ھیں۔ ورنہ کون کھائے گا انکو کوئی تو ھو جو چالاک ھو ھوشیار ھو دھوکے باز ھو،جھوٹا ھو، شہری ھو۔ 
ویسے ایک مشورہ مفت ھے پینڈو بن کے ویکھو سکون ھی سکون مزے ھی مزے۔ زندگی آسان
ویسے کدھی ٹرائی تے کرو شکرقندی مصالحہ تے کھٹا پاکے، کدی کاغذ تے امرود کٹوا کے تے مالٹا نچوڑ کے، کدی چھلی نوں لیموں لا کے، کدی روٹی تے تازہ مکھن رکھ کے تے اوتے چینی پاکے، کدی رو دی ٹھنڈی کھیر تے دھی پاکے ٹرائی تے کرو ورنہ کدی پیزا کھا کے رج کے وکھاو، اور ایک گل ھور دس دیاں مکئی دی روٹی تے ساگ وی شہری کھانا ھے ھر شہری اپنے آپ نوں پینڈو دسن واسطے میلیاں وچ ساگ تے مکئی دی روٹی کھاندا اے پر جھلیو پینڈ وچ مکئی دی چوری دیسی گھیو وچ، دھی وچ مکئی دی روٹی ھوندی اے۔ السی دی پنی ھوندی اے۔ چاٹی دی کٹھی لسی،
شکر اے میں لائلپور ویلے سر چھڈ آیا ورنہ فیصل آباد دسدیاں بڑی شرمندگی ھونی سی۔

Prev اللہ 
Next ویلے سیانے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.